ناندیڑ (ورق تازہ نیوز): ناندیڑ شہر میں غیر قانونی انسانی تجارت اور خواتین کے استحصال پر روک لگانے کے لیے پولیس کی جانب سے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اسی مہم کے تحت شہر کے ہولی صرافہ علاقے میں واقع چندرکانت پلازہ میں جاری غیر قانونی جسم فروشی کے اڈے پر انسدادِ انسانی تجارت سیل اور مقامی جرائم شاخ کی مشترکہ ٹیم نے چھاپہ مار کارروائی انجام دی۔ اس کارروائی میں پولیس نے 33 سالہ متاثرہ خاتون کو آزاد کرایا، جبکہ مبینہ طور پر جسم فروشی کا کاروبار چلانے والی خاتون اور اس کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے موقع سے نقد رقم اور 4 موبائل فون سمیت مجموعی طور پر 73,010 روپے کا سامان ضبط کیا ہے۔
پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق، 22 اکتوبر 2026 کو اتوارہ کے سب ڈویژنل پولیس افسر کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ ناندیڑ شہر کے ہولی صرافہ علاقے میں واقع چندرکانت پلازہ کے ایک مکان میں غیر قانونی جسم فروشی کا کاروبار جاری ہے۔ اس اطلاع کے بعد مقامی جرائم شاخ کے پولیس انسپکٹر اتل بھوسلے نے فوری کارروائی کا منصوبہ تیار کیا۔
کارروائی کے لیے 2 سرکاری پنچوں اور ایک فرضی گاہک کا انتظام کیا گیا۔ چھاپے سے قبل پنچوں کی موجودگی میں ضروری کارروائی مکمل کی گئی اور فرضی گاہک کو 500 روپے کے 2 نوٹ دے کر چندرکانت پلازہ کے مکان نمبر 019-059 میں بھیجا گیا۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق فرضی گاہک نے شام کے وقت پولیس اہلکار کے موبائل فون پر مسڈ کال دے کر اشارہ کیا، جس کے بعد پہلے سے تیار پولیس ٹیم نے فوری طور پر متعلقہ مکان پر چھاپہ مارا۔
چھاپے کے دوران مکان میں 33 سالہ خاتون موجود پائی گئی۔ پولیس کی پوچھ گچھ میں مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ دیپالی کشور اوداونت (عمر 51 سال) اور اس کا بیٹا نتن کشور اوداونت (عمر 30 سال)، دونوں ساکن چندرکانت پلازہ، ہولی صرافہ، ناندیڑ، مبینہ طور پر زیادہ رقم دلانے کا لالچ دے کر متاثرہ خاتون سے جسم فروشی کا کاروبار کروا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق، نتن اوداونت گاہکوں کو لانے کا کام کرتا تھا، جبکہ دیپالی اور نتن گاہکوں سے رقم وصول کرتے تھے اور اس کا نصف حصہ اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔ پولیس نے پنچوں کی موجودگی میں مکان کی تلاشی لے کر نقد رقم اور 4 موبائل فون سمیت مجموعی طور پر 73,010 روپے کا سامان ضبط کرلیا۔
اس معاملے میں اتوارہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر 355/2026 درج کیا گیا ہے۔ ملزمین کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعات 143(2) اور 3(5) کے علاوہ غیر اخلاقی انسانی تجارت کی روک تھام کے قانون کی دفعات 4، 5، 6 اور 7 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلاب روہن کے احکامات پر ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سورج گورَو کی رہنمائی اور اتوارہ سب ڈویژن کے سب ڈویژنل پولیس افسر پرشانت شندے کی قیادت میں یہ کارروائی انجام دی گئی۔ کارروائی میں مقامی جرائم شاخ کے پولیس انسپکٹر اتل بھوسلے، پولیس اہلکار ریتیش کلوتھے، گنیش لوسروار، گیانوبا کواٹھیکر، انسدادِ انسانی تجارت سیل کی معاون پولیس سب انسپکٹر اشونی گائیکواڑ، اچیوت مورے اور خاتون پولیس اہلکار دیپا کوکاٹے نے حصہ لیا۔
پولیس کی شہریوں سے اپیل
ناندیڑ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے علاقے میں انسانی تجارت، جسم فروشی کے لیے خواتین کے استحصال یا اس نوعیت کے کسی غیر قانونی کاروبار کی اطلاع ملے تو فوری طور پر ناندیڑ پولیس یا ہنگامی ہیلپ لائن نمبر 112 پر اطلاع دیں، تاکہ ایسے غیر قانونی کاروبار کے خلاف بروقت کارروائی کی جاسکے۔