پونے (ایجنسیز) – مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل کے خلاف رکن اسمبلی روہت پوار کی قیادت میں 26 ستمبر کو پونے میں مورچہ نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس احتجاج کے ذریعے ایم پی ایس سی کے کام کاج میں شفافیت اور طلبہ کے اعتماد کو بحال کرنے سمیت مختلف مطالبات حکومت کے سامنے رکھے جائیں گے۔
روہت پوار نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ایم پی ایس سی چیئرمین وویک بھیمَنوار کو عہدے سے ہٹایا جائے یا ان سے استعفیٰ لیا جائے اور ان کی جگہ طلبہ میں اعتماد رکھنے والے افسر کو چیئرمین مقرر کیا جائے۔ انہوں نے سابق انتظامی افسر تُکارام منڈھے یا وی رادھا کے نام بھی بطور ممکنہ امیدوار پیش کیے ہیں۔
مظاہرین کی جانب سے ایم پی ایس سی کے سیکریٹری کے استعفیٰ اور شفاف ریکارڈ رکھنے والے افسر کی تقرری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مبینہ پرچہ افشا معاملے کی آزادانہ تحقیقات، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی اور امتحانات سے متعلق تحقیقات کی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
روہت پوار کے مطابق، سابق انڈر سیکریٹری ابھیجیت لیںڈوے کے دور میں منعقد کیے گئے امتحانات کا فرانزک آڈٹ کیا جانا چاہیے۔ 2025 کی ریاستی خدمات کے مین امتحان اور زرعی خدمات کے امتحان کی جوابی پرچوں کی جانچ میں مبینہ غلطیوں کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ادویات کے انسپکٹر کے امتحان کے مشتبہ نتائج اور متعلقہ امیدواروں کا فرانزک آڈٹ کرنے، دیگر ایم پی ایس سی امتحانات کے نتائج سے متعلق طلبہ کے خدشات کی آزادانہ تحقیقات کرنے اور 25 اکتوبر 2026 کو ہونے والے گروپ سی کے پریلمز امتحان کو مکمل شفاف طریقے سے منعقد کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹینوگرافر کی اسامی دوبارہ بحال کرنے، 2026 میں 70 ہزار سرکاری اسامیوں پر میگا بھرتی شروع کرنے اور راجستھان کی طرز پر 100 روپے کے کارڈ کے ذریعے پورے سال مختلف امتحانات میں شرکت کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
روہت پوار کی قیادت میں ہونے والے اس مورچے کے ذریعے طلبہ سے متعلق ان تمام مسائل پر حکومت اور ایم پی ایس سی انتظامیہ سے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔