مہاراشٹر میں بی جے پی کے لیے سبھی امکانات ختم، شیوسینا کے بیان سے مچی ہلچل

مہاراشٹر میں حکومت کی تشکیل کے لیے ہلچل تقریباً آخری مرحلے میں ہے۔ شیوسینا لیڈر نے جمعہ کے روز کئی ایسے بیان دیے جو ظاہر کر رہے ہیں کہ شیوسینا کی کانگریس اور این سی پی سے بات چیت مکمل ہو گئی ہے اور حکومت سازی کو لے کر اتفاق بھی بن گیا ہے۔ سنجے راؤت نے میڈیا سے بات چیت کے دوران ریاست میں چل رہی سیاسی ہلچل کے پیش نظر ایک بات تو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اب اگر بھگوان اِندر کی گدی بھی بی جے پی پیش کرے گی تو ان کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ سنجے راؤت نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کے لیے حکومت سازی کے تقریباً سبھی راستے بند ہو گئے ہیں۔

مہاراشٹر کے ممکنہ وزیر اعلیٰ کے بارے میں بولتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ پورے پانچ سالوں تک شیوسینا کا ہی وزیر اعلیٰ ہوگا، اس بات پر دیگر ساتھی پارٹیوں میں اتفاق قائم ہو چکا ہے اور ذاتی طور پر سنجے راؤت کی خواہش ہے کہ ادھو ٹھاکرے ہی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں۔ انھوں نے کانگریس اور این سی پی کا نام نہیں لیا، لیکن صاف لفظوں میں یہ کہا کہ تینوں پارٹیوں کے درمیان سبھی ایشوز پر بات چیت ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ عہدہ سمیت دیگر باتوں پر بھی اتفاق قائم ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں حکومت سازی کو لے کر آج کانگریس-این سی پی-شیوسینا کے درمیان آخری دور کی بات چیت ہوگی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تینوں پارٹیوں کی ہونے والی اس میٹنگ کے بعد حکومت تشکیل کو لے کر آفیشیل اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کی شب شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے اور ان کے والد ادھو ٹھاکرے این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملنے ان کے گھر پہنچے تھے۔ اس ملاقات میں شیوسینا لیڈر سنجے راؤت اور این سی پی لیڈر اجیت پوار بھی موجود تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں حکومت کی تشکیل کو لے کر بات چیت ہوئی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading