ناندیڑ:11جنوری (شیخ اکرم) ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے اسلامی معاشرے واسلامی تہذیب کے بنیادی جز یعنی ”آپسی بھائی بندی“ کے فوائد و برکات سے روشناس کروایا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے متاثر ہوکر مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں(مہاجرین) کو مدینہ کے مسلمانوں ( انصار) نے آپسی بھائی بندی کی بے نظیر عملی مثال قائم کرتے ہوئے اپنی دولت و جائیداد اور ہر چیز میں سے برابر تقسیم کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی تھی۔ جس سے انصار و مہاجرین کی معاشی حیثیت ایک دوسرے کے مساوی ہوگئی تھی۔آپسی بھائی بندی ،محبت و ایثار کے باعث معاشرے میں اطمینان چین و سکون قائم ہوتا ہے۔ لیکن آج اکثر مسلمان مغربی تہذیب و معاشرے سے اثر پاکر اپنے کردار کو داغدار بنانے میں خوشی محسوس کررہے ہیں۔ اس کی ایک مثال ”برتھ ڈے کلچر “ہے۔ برتھ ڈے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے لیکن بے شمار مسلمان اپنا اور اپنے بچوں کا برتھ ڈے منارہے ہیں۔ چونکہ مغربی تہذیب کی بنیاد ہوائے نفس پر قائم ہے اس لئے اس تہذیب کو اپنانے کالازمی نتیجہ بے حیائی و بے غیرتی اور اخلاقی زوال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ برتھ ڈے، کرسمس،نئے سال کا جشن اور لباس و وضع قطع میں مغربی تہذیب کی نقالی نے اسلامی معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ اور اب پردے کے نام پر بھی (مغربی) فیشن در آیا ہے۔ نت نئے فیشن ایبل برقعے (حجاب) مردوں کو اپنی جانب راغب کرنے کا آلہ بن گئے ہیں۔ ان(جدید فیشن ایبل) برقعوں سے پردے کا مقصد پورا نہیں ہورہا ہے اور بے پردگی پھیل رہی ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کو ان کے مرد حضرات اس سے منع نہیں کرتے۔ ( ایک مرد مجاہد کا قول ہے کہ مرد کی غیرت کا اندازہ اُس کی عورت کے لباس سے لگایا جاسکتا ہے) پردے کا مقصد اپنی عصمت و عفت اور غیر محرم مردوں کی نگاہوں سے حفاظت ہے۔ اگر خواتین اسلامی معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو انہیں چاہئے کہ ایسا لباس و برقعہ استعمال کریں جس سے پردے کا مقصد پورا ہوتا ہو۔ آخر میں مفتی صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی عبدالرحمن سر ( جن کا انتقال یکم جنوری 2019ءکو ہوا) کی حسنات کا ذکر کیا اور اُن کی بے لوث بلا لحاظ مذہب و ملت خدمات جن کے باعث وہ غیر مسلموں میں بھی مقبول تھے، اُن کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اُن کے لئے دعائے مغفرت اور درجات میں بلندی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے عامة المسلمین سے خواہش کی۔