جنازے کی رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم

پنجاب کے ایک گاؤں نے جنازے کی رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ جہاں ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا: یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور تین چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔

جنازے کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔ تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا بھی ثواب ملتا رہتا ہے۔ جنت کا آسان راستہ خلقِ خدا کی خدمت میں چھپا ھوا ہے۔

آئیں اس روایت کو ہر گاؤں اور شہر میں زندہ کریں۔ جب بھی کسی ایسے غریب کا جنازہ ہو جو گھر کا واحد کفیل تھا، تو وہاں کے علماءِ کرام پانچ منٹ ادھر اُدھر کی بات کرنے کے بجائے یہ اعلان کریں کہ "مرحوم کے بچوں کے لیے اپنا حصہ ڈالیں”۔ تاکہ اس کے خاندان کو معاشی پریشانی سے بچایا جا سکے اور آپ کا یہ عمل آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔ جزاک اللّہ خیرا۔

بی شکریہ أبناء دار العلوم دیوبند

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading