میدان کارزار میں آئے وہ قوم کیا

شیخ پرویز نادر9156564239

طالب علمی (اسکول)کے زمانے میں جب میں نویں جماعت میں تھا نوٹس بورڈ (تختہ سیاہ)پر ایک شعر لکھا ہوا دیکھا

میدان کارزار میں آئے وہ قوم کیا

جس کا جوان آئینہ خانے میں رہ گیا

چونکہ اس وقت زبان زیادہ چلتی تھی اور دماغ کم تو اس شعر کو زیادہ کچھ سمجھ نہ پایا لیکن جیسا جیسا وقت گزرتا گیا یہ بات شرح صدر کے ساتھ سمجھ آتی گئی کہ عروج و دوام اسی قوم کا مقدر ہوا کرتا ہے جو انتہائی مشقت و جانفشانی کی زندگی گزارتی ہے جن کے ایام و اوقات با مقصد اور مصروف ترین ہوتے ہیں ہر شعبہ زندگی میں جن کی کارکردگی بہ حسن خوبی ہوتی ہے اور ایسی ہی قوموں کو علم و عرفان کی منزلیں نصیب ہوتی ہیں اس کے بالمقابل تن آسانی اور لہو لعب میں اپنے قیمتی اوقات کو صرف کرناصرف دستر خوان کو سجائے رکھنا اپنے چہروں کی چمک دمک کو بنائے رکھنا قوموں کو ذلیل و خوار کردیتی ہیں اسی لیے جب اٹھارویں صدی میں مغربی ممالک میں صنعتی انقلاب برپا تھا نت نئی مشینوں کی ایجاد سے معاشی ترقی و ضروریات زندگی کی پیداواری کو آسان بنا یا جارہا تھا اس وقت ہندستان میں آئینوں اور قالین کا کاروبار عروج پر تھا اور دہلی کا آئینہ مارکیٹ ساری دنیا میں مشہور تھا اور اسی سائنس و ٹیکنالوجی اور علوم و فنون کی ترقی کے زیر سایہ صنعتی انقلاب کے دوران مغربی دنیا جب ساری دنیا کو اپنے سامراج میں لینے کے لیے نئے نئے اور جدید ہتھیار بنا رہی تھی اس وقت ہندستان میں فن شاعری و ادب اپنے شباب پر تھا اور دہلی کی گلیوں میں عشق و عاشقی کی داستانوں کی محفلیں سجا کرتیں نیز ہر اس نوجوان میں عیب نکالا جاتا جس کی کوئی محبوبہ نہ ہو اور ہندوستانی شہزادے کبوتروں کو اڑانے اور مرغوں کو لڑانے کے شوقین تھے انکی زندگیاں میدانوں سے کم اور عشرت کدوں سے زیادہ وابستہ تھیں جس میں رقص و سرور اور شراب و کباب کی محفلیں لگتی تھیں اسی لیے کسی انگریز فلاسفر نے کہا ہے کہ *تم مجھے کسی بھی قوم کے نوجوانوں کے لبوں پر جاری ترانوں کو بتاؤ میں تمہیں اس قوم کا مستقبل بتاؤں گا* کیوں کے ترانوں کا تعلق سیدھا روح اور دل سے ہوتا اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کا مستقبل طئے کرتی ہے نغموں اور ترانوں کی سحر انگریزی نہ صرف انسانوں کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ جانور بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں اسی لیے عرب میں اونٹ چرانے والے ہدی خواں اونٹوں کو ترانے سناتے تھے جس کی وجہ سے اونٹ اور تیزی سے اپنا سفر طئے کرتےاس کے علاوہ اہل قریش سے مسلمانوں کی جنگوں کو دیکھیں قریش جنگ میں اپنے ساتھ اپنی عورتوں کو بھی لاتے ان عورتوں کا کام یہ ہوتا کہ جب جنگ کہ شعلے بھڑک اٹھے میدان کارزار جب گرم ہوجائے اس وقت اپنے ترانوں میں غیرت و قومی حمیت کو ابھارے تاکہ قریشی جوان میدان جنگ سے پیٹھ نہ پھیرے۔

تو گویا یہ ثابت شدہ اصول ہے کہ جس نہج پر بھی آپ اپنی نوجوان نسل کی تربیت کریں گے ویسا ہی اس قوم کا مستقبل ہوگااور یہی وہ تن آسانی اور مقصد سے دوری تھی جو شاعر مشرق علامہ اقبال کو خون کے آنسو رلاتی تھی

تیرے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالین ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

پوری کی پوری تاریخ اسلامی اور عہد حکمرانی جنگوں، میدانوں اور مشقت و جاں فشانی سے عبارت ہے اللہ کی عطا کردہ نور بصیرت گھوڑوں کی پیٹھ پر مسلسل سفر کی وجہ سے گرد آلود کپڑے اور چہروں کی سختیاں جنگوں سے پہلے دشمن کو خوف زدہ کردیتی تھی

یہ لہو و لعاب، یہ تن آسانیاں، یہ وقت کا اصراف، یہ بے مقصد مشغلے، یہ آواز میں نسوانیت، یہ جسم کی ساخت میں زنانیت نا صرف مومن کی اوصاف کے خلاف و اللہ سے دوری کا سبب ہے بلکہ ہماری یہی حرکتیں اور اوصاف ہمیں باطل کے لیے نرم چارہ بنانے کے لیے بھی کافی ہیں تو مسلم نوجوانوں سے درد مندانہ گزارش ہے کہ اپنی قدر و قیمت کو پہنچانے، اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرے اور سستی، کاہلی اور تن آسانی کو اپنے قریب بھی نا آنے دے آپ ایک عظیم قوم کا سرمایہ ہیں یا تو آپ اپنے دین اپنی عظمت رفتہ کی تاریخ کے امین ہیں یا اپنی امت کی بربادی کے ذمہ دار
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا را
شباب جس کا بے داغ ضرب ہے کاری

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading