ناندیڑ:3 مارچ (ورق تازہ نیوز)میونسپل کارپوریشن میں پانچ کارپوریٹرس ہونے کے باوجود ابی جے پی شہرصدر کی سفارش کو قبول کرکے اپوزشن لیڈر کے عہدہ پر بی جے پی کارپوریٹر گروپریت کورسنگھ سوڈی کی نامزدگی کرنے کے کانگریس میئر شریمتی شیلا کشور بھورے کے فیصلہ کوہائی کورٹ نے اصولوںکی خلاف ورزی بتایا اور کہا کہ اپوزشن لیڈر کے انتخاب کا اختیار پارٹی کے کارپوریٹرس کوہے ۔
اس فیصلے سے میئر ‘اپوزشن لیڈر و بی جے پی مہانگر صدر ڈاکٹرسنتوک ہنبرڈے کو جھٹکا لگا ہے ۔ناندیڑمیونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے چھ کارپوریٹرس ہیں اسلئے پارٹی کی پوزشن دوسری ہے اور اپوزشن لیڈر کے عہدہ کا اختیار بھی اسی پارٹی کے پاس ہے۔لیکن کانگریس پارٹی نے اپوزشن کے انتخاب میں کچھ رکاوٹیںبھی پیدا کی تھی اس دوران بی جے پی میں اس عہدہ کےلئے دعوے دار بڑھ گئے ۔ بی جے پی کی کمان سنبھال رہے پرتاپ پاٹل چکھلی کر(ایم ایل اے) کے حامیوں میںشامل کارپوریٹر شریمتی ویشالی تائی ملنددیشمکھ ودیگرچار کارپوریٹرس نے اجلاس منعقد کرکے دوبارہ اس عہدہ پرکارپوریٹردیپک سنہہ راوت کونامزد کرنے کی سفارش میئر کے پاس کی تھی جبکہ بی جے پی کے مہانگر صدر ڈاکٹرہنبرڈے نے گرپریت سنگھ سوڈی کی نامزدگی کی سفارش کی تھی ۔بی جے پی میںدراڑ کافائدہ اٹھاتے ہوئے میئر نے کارپوریٹرس کی سفارش کو بازو رکھ کر ڈاکٹرہنبرڈے کی سفارش کوقبول کیااورشریمتی سوڈی کونامزد کردیا ۔
جس کے بعد بی جے پی کارپوریٹرویشالی دیشمکھ اوردیگرچار کارپویٹر س نے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ سے انصاف مانگاتھا۔جس پر کل فیصلہ سناتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اپوزشن لیڈر منتخب کرنے کااختیار کارپوریٹرس کورہتا ہے۔ضلع صدر کوکوئی اختیار نہیں ہے ۔
۔