پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے جن میں 15 پولیس اہلکار اور چھ عام شہری شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوہات کے مطابق دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی جبکہ دھماکے کے بعد مسلح شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔
اُن کے بقول خودکش بمبار سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کر دی گئی ہے اور میتیں تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا چکی ہیں۔
ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نماز جنازہ میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، صوبائی وزیرِ اطلاعات شفیع اللہ جان، صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم، جنرل آفیسر کمانڈنگ، کمشنر کوہاٹ، سیاسی و سماجی شخصیات، شہدا کے اہلِ خانہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
بیان کے مطابق آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔