2002 کے گجرات فسادات کی طرز پر ملک بھر میں فسادات کرانے کی بی جے پی کی سازش
مغربی بنگال کے فسادات اسی کی شروعات: ہرش وردھن سپکال
حدبندی کمیٹی میں کس ریٹائرڈ جج کو شامل کرنا ہے، اس کا نام بھی طے، حدبندی کے بعد کا نقشہ بھی پہلے سے تیار
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2002 کے گجرات فسادات کی طرز پر ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش رچی جا رہی ہے اور مغربی بنگال میں حالیہ فسادات اسی منصوبے کا پہلا مرحلہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سے ہی ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کا عمل منظم انداز میں شروع کیا گیا ہے۔
تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ہندوستان بھر میں فسادات کرانے کے لیے بی جے پی کی جانب سے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تربیتی سرگرمیاں بھی چلائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2029 کے انتخابات جیتنے کے لیے مذہبی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی حکمت عملی پہلے سے تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2002 میں گجرات میں جس انداز سے فسادات کرائے گئے تھے، اب اسی طرز پر پورے ملک میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اسمبلی انتخابات کے بعد مختلف ریاستوں میں پیش آنے والے فسادات اسی منصوبے کی شروعات ہیں۔
سپکال نے کہا کہ مغربی بنگال، آسام سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ہندو مسلم منافرت پر مبنی ایجنڈا چلایا، جو حیران کن نہیں ہے، کیونکہ مردم شماری کے بعد جنوری 2028 میں حدبندی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ سپکال نے دعویٰ کیا کہ حدبندی کمیٹی میں سپریم کورٹ کے کس ریٹائرڈ جج کو شامل کیا جائے گا، اس کا فیصلہ بھی پہلے ہی کر لیا گیا ہے، جبکہ نئی حلقہ بندیوں کا نقشہ بھی تیار ہو چکا ہے۔
تمل ناڈو کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں جوزف وجے کی پارٹی کو حمایت دینے کا فیصلہ مقامی لیڈروں اور پارٹی انچارجوں سے مشاورت کے بعد پارٹی قیادت نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر پہلے ہی ٹی وی کے پارٹی کے ساتھ اتحاد کی مانگ کی جا رہی تھی اور اگر اسی وقت اتحاد کر لیا جاتا تو کانگریس کے زیادہ ارکان اسمبلی منتخب ہو سکتے تھے۔ سپکال نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم رکھنے کے لیے کانگریس پرعزم ہے۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن میں بیت الخلا کی تعمیر میں بدعنوانی کے معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں سپکال نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’بدعنوانی کے لیے بی جے پی کو اب بیت الخلا کی جگہ بھی کم پڑ رہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ’’سُلبھ شوچالیہ ‘‘ منصوبے میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’موہت کمبھوج کو ملیدہ اور کارکنوں کو صرف بیت الخلا کی جگہ دی جا رہی ہے‘‘۔