ریاض: مغربی ایشیا میں حوثی باغیوں کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان سعودی عرب کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دھماکے کی آواز سنائی دینے کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی۔ مقامی شہریوں نے آسمان پر دھویں کے بڑے بادل اور آگ کے شعلے نظر آنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب کم از کم ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ دھماکے کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہوسکی ہے۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی بھی سرکاری طور پر کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ اسے ہوائی اڈے کی سمت میں سیاہ دھواں اور آگ دکھائی دی۔ شہری کے مطابق دھویں کے بڑے بادل آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے نظر آئے۔
دریں اثنا، فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق ریاض ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والی متعدد پروازوں کے اوقات میں تاخیر دیکھی گئی۔ ویب سائٹ پر ’ڈیلے انڈیکس‘ 3.5 سے 5 کے درمیان دکھائی دیا، جو بڑے پیمانے پر پروازوں میں تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد پروازوں کے منسوخ ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
واقعے کی اصل وجہ، ممکنہ حملے یا کسی دیگر حادثے کے بارے میں سعودی حکام کی جانب سے سرکاری بیان کا انتظار ہے۔