ایم آئی ایم کے امتیاز جلیل کی "مٹن قورمہ” پارٹی: بی جے پی ایم ایل اے کینیکر نے درج کرائی شکایت

اورنگ آباد ، 16 اگست (ایجنسیز)بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے سنجے کینیکر نے پولیس کمشنر کو شکایت درج کرائی ہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انھوں نے اورنگ آباد کے پولس کمشنر مسٹر پراوین پوار سے ملاقات کی اور انہیں ایک شکایت پیش کی جس میں درخواست کی گئی کہ سابق ایم پی امتیاز جلیل کے خلاف شری کرشن جنماشٹمی کے مقدس مہینے اور شری کرشنا جنم اشٹمی کے دن کھلے عام انہیں گوشت کھانے کی دعوت دینے پر مقدمہ درج کیا جائے۔


عیاں رہے کہ یوم آزادی کے موقع پر، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ریاستی صدر اور اورنگ آباد کے سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے 15 اگست کو گوشت کی دوکانیں بند رکھے جانے کے خلاف اپنے مکان پر ایک "چکن بریانی” اور "مٹن قورمہ ” کی پارٹی کا اہتمام کرکے اس میں ان تمام میونسپل کارپوریشن کمشنروں کو دعوت دی تھی۔آج امتیاز جلیل نے یو این آئی سے اس انوکھےاحتجاج پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعوت میں تو کوئی شریک نہیں ہوا ۔ ان کے خلاف اس ضمن میں درج کرائی گئی شکایت کو انھوں نے غیر اہم بتاتے ہوئے طنزیہ کہا کہ اب ” اپنے گھروں پر بریانی کھانے پر بھی شکاتیں کی جا رہی ہیں”۔


امتیاز جلیل نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تہواروں کے بہانے گوشت کی دکانیں بند کرانے کا فیصلہ ناانصافی ہے اور شہریوں کی ذاتی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس تقریب میں سبزی خور کھانوں کے ساتھ چکن بریانی بھی تیار کرائی تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ حکومت کسی کو یہ نہیں بتا سکتی کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں۔انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی عوام کی آزادی کا خیال رکھتے تو میونسپل کمشنر کو اس حکم کو منسوخ کرنے کی ہدایت دیتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گوکل اشٹمی پورے مہاراشٹر میں منایا جا رہا ہے تو پھر صرف چند اضلاع میں ہی اس پابندی کو کیوں نافذ کیا گیا۔

ان کے مطابق یہ صرف کچھ کمشنروں کی حد سے بڑھی ہوئی سرگرمی ہے جو حکومت کو خوش کرنے کے لیے شہری آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔امتیاز جلیل نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے صرف دو بڑے تہوار ہیں، رمضان اور عید الاضحی ، اگر حکومت مذہبی جذبات کا اتنا ہی احترام کرتی ہے تو کیا ان ایام میں شراب کی دکانیں بھی بند کی جائیں گی؟ ان کے مطابق یہ دوہرا معیار ناقابل قبول ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading