دھار:15/ مئی ۔ (ورق تازہ نیوز)مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع بھوج شالا تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے بھوج شالا کو واگدیوی (ماں سرسوتی) کا قدیم مندر قرار دیتے ہوئے ہندو فریق کو پوجا کا حق دے دیا ہے، جبکہ احاطے میں نماز کی اجازت سے متعلق سابقہ حکم کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ایودھیا کی طرح مسلم فریق کو متبادل زمین دی جائے گی؟
عدالت کا واضح مؤقف: “بھوج شالا ایک مندر ہے”
اندور بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متنازعہ مقام کا مذہبی کردار بھوج شالا کا ہے، جہاں دیوی سرسوتی کا مندر موجود ہے۔ عدالت کے مطابق تاریخی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مقام قدیم دور میں سنسکرت تعلیم کا ایک بڑا مرکز تھا۔
عدالت نے 7 اپریل 2003 کے اس حکم کو بھی رد کر دیا، جس کے تحت جمعہ کے دن مسلم فریق کو نماز کی اجازت دی گئی تھی۔
نماز پر پابندی، پوجا کی اجازت
فیصلے کے بعد اب بھوج شالا میں صرف ہندو فریق کو عبادت (پوجا) کی اجازت ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ مقام کمال مولا مسجد نہیں بلکہ ایک مندر ہے، جس کے بعد طویل عرصے سے جاری مشترکہ عبادت کا نظام ختم ہو گیا ہے۔
اے ایس آئی رپورٹ بنی بنیاد
اس کیس میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی رپورٹ کو اہم بنیاد بنایا گیا۔ تقریباً 98 دن تک جاری سائنسی سروے کے بعد تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ موجودہ ڈھانچے سے پہلے یہاں پرمار دور کا ایک مندر تھا، جس کے آثار بعد کی تعمیر میں استعمال ہوئے۔
ہندو فریق نے اسے مضبوط ثبوت قرار دیا، جبکہ مسلم فریق نے رپورٹ کو جانبدارانہ بتایا۔
وکیل وشنو شنکر جین کا بیان
ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بھوج شالا کو ہندو مندر تسلیم کرتے ہوئے پوجا کا حق دیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے مسلم فریق کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ حکومت کے سامنے درخواست دے، جس پر متبادل زمین دینے کے معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی ردعمل تیز
فیصلے کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں نے اسے “سچ کی جیت” قرار دیا، جبکہ کانگریس اور مسلم فریق نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کرنے کے اشارے دیے ہیں۔
ایودھیا کیس سے موازنہ کیوں؟
اس فیصلے کا موازنہ ایودھیا فیصلہ 2019 سے کیا جا رہا ہے، جہاں عدالت نے مندر کی تعمیر کے ساتھ مسلم فریق کو متبادل زمین دینے کا حکم دیا تھا۔ تاہم بھوج شالا کیس میں ہائی کورٹ نے براہِ راست زمین دینے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ معاملہ ریاستی حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اب اس معاملے میں دو امکانات نمایاں ہیں:
مسلم فریق سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔
ریاستی حکومت متبادل زمین دینے کے سوال پر فیصلہ لے سکتی ہے۔
ساتھ ہی انتظامیہ کے لیے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔