ناندیڑ:29جنوری ۔(ور ق تازہ نیوز) مورخہ26 جنوری2019 ناندےڑ مےونسپل کارپورےشن کے اسسٹنٹ کمشنر اوران کی ٹےم نے دربار مسجد تا قلعہ روڈ نمبر ۶ پر واقع بلدےہ کی اجازت حاصل کرنے کے بعد تعمےر کردہ اےک نئی عمارت کو بلڈوزر سے منہدم کرکے عوامی ملکےت پر اپنی ذےادتی کی اےک نئی مثال قائم کردی ۔ تفصےل ےوں ھےکہ سال 2008 میں گروتاگدی تقاریب کے مدنظر شہر بھر میں سڑکوں کی توسیع کیلئے عوام کی املاک کو حاصل کیاگیا۔ قدیم شہر میں بھی بڑے پیمانے پر یہ کاروائی کی گئی ۔دربارمسجدکے سامنے روڈ نمبر ۶ کو گروتا گدی کے ضمن مےںتوسےع کےے جانے والے منصوبہ کے تحت سرکار کی جانب سے گھروں کے زمےنات حاصل کرنےکی کاروائی کی کاروائی کی گئی ۔ اس سلسلے مکان مالک جناب ڈاکٹر سےدمشائخ قادری صاحب جو سنٹرل گورنمنٹ کی ملازمت پر معمور تھے ۔ سرکاری اسکےم مےں سب سے پہلے اپنے گھر کی زمےن بلدےہ کو سونپ دی اور اسکا معاوضہ حاصل کرلےا۔ اسکے بعد قادری صاحب نے2014 مےں باضابطہ ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کی اجازت سے اپنی باقی جگہ پر نئے گھرکی تعمےر کی ۔ لےکن تےن سال کی مہلت گزرنے کے بعد قادری صاحب کی اس نئی عمارت کو بلدےہ کی طرف سے توڑنے کی دھمکےاں ملنے لگےں۔ اس کے پےش نظر انھوں نے 2017 مےں ناندیڑعدالت سے رجوع کرکے اسٹے حاصل کےا جس کے تحت بلدےہ کو Status Quo till the disposal of the suit ۔ےہ احکام جاری کےے گئے۔ اب جب کہ کورٹ مےں کےس کی سنوائی جاری ہے۔اور ابھی تک کورٹ کا کوئی فےصلہ نہےں آےا ہے۔اسکے باوجودناندیڑ میونسپل کارپوریشن کاعملہ 24تا26جنوری2019 کے درمیان اس نئی عمارت کو غیر مجاز تعمیرات قرار دیتے ہوئے تقریبا 8فٹ کاحصہ منہدم کردیا۔اس طرح کارپوریشن حکام نے عدالت کے اسٹے کی خلاف ورزی کی جو سراسر غیر قانونی عمل ہے ۔نئے تعمیر کرد ہ مکان کی اچانک انہدامی کاروائی ہونے سے ڈاکٹرقادری کوکافی ذہنی تکلیف پہنچی ہے اور انکا لاکھوں روپیوں کا نقصان بھی ہو ا ہے ۔ انھوں نے ناندیڑمیونسپل کارپوریشن کے کمشنر سے درخواست کی ہے کہ وہ بذات خود اس علاقہ کادورہ کریں اور انکے پاس موجود دستاویزات کی جانچ پڑتال کریں اور اس کاروائی کیلئے ذمہ دار متعلقہ حکام کے خلاف کاروائی کرے ۔ ا س سلسلے میں ڈاکٹر قادری عدالت کادروازہ کھٹکھٹانے کاارادہ کرلیا ہے جہاں انھیں انصاف کی اُمید ہے ۔