ناندیڑمیں بابری مسجد کے یوم شہادت پر بند کامیاب ‘ مسلم نمائندہ کونسل کا کلکٹرآفس کے روبرو ہ احتجاجی مظاہرہ

ناندیڑ:6ڈسمبر(ورق تازہ نیوز)6 ڈسمبر1992 کو اترپردیش کے شہر فیض آباد میں واقع مسلمانوں کی پانچ سو سالہ قدیم بابری مسجد کو فرقہ پرست عناصر نے دن کے اجالے میں شہید کردیاتھا۔ آج تیس سال بعد بھی یوم شہادت بابری مسجد کے ضمن میں آج 6 ڈسمبرکومسلمانان ناندیڑ نے ہر سال کی طرح امسال بھی بند منایا اور کچھ تنظیموں کی جانب سے ضلع کلکٹر کے معرفت صدرجمہوریہ ہند کومیمورنڈم دیتے ہوئے بابری مسجد کی بازیابی اور بابری مسجد انہدام مقدمہ کے ملزمین کی باعزت رہائی پراسکی شدید مذمت کرتے

ہوئے مسجد کی شہادت میں ملوث افراد کوسزا دینے کامطالبہ بھی کیاگیا۔دریں اثناءمسلم نمائندہ کونسل ناندیڑ کی جانب سے حسب سابق کی طرح امسال بھی آج دوپہر دو بجے ضلع کلکٹر آفس کے روبرو احتجاجی دھرنا دیاگیا جس میں کونسل کے ذمہ داران ناصرخطیب ‘ ایڈوکیٹ نصیر فاروقی‘مرزا مجد ‘نظامی صاحب نے خطاب کیا۔جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں شہریان موجود تھے۔اس موقع پر ”بابری مسجد ہم شرمندہ ہے ‘تیرے قاتل زندہ ہیں‘ لے کر رہیں گے ‘ لےکر رہیں گے‘بابری مسجد لے کر رہیںگے “ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

اس دھرنے کو دیگر تنظیموں و سیاسی جماعتوں کی تائیدحاصل رہی ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ 30 سالوں سے ہر سال 6ڈسمبرکو بابری مسجد کے یوم شہادت کے موقع پر ناندیڑ کے ضلع کے مسلمان جذبہ ایمانی کیساتھ رضاکارانہ طور پربندمناتے ہیں ور اپنے کام کاروبار بند رکھتے ہیں۔

30 سال بعد بھی آج بھی شہرناندیڑ کے اہم مسلم تجارتی علاقوں کے کاروبار صدفیصد بند رہے ۔اور کچھ دوکانوں پرسیا ہ پرچم لہرائے گئے جو اس بات کاثبوت ہےکہ ہم لوگ اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر بھی مناتے ہیں ۔کئی نوجوانوں نے سیاہ کپڑے پہنے تھے۔آج شہر کے اہم علاقو ں میں پولس کا خصوصی بندوبست رکھاگیاتھا ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading