مانڈیا ، 3 مارچ. (پی ایس آئی) ایسی خبریں آئی تھیں کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے کرناٹک کے مانڈیا ضلع کے جوان ایچ گرو کو ملے معاوضے کی رقم پر اس کی بیوی اور ماں کے درمیان تکرار چل رہی ہے. یہ بھی کہا گیا کہ جوان کی بیوی پر دباو¿ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دیور سے شادی کر لے تاکہ معاوضے کا پیسہ گھر میں ہی رہے. اب گرو کی بیوی کلاوتی اور ماں چککتیمما نے ان خبروں کو مکمل طور بے بنیاد بتایا ہے. دونوں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کر میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں افواہ نہ پھےلائے. شوہر کو کھونے کے درد سے جذباتی نظر آ رہیں کلاوتی نے کہا، ‘شوہر کی شہادت کے بعد میڈیا نے جس طرح ہمیں دکھ کے لمحات میں سہارا دیا، اسے میں کبھی نہیں بھول پاﺅںگی.
لیکن میں بتانا چاہتی ہوں کہ معاوضہ کے پیسے کو لے کر نہ تو میرے گھر میں کوئی اختلاف چل رہا ہے اور نہ ہی میرے اوپر دوبارہ شادی کرنے کو لے کر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے. میں میڈیا سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس طرح کی غلط خبریں نہ پھےلائے کیونکہ اس سے ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے. شہید کی ماں چککتیمما نے کہا، ‘ہم اپنے بیٹے کو کھونے کے درد سے گزر رہے ہیں ایسے میں خاندان میں جھگڑا ہونے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے. ہم ایک دوسرے کو تسلی دے رہے ہیں. پیسہ میرے بیٹے کو واپس نہیں لا سکتا. معاوضہ رقم سے حسد کرنے والے ہمارے کچھ پڑوسی افواہ پھیلا رہے ہیں. ‘ انہوں نے کہا کہ کلاوتی ہمارے گھر کی سب سے پیاری رکن ہے اور ہم ساتھ مل کر رہیں گے. میڈیا ہمارے خاندان کو لے کر ایسی کوئی غلط خبر نہ چھاپے اور نہ ہی دکھائے جس سے ہمارے خاندان کے ارکان کو تکلیف پہنچے. ایسی خبریں آئی تھیں کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے کرناٹک کے مانڈیا ضلع کے جوان ایچ گرو کو ملے معاوضے کی رقم پر اس کی بیوی اور ماں کے درمیان تکرار چل رہی ہے. یہ بھی کہا گیا کہ جوان کی بیوی پر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دیور سے شادی کر لے تاکہ معاوضے کا پیسہ گھر میں ہی رہے. اب گرو کی بیوی کلاوتی اور ماں چککتیمما نے ان خبروں کو مکمل طور بے بنیاد بتایا ہے.
دونوں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کر میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں افواہ نہ پھےلاے. شوہر کو کھونے کے درد سے جذباتی نظر آ رہیں کلاوتی نے کہا، ‘شوہر کی شہادت کے بعد میڈیا نے جس طرح ہمیں دکھ کے لمحات میں سہارا دیا، اسے میں کبھی نہیں بھول پاﺅںگی. لیکن میں بتانا چاہتی ہوں کہ معاوضہ کے پیسے کو لے کر نہ تو میرے گھر میں کوئی اختلاف چل رہا ہے اور نہ ہی میرے اوپر دوبارہ شادی کرنے کو لے کر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے. میں میڈیا سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس طرح کی غلط خبریں نہ پھےلائے کیونکہ اس سے ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے. ‘ شہید کی ماں چککتیمما نے کہا، ‘ہم اپنے بیٹے کو کھونے کے درد سے گزر رہے ہیں ایسے میں خاندان میں جھگڑا ہونے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے. ہم ایک دوسرے کو تسلی دے رہے ہیں. پیسہ میرے بیٹے کو واپس نہیں لا سکتا. معاوضہ رقم سے حسد کرنے والے ہمارے کچھ پڑوسی افواہ پھیلا رہے ہیں. ‘ انہوں نے کہا کہ کلاوتی ہمارے گھر کی سب سے پیاری رکن ہے اور ہم ساتھ مل کر رہیں گے. میڈیا ہمارے خاندان کو لے کر ایسی کوئی غلط خبر نہ چھاپے اور نہ ہی دکھائے جس سے ہمارے خاندان کے ارکان کو تکلیف پہنچے. چککتیمما نے بتایا کہ وہ پیر کو کرناٹک کے وزیر اعلی ایچ ڈی کمارسوامی اور وزیر ٹرانسپورٹ ڈی سی تھمننا سے ملاقات کریں گی. ان سے مل کر وہ بہو کلاوتی کو سرکاری نوکری دلائے جانے کی مانگ کریں گی. اس پریس کانفرنس میں کلاوتی کی ماں بھی موجود رہیں. چککتیمما نے بتایا کہ وہ پیر کو کرناٹک کے وزیر اعلی ایچ ڈی کمارسوامی اور وزیر ٹرانسپورٹ ڈی سی تھمننا سے ملاقات کریں گی. ان سے مل کر وہ بہو کلاوتی کو سرکاری نوکری دلائے جانے کی مانگ کریں گی. اس پریس کانفرنس میں کلاوتی کی ماں بھی موجود رہیں.