ناندیڑضلع میں موسلادھار بارش کا قہرجاری‘ندیوں میں طغیانی

    ناندیڑ، 16 اگست (حیدر علی اکرم چوہان) ضلع میں لگاتار ہونے والی موسلا دھار بارش نے جان لیوا حادثہ برپا کر دیا۔ قندھار تعلقہ کے کوٹ بازار گاو?ں میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب مکان کی دیوار گرنے سے گرام پنچایت کی موجودہ رکن حسینہ بیگم شیخ ناصر (68 سال)اور ان کے شوہر سابق رکن شیخ ناصر امین (72 سال) موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد پورے گاو?ں میں غم و ماتم چھا گیا۔ تفصیلات کے مطابق میاں بیوی کچے اینٹوں اور ٹین کی چھت والے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ جمعہ کی رات تقریباً بارہ بجے کے قریب مکان کی دیوار اچانک گر گئی۔ ملبہ اور پتھر سر پر گرنے سے دونوں شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ ہفتہ کی صبح گاو?ں والوں کو حادثے کی اطلاع ملی جس کے بعد انتظامیہ کو خبر دی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ حسینہ بیگم نے تین ماہ قبل ہی گھرکول اسکیم کے تحت مکان کے لئے درخواست دی تھی اور مکان بھی منظور ہوگیا تھا، لیکن حکومت کی طرف سے پہلی قسط کی رقم جاری نہ ہونے کی وجہ سے تعمیری کام شروع نہیں ہوسکا۔ اسی وجہ سے انہیں اپنے کچے مکان میں ہی رہنا پڑا اور بالا?خر یہ المناک سانحہ پیش ا?یا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری مشینری نے بروقت اقدام کیا ہوتا تو میاں بیوی کی جان بچ سکتی تھی۔


    15 اگست 2025 کو ناندیڑ ضلع کے مکھیڑ‘قندہار ، لوہا، حدگاو¿ں، بھوکر، دیگلور، مدکھڑ، عمری اور نایگاو¿ں اِن 9 تعلقہ جات کے 27 منڈلوں میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔ ان میں سب سے زیادہ بارش قندہار تعلقہ کے پھلوڑ گاو¿ں میں 133.25 ملی میٹر ہوئی۔ اسی طرح 16 اگست 2025 کوقندہار، لوہا، دیگلور اورحمایت نگر تعلقہ کے 4 منڈلوں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش درج کی گئی، جن میں لوہا تعلقہ کے شیوڑی علاقے میں سب سے زیادہ 103.75 ملی میٹر بارش ہوئی۔ لوہا تعلقہ کے ریسن گاو¿ں میں انیل موروہر نائک کا بیل پانی میں بہہ کر مر گیا۔ اسی طرح والکی کھرد کے چندرکانت گائیکواڑ کی بھینس بھی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی۔ علاوہ ازیں چتلی (احلیا نگر) میں بلی رام پنڈلک شامے کے مکان کی دیوار کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا۔

    1. کنوٹ تعلقہ کے سندگی (چکھلی) گاو¿ں کے رہائشی پریم سنگھ موہن پوار (42 سال) اسکول وین لے کر جارہے تھے کہ نالے کے اوپر بہتے پانی میں وین بہہ گئی۔ مقامی ریسکیو ٹیم نے ان کی لاش برآمد کرلی ہے۔ اس واقعہ کی تصدیق تحصیلدار کنوٹ نے کی۔ کنوٹ میں بارش کے پانی کے داخل ہونے سے گاو¿شالہ میں موجود مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
    2. عمری تعلقہ کے موکھنڈی گاو¿ں کا نالہ بھر جانے سے گاو¿ں و گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ واگھالا گاو¿ں میں مندر گرام پنچایت کی سیڑھیاں بھی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ کئی دیہات میں گھروں تک پانی پہنچ چکا ہے۔ پین گنگا پل پر پانی بہنے کے باعث کنوٹ-عمری-عمرکھڑ روڈ بند کر دیا گیا ہے اور پولیس بندوبست تعینات کیا گیا ہے۔ ا±سی تعلقہ میں ایک کسان ستیش شیواجی دیشمکھ کی بھینس بجلی گرنے سے مر گئی۔

    3. 5.حمایت نگر تعلقہ کے شِرنچی اور سِلودا شِرپلی سڑک پر نالے کے بھر جانے کی وجہ سے آمدورفت بند ہوگئی۔ کاماری تا پمبری راستہ بھی بند ہے۔ بوری گاو¿ں (تعلقہ حمایت نگر) میں 20 گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔
    4. دیگلور تعلقہ کے ت±پ شیلوگاو¿ں اور لَکھا گاو¿ں کا رابطہ بھی سیلابی ریلے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔
    5. ماہور تعلقہ کے رامونائیک تانڈا میں بارش کے پانی نے گھروں میں گھس کر کئی اشیائے ضروریہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ پین گنگا پل (شیکاپور) پر پانی کی سطح پل تک پہنچ گئی ہے۔ انتظامیہ نے دریاو¿ں کے کنارے کے گاو¿ں والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ہرڈف گاو¿ں کے قریب نالہ بھر جانے سے ہرڈف تانڈا کا رابطہ بھی ٹوٹ گیا ہے۔
    6. اردھاپور تعلقہ کے سائل واڑی علاقے کے بڑے تانڈا اور چھوٹے تانڈا کے درمیان نالے کا پل ٹوٹ گیا ہے، جس سے تین گاو¿ں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ کونڈا تا ساور گاو¿ں پل پر بھی پانی بہہ رہا ہے۔

    7. انتظامیہ نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ندی و نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ سیلاب کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مقامی ریسکیو ٹیمیں سرگرم ہیں۔
      کنوٹ میں بارش اور پین گنگا ندی میں سیلاب – مسلم علاقوں میں گھروں میں پانی داخل، لوگ مکان خالی کرنے پر مجبور
      کنوٹ، 16 اگست:(اکرم چوہان) کنوٹ شہر میں گزشتہ رات سے مسلسل بارش جاری ہے جس کے باعث مسلم اکثریتی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ کئی خاندان اپنے مکانات چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔دریائے پین گنگا میں بھی پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ گھروں اور نشیبی علاقوں میں پانی گھسنے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔انتظامیہ کے مطابق 16 اگست 2025 کی رات 10 بجے اساپور ڈیم کے مزید 2 دروازے 50 سینٹی میٹر تک کھولے گئے ہیں۔ اس طرح اب تک ڈیم کے کل 13 دروازے 50 سینٹی میٹر تک کھول دیے گئے ہیں۔ فی الحال پین گنگا ندی میں 22062 کیوسیکس (624.709 کیومیکس) پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دریائی علاقوں اور نشیبی بستیوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

    Discover more from ورق تازہ

    Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

    Continue reading