نئی دہلی، 26 اپریل (یو این آئی) شمالی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں واقع بابو جگ جیون رام ہسپتال کے 44 ڈاکٹر، نرس اور دیگر صحت اہلکاروں کے کورونا پوزیٹیو پائے جانے سے دہشت کا ماحول ہے۔
گزشتہ دنوں علاقے میں وائرس انفیکشن کے دو مقامات پر بڑی تعداد میں معاملے آنے پہلے ہی دہشت ہے اور اب ہسپتال کے عملے کے اتنی زیادہ تعداد میں متاثر ہونے سے لوگوں میں اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے اتوار کو کہا جہانگیر پوری میں گزشتہ دنوں کورونا وائرس سے متاثرہ معاملے سامنے آئے تھے۔ ابھی بابو جگ جیون رام ہسپتال کے 44 اہلکار انفیکشن کی زد میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا اب دیگر اہلکاروں کی رپورٹ آنا باقی ہیں۔
مسٹر جین نے کہا کہ ہسپتال کی طبی خدمات کو بند کرکے پورے ہسپتال کو سینیٹائزکیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کورونا کے سنگین مقامی انفیکشن کے خدشہ کا اظہار کیا ہے۔
اس سے پہلے شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے باڑا ہندو راؤ ہسپتال کو ہسپتال کی ایک نرس کے کوروناوائرس مثبت پائے جانے کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔
کارپوریشن کی کمشنرورشا جوشی نے بتایا کہ ہفتے کی شام ایچ آر ایس میں ملازم ایک نرس کوروناپوزیٹیو پائی گئی۔ نرس نے ہسپتال کے احاطے میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کئی مقامات پر کام کیا ہے۔ لہذا ہسپتال کو مکمل طور سینیٹائز کرنے اور نرس کے رابطے میں آنے والوں کا پتہ لگانے کے لئے فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔
کارپویشن کمشنر نے کہا ہسپتال میں زچگی کے سیکشن میں صرف کچھ مریض داخل ہیں۔ ان کے لئے ہسپتال مینجمنٹ مناسب بندوبست کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقینی طور سے لاپرواہی کا معاملہ ہے۔ یہ معاملہ ڈیڑھ گھنٹے پہلے ہی علم میں آیا ہے۔ اس کے لئے کون ذمہ دار ہے ابھی کہہ پانا ممکن نہیں ہے۔ اس کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور جو بھی ذمہ دار ہوں گے اس بخشا نہیں جائے گا۔