مشرقِ وسطیٰ میں جہاں ایران جنگ کے اثرات اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی تجارت خدشات سے دوچار ہے وہیں اس دوران شام نے ایک تجویز پیش کی ہے۔
شام کا کہنا ہے کہ وہ عالمی توانائی اور تجارتی نقل و حمل کے لیے ایک مرکزی راہداری کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
گذشہ مہینے ترکی اور قبرص میں یورپی یونین کے رہنماؤں کی ایک نشست میں شام کے صدر احمد الشرع نے تجویز پیش کی کہ شام اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے توانائی اور مال برداری کے لیے ایک متبادل روٹ بنانا چاہتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ روٹ خلیجی ممالک کو ترکی سے جوڑے گا اور بحیرۂ روم تک محفوظ رسائی فراہم کرے گا۔
شام کے اس منصوبے کو اس نوعیت کے دیگر منصوبوں سے مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں انڈیا کا انڈیا-مشرق وسطی-یورپ اقتصادی راہداری منصوبہ (آئی ایم ای سی) شامل ہے۔
اس تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے شام ’فور سیز‘ منصوبے اور ’فور پلس ون‘ پلان کو فروغ دے رہا ہے۔
ان دونوں منصوبوں کے حوالے سے امید بھی ہے لیکن ان کے سامنے بڑے چیلنجز بھی موجود ہیں۔فور سیز‘ منصوبہ جسے ’نائن کوریڈور انیشی ایٹو‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسے مربوط نقل و حمل اور توانائی کے نیٹ ورک کا تصور پیش کرتا ہے جو خلیج، بحیرۂ روم، بحیرۂ کیسپیئن اور بحیرۂ اسود کو آپس میں جوڑتا ہے.
اس کا وسیع تر مقصد شام اور ترکی کو علاقائی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی مراکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔
احمد الشرع نے 24 اپریل کو قبرص میں ہونے والی نشست میں اس منصوبے کی وکالت کی، جبکہ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ترکی کے دورے کے دوران اسے دوطرفہ سٹریٹجک تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا۔
پورے عرب خطے میں رسائی رکھنے والے سعودی خبر رساں ادارے ’المجلة‘ کی حاصل کردہ ایک دستاویز میں شام کو عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا ٹرانزٹ مرکز بنانے کے امریکی منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس خاکے کا سہرا شام میں امریکی ایلچی ٹام بارک کے سر باندھا گیا ہے۔