کوکن کے آم اور کاجو کسانوں کو مالی مدد دی جائے

کوکن کے آم اور کاجو کسانوں کو مالی مدد دی جائے

کسانوں کے احتجاجی مارچ میں کانگریس کی شرکت، مگر حکومت کی پولیس کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش: ہرش وردھن سپکال

”سرنڈر مودی سرکار“ کی وجہ سے ہی عوام مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں، مودی حکومت کے پاس کوئی ایندھن پالیسی نہیں

نیٹ (NEET) امتحانی نظام بھی بدعنوانی کا شکار، گزشتہ سات برسوں میں 71 مرتبہ پیپر لیک، مگر مودی حکومت طلبہ کے مستقبل سے بے پروا

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کوکن کے آم اور کاجو پیدا کرنے والے کسانوں کے حق میں نکالے گئے احتجاجی مارچ کو روکنے پر مہایوتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے کوکن کے کسان اپنی فصلوں کے نقصان اور معاشی بحران کے سبب مناسب مالی مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت مسلسل ان کی آواز کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک کسانوں کو مناسب امداد نہیں ملتی، تب تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

کوکن کے آم اور کاجو کسانوں کو مالی امداد دینے کے مطالبے پر گرگاؤں چوپاٹی سے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی سرکاری رہائش ”ورشا بنگلہ“ تک احتجاجی مارچ نکالا جانا تھا، لیکن اس سے قبل ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سوابھیمانی شیتکری سنگٹھن کے صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ راجو شیٹی، کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، راشٹریہ سماج پارٹی کے لیڈر مہادیو جانکر، شیو سینا لیڈر ونائک راؤت، رکن پارلیمنٹ اروند ساونت، مراٹھی بھاشا سمیتی کے دیپک پوار، پرکاش ریڈی اور سیکڑوں کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ کئی کارکنان کو ڈونگری پولیس اسٹیشن جبکہ بعض کو آزاد میدان لے جایا گیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پہلے ہی کسان تنظیموں کی تحریک کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا اور حکومت کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر کسانوں کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 15 مئی کو بڑا احتجاج کیا جائے گا، مگر حکومت نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں، مزدوروں اور اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے احتجاج اور مارچ کی اجازت نہیں دیتی اور جمہوری اقدار کو پامال کر رہی ہے۔ سپکال نے کہا کہ ”جب جب سرکار ڈرتی ہے، پولیس کو آگے کرتی ہے“۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آم پیدا کرنے والے کسانوں کو فی ہیکٹر 5 لاکھ روپے اور کاجو پیدا کرنے والے کسانوں کو فی ہیکٹر 3 لاکھ روپے کی امداد دی جائے۔

پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے پر حملہ کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مودی حکومت نے مہنگائی سے پریشان عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پانچ ریاستوں کے انتخابات تک عوامی ناراضگی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ روکے رکھا گیا تھا، مگر اب قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت مکمل طور پر امریکہ کے سامنے ”سرینڈر“ ہو چکی ہے، جس کی سزا ملک کے عوام بھگت رہے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ ہندوستان کئی برسوں سے روس سے خام تیل خرید رہا تھا، لیکن امریکہ کے دباؤ میں آ کر حکومت نے روسی تیل کی پالیسی بدل دی، جس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس نہ کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی ایندھن سے متعلق کوئی واضح پالیسی۔

نیٹ (NEET) امتحان میں پیپر لیک کے معاملے پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں 71 مرتبہ نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتے ہیں اور برسوں محنت کرتے ہیں، لیکن پورا امتحانی نظام ہی بدعنوانی کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے، مگر وزیر اعظم نریندر مودی اس پر بھی خاموش ہیں۔

وزیر اعظم کی سیکورٹی اور کفایت شعاری کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرح ہر شہری کی جان اور سیکورٹی بھی اہم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کے دو وزرائے اعظم اپنی جان گنوا چکے ہیں، اس لیے وزیر اعظم کی سیکورٹی ضروری ہے، لیکن بی جے پی ہر معاملے میں سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس خود گاڑیوں کا کوئی بڑا قافلہ نہیں ہے، وہ کئی مرتبہ پیدل مارچ کرتے ہیں اور عام لوگوں کی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے اپوزیشن کو ”بِن دماغ“ کہنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ فڑنویس اور بی جے پی کو ایسا لگتا ہے کہ عقل صرف انہی اور آر ایس ایس والوں کے پاس ہے، اسی لیے وہ دوسروں کی توہین کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غرور اور تکبر برسوں سے ان کی سیاسی فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔

MPCC Urdu News 15 May 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading