ناندیڑ:ثناء اسکو ل کے خلاف عوام میں شدید غصہ‘ بائیکاٹ کی اپیل

قصورواراساتذہ کومعطل کرنے سیکریٹری کاتحریری تیقن

ناندیڑ:3 فروری۔( ورق تازہ نیوز)ناندیڑ شہر کے معروف اردو تعلیمی ادارہ ثناءاینگلو پرائمری ہائی اسکول و جونئرکالج کے تئیں عوام میںشدید غصہ پایاجاتا ہے اوراسکے بائیکاٹ کی اپیل شدت اختیار کررہی ہے۔

کیونکہ کل رات سے سوشل میڈیا پر اسکول میں منعقدہ ایک شرکیہ تقریب کاویڈیو زوروں سے وائرل ہورہا ہے جس میں کچھ طالبات ایک تقریب میں اوم جئے جگدیش نامی بھجن پرپوجا پاٹ کرتی نظر آرہی ہیں۔ جیسے ہی کل رات یہ ویڈیو وائرل ہوا لوگوں میں شدید غصہ پایاگیااور رات میں ہی لوگوں نے طئے کرلیاتھا کہ کل صبح اسکول پہنچ کراسکول انتظامیہ سے بات چیت کی جائے گی۔

آج صبح سے ہی سرپرست اولیاءکے علاوہ شہریان وسیاسی وسماجی کارکنان کی بڑی تعداد اسکول پہنچ رہی تھی ۔دوپہر بعد ہجوم بڑھ گیا جس کے بعد پولس کوطلب کیاگیا ۔

اس موقع پر اسکول کے احاطہ میں موجود کچھ سرپرستوں نے بتایا کہ جب وہ اسکول پہنچے اور جن اساتذہ نے قومی یکجہتی کے نام پر یہ تقریب منعقد کی تھی اُن سے پوچھ تاچھ کی گئی تو انھوں نے الٹے سیدھے جوابات دئےے جس کی وجہہ سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔

یہ تقریب 26 جنور ی سے قبل اسکول کے احاطہ میں منعقد کی گئی تھی جس میں ہائی اسکول کی طالبات نے شرکت کی تھی ۔ اس تقریب میں مفتی اعظم صاحب بھی موجود تھے۔ لیکن وہ بھی اس موقع پرخاموش تماشائی کھڑے تھے جس وقت لڑکیاں یہ بھجن پڑھ رہی تھیں اورپوجاپاٹ کررہی تھی۔

کل جب ویڈیو سوشل میڈیا پروائر ل ہوا اسکے بعد آج مفتی صاحب کا ضمیر بھی جاگ گیااورانھوں نے ایک ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پرجاری کرتے ہوئے اپنی طرف سے وضاحت دینا شروع کردی۔انھوں نے ویڈیو میں بتایا کہ جب یہ تقریب منعقدہورہی تھی اس کے بعد انھوں و دیگر اساتذہ نے بھجن پڑھے جانے پر اسکول کی صدرمعلمہ و متعلقہ تقریب کے ذمہ داران سے ناراضگی کااظہار کیاتو انھیں کسی بھی طرح کافتویٰ نہ دینے کی درخواست کی جس کے بعد مفتی صاحب بھی خاموش ہوگئے تھے۔آج کے ویڈیو میں مفتی صاحب نے اس غلطی پرپچھتاوے کااظہار کیااورمستقبل میں کبھی بھی اس طرح کی تقریب میں شرکت نہ کرنے اور اسکے انعقاد کوروکنے کاتیقن دیا۔

دریں اثناءآج سہ پہرچاربجے ثناءہائی اسکول کے احاطہ میں لوگوں کاہجوم جمع ہوگیا جوانتظامیہ سے متعلقہ اساتذہ کی فی الفور ملازمت سے معطلی کامطالبہ کررہے تھے ۔ جس پر انتظامی کمیٹی کے سیکریٹری جناب محتسم الدین نے تحریری تیقن دیا کہ وہ قصوروار اساتذہ مریم حامد حسین سروری‘ اعظم صاحب ودیگر کے خلاف معطلی کی کاروائی کی جائے گی ۔اب یہ کاروائی کب ہوگی اوراسکا کیا طریقہ کار ہوگا اس پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔

اس تحریر کی کاپی عمران بشرسماجی کارکن کے سپرد کی گئی ہے۔یاد رہے کہ چندسال قبل یوگا گرو رام دیو بابا کی ناندیڑ آمد کے موقع پر بھی انکے استقبال کیلئے ثناءاسکول کی کمیٹی نے سینکڑوں طالبات کودھوپ میں کئی گھنٹے سڑک پر کھڑا کروایاتھااوررام دیو کی آمد پر اُن پر پھول برسائے گئے تھے ۔

اس وقت بھی مسلمانوں اور اولیاءسرپرست میں اسکول کمیٹی کے تئیں شدید ناراضگی پائی گئی تھی اور اس وقت بھی بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی ۔مگر اس مرتبہ جو واقعہ رونما ہوا وہ یقینا ایمان کوکمزور کرنے والاہے۔عوام کاکہنا ہے کہ اگر اسکول والوں کو قومی یکجہتی کی تقریب منعقد ہی کرناتھا تو بھجن کے بجائے کوئی دوسرا پروگرام بھی رکھ سکتے تھے۔ فی الحال ناندیڑ سمیت مہاراشٹر بھر ثناءاسکول انتظامیہ و متعلقہ اساتذہ کے تئیں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ کچھ سرپرستوں نے اپنے بچوں کوآئندہ سال اسکول سے نکالنے کابھی فیصلہ کیاہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں