ایران پر ٹرمپ کے بڑے فیصلے کا اشارہ، کہا- ’بہت جلد کچھ بڑا ہونے والا ہے‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جلد کسی بڑے فیصلے کا اشارہ دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں ’بہت بڑی چیزیں‘ مستقبل قریب میں ہونے والی ہیں اور وہ اس وقت فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ ان کے تازہ بیان سے ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں مزید شدت کے امکانات کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے کی گنجائش بھی برقرار رہنے کا اشارہ ملتا ہے۔

فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ان کے سامنے تین راستے موجود ہیں۔ ان میں ایران کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی، ملک کو معاشی طور پر کمزور ہونے دینا اور ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا شامل ہیں۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’درست رویہ‘ اختیار کرنا چاہیے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان کے بیان میں فوجی آپشن کے ساتھ معاشی دباؤ اور مذاکرات کا راستہ بھی شامل رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ابھی اپنی اگلی حکمت عملی کے حتمی انتخاب پر غور کر رہا ہے

دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایرانی صدر سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ یہ امکان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے ایرانی قیادت کی نیویارک آمد متوقع ہے اور سفارتی رابطے کی گنجائش پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ایران کی جانب سے بھی امریکی دھمکیوں کے جواب میں سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کی ہائپر سونک میزائل اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں میں اضافے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

اس سے قبل ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے اطلاعات ملی ہیں کہ بعض علاقائی ممالک کی حمایت سے امریکہ ایران پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ادھر امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ویک اینڈ کا پروگرام مکمل کیے بغیر کیمپ ڈیوڈ سے وائٹ ہاؤس واپسی کی۔ وائٹ ہاؤس نے ان کی واپسی کی وجہ باضابطہ طور پر نہیں بتائی، تاہم یہ پیش رفت ایران کے معاملے پر ٹرمپ کے اس بیان کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ وہ ایک اہم فیصلے کے مرحلے میں ہیں۔

ایران کے معاملے پر ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی شدید ہے۔ ان کے ’بہت بڑی چیزیں‘ ہونے کے اشارے نے آئندہ امریکی قدم کے بارے میں قیاس آرائیوں کو بڑھا دیا ہے، لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ حتمی فیصلہ فوجی کارروائی، مزید معاشی دباؤ یا مذاکرات میں سے کس راستے پر ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading