ممبئی،31 اکتوبر (یواین آئی) مہاراشٹرمیں یووا شیوسینا کے سربراہ اور نومنتخب ایم ایل اے آدیتہ ٹھاکرے نے آج یہاں کہا ہے کہ ریاست میں حکومت کی تشکیل کے تعلق سے صرف شیوسینا کے سربراہ ادھوٹھاکرے کا فیصلہ حتمی ہوگا اور وہ فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔راج بھون میں ریاستی گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے مزید کہا کہ ادھو کا فیصلہ آخری ہوگا۔
اس موقع پر شیوسینا کے تمام اراکین اور دیگر حامیوں نے بھی شرکت کی اور گورنر سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں بے موسم بارش اور کئی علاقوںمیں قحط سالی جیسے حالات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔واضح رہے کہ اس موقع پر شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں تنازع جاری ہے اور ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے بعد بھی حکومت تشکیل نہیں دی جاسکی ہے۔
مہاراشٹر میں اسمبلی الیکشن نتائج کے آٹھ روز گزرجانے کے باوجود حکومت کی تشکیل نہ ہونے کے نتیجے میں عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔دریں اثناءشیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں وزیراعلیٰ کے عہدے پر ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے ہم ہی ریاست میں حکومت کی تشکیل کے لیے کنڈلی بنائیں گے۔انہوں نے فڑنویس کے ذریعہ 50-50کے فارمولے کو مسترد کیے جانے کے بیان پر پارٹی صدرادھوٹھاکرے کی ناراضگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں ہونے والی گفتگو کر منسوخ کردیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ شیوسینا ہی حکومت کی کنڈلی بنائے گی اور کس گھر کو زائچہ میں رکھا گیا ہے اور کون سے ستارے زمین پر لائے جانے ہیں ، کس طرح کی چمک دینی ہے۔ شیوسینا میں اب بھی اتنی طاقت ہے۔جبکہ ایکناتھ شندے کو آج یہاں پارٹی کی اسمبلی میں لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے ،ان کانام ادیتہ ٹھاکرے نے پیش کیا تھا۔
حالانکہ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاستدان یا ایم ایل اے جس کی اکثریت 145 ہے وہ وزیر اعلی بن سکتا ہے۔ جس کی تعداد 145 ہو ، گورنر نے اسے مدعو کیاہے۔ لیکن انہیں فرش پر اکثریت ثابت کرنا ہوگی۔ واضح رہے کہ سنجے راوت نے جمعرات کو کہا کہ بی جے پی اور شیوسینا کے مابین آج چار بجے ملاقات طے تھی، لیکن ، اگر وزیراعلیٰ خود کہتے ہیں کہ 50-50 کے فارمولے پر بات نہیں ہوئی ہے تو پھر ملاقات کا کیا فائدہ ہے ،اس لیے میٹنگ کو منسوخ کردیا گیا ہے اور ادھوٹھاکرے بھی فڑنویس کے بیان سے ناراض ہیں۔اس طرح آٹھ روز بعد بھی دونوں اتحادی پارٹیوں میں تال میل نہیں نظرآرہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز شیوسینا لیڈرشپ کے رویہ میں نرمی دیکھی گئی تھی ،لیکن آج اس تیورسخت ہوگئے اور شیوسینا نے پھر سے ڈھائی ڈھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ کے عہدہ کامطالبہ پیش کردیا ہے۔پارٹی کے ترجمان روزنامہ سامنا کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور شیوسینا اپنے مطالبہ پر قائم ہے۔
سامنا نے لکھا ہے کہ ماضی میں 50-50کے فارمولے پر دونوں قائم رہے ہیں ،پھر بی جے پی لیڈر شپ اس سے پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے۔یہی سمجھوتہ لوک سبھا انتخابات کے موقعہ پر بھی کیا گیاتھا۔شیوسینا ہمیشہ اپنے وعدے پر قائم رہی ہے۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدہ کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا تھا،حالات کی مناسبت سے بی جے پی نے شیوسینا کو 13-14قلم دان دینے کا فیصلہ کیا ہے ،لیکن شیوسینا 18کا مطالبہ کررہی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ دوچار روز تک جاری رہیگا۔