اورنگ آباد/ناسک:( ایجنسی)ٹی سی ایس کیس میں مطلوب ملزمہ ندا خان کو بالآخر پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ندا خان گزشتہ 25 دنوں سے پولیس کو چکمہ دے کر فرار تھی۔ عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد پولیس نے اس کی تلاش تیز کر دی تھی، جس کے نتیجے میں اسے چھترپتی سمبھاجی نگر سے حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ندا خان کے ساتھ مزید پانچ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کیس میں ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ ایم آئی ایم کے ایک کارپوریٹر کو بھی شریک ملزم بنایا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے ندا خان کو پناہ فراہم کی تھی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ایم آئی ایم پارٹی اب حکمراں اور اپوزیشن دونوں کے نشانے پر آ گئی ہے۔
ندا خان کی گرفتاری کے بعد ناسک پولیس کمشنر سندیپ کارنک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم آئی ایم کے کارپوریٹر متین پٹیل کو بھی اس کیس میں شریک ملزم قرار دیا گیا ہے۔ پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متین پٹیل نے ندا خان کو پناہ دی تھی، جس کے باعث اس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
ندا خان کی گرفتاری کے لیے ناسک شہر پولیس اور چھترپتی سمبھاجی نگر پولیس نے مشترکہ کارروائی انجام دی۔ اسے سمبھاجی نگر کے نریگاؤں علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ بھی واضح ہوا کہ مقامی کارپوریٹر متین مجید پٹیل نے اسے پناہ فراہم کی تھی، جس کے بعد اسے بھی اس معاملے میں ملزم بنایا گیا۔
پولیس کمشنر سندیپ کارنک نے اس کارروائی میں تعاون کے لیے چھترپتی سمبھاجی نگر پولیس کا شکریہ ادا کیا ہے۔
عدالت میں پیشی آج
پولیس ذرائع کے مطابق ندا خان کو آج دوپہر 3 بجے ناسک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں سرکاری وکیل کی جانب سے اس کی پولیس ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی۔ ایم آئی ایم کے کارپوریٹر متین پٹیل کے کردار سے متعلق بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اس کیس میں 7 ملزمان پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔ ندا خان کی گرفتاری کے بعد ٹی سی ایس کیس کے تمام ملزمان اب پولیس کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ اب عدالت کے فیصلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔