rtl;”>اورنگ آباد: ٹی سی ایس ملازمہ ندا خان کے خلاف کارروائی پر عوامی حلقوں میں تشویش، ایم آئی ایم کونسلر کا مکان منہدم

انتظامیہ کی یکطرفہ کارروائی؟
اس معاملے میں ایم آئی ایم کے سابق کونسلر متین پٹیل پر ندا خان کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے پولیس نے انہیں بھی نامزد کیا ہے۔ اسی بنیاد پر اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے متین پٹیل کے مکان کو "غیر قانونی تعمیر” قرار دے کر منہدم کرنے کی کارروائی شروع کی ہے۔
https://x.com/i/status/2054412163406803305
قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسی بھی قانونی فیصلے سے قبل ہی کی جانے والی اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے۔ متین پٹیل نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے خود ہی مکان خالی کر دیا، تاہم احتجاج کا ایک انوکھا طریقہ اپناتے ہوئے ان کے اہل خانہ نے کارروائی کے لیے آنے والے افسران کا استقبال آئینِ ہند (Constitution) کا نسخہ دے کر اور پھول نچھاور کر کے کیا، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ ملک کے قانون کا احترام کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
بھاری پولیس فورس کی تعیناتی
انہدامی کارروائی کے دوران علاقے میں کشیدگی کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر پولیس بندوبست کیا گیا تھا۔ اس موقع پر درج ذیل نفری موجود تھی:

- 1 ڈی سی پی اور 2 اے سی پی
- 11 پی آئی اور 15 پی ایس آئی
- 120 مرد اور 60 خواتین پولیس اہلکار
- 100 میونسپل کارپوریشن کے ملازمین
سیاسی گھیراؤ اور نئے مقدمات
اسی دوران، سیاسی دباؤ کے اس ماحول میں ایم آئی ایم کے ایک اور کونسلر معراج خان کے خلاف بھی پرانا معاملہ دوبارہ کھولا گیا ہے۔ ان پر دو سے زائد بچوں کے قانون کی خلاف ورزی اور دستاویزات میں ہیر پھیر کا الزام لگا کر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

کیس کی حقیقت پر سوالات
ندا خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والی خاتون کے خلاف اس طرح کے سنگین الزامات لگانا محض اسے بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ قانونی ٹیم کا موقف ہے کہ عدالت میں یہ تمام الزامات غلط ثابت ہوں گے کیونکہ پولیس کے پاس اس مبینہ سازش کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ شہریوں کا ایک طبقہ اسے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دے رہا ہے۔