گزشتہ چند ہفتوں سے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر رہی۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد جنگ بندی کا اعلان تو ہو گیا ہے، مگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے تنازعہ بدستور جاری ہے۔ اسی دوران ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
اصل معاملہ کیا ہے؟
اطلاعات کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سمندر کے نیچے بچھائی گئی انٹرنیٹ کیبلز پر “ڈیجیٹل ٹول” یا لائسنس فیس عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی انٹرنیٹ نظام کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ایرانی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور سے منسلک ذرائع کے مطابق ایران اس اہم سمندری راستے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، جو نہ صرف تیل کی ترسیل بلکہ عالمی ڈیٹا ٹریفک کے لیے بھی انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔
بڑی ٹیک کمپنیوں پر دباؤ
رپورٹس کے مطابق Meta، Google، Amazon اور Microsoft جیسی عالمی کمپنیاں اگر اپنی فائبر آپٹک کیبلز ایران کی سمندری حدود سے گزارنا چاہیں تو انہیں سالانہ فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
یہ کیبلز عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جن کے ذریعے روزانہ کھربوں ڈالر کے مالی لین دین ہوتے ہیں۔ ایران اس کو آمدنی کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
عالمی انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ
اگر ایران اس منصوبے پر عمل درآمد کرتا ہے تو دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر آن لائن گیمنگ، ویڈیو اسٹریمنگ اور کلاؤڈ سروسز میں خلل آنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ سروسز مہنگی بھی ہو سکتی ہیں۔
بھارت کے لیے تشویش ناک صورتحال
بھارت کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ملک کا تقریباً 60 فیصد انٹرنیٹ ڈیٹا مغربی ممالک سے جڑنے کے لیے اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو نہ صرف انٹرنیٹ سست ہو سکتا ہے بلکہ ڈیٹا کی پرائیویسی اور سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
کیا WhatsApp اور UPI بند ہو سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق مکمل بندش کا امکان کم ہے، لیکن سروسز متاثر ضرور ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر WhatsApp جیسے پلیٹ فارمز اور UPI جیسی ڈیجیٹل ادائیگی سروسز میں تاخیر یا تکنیکی مسائل پیش آ سکتے ہیں۔
نتیجہ:
ایران کا یہ ممکنہ اقدام عالمی ڈیجیٹل نظام کے لیے ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب ایران کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔