ممبئی کے بعد بجنور میں بھی تربوز بنا قاتل، پھل کھانے والے ایک ہی کنبہ کے 3 میں سے ایک فرد کی موت، 2 کی حالت سنگین

چند روز پہلے کی ہی بات ہے جب ممبئی میں ایک ہی کنبہ کے کچھ لوگوں کی طبیعت تربوز کھانے کے بعد بگڑی، اور پھر ان کی موت ہو گئی۔ اب کچھ ایسا ہی معاملہ اتر پردیش کے بجنور میں پیش آیا ہے، جس نے لوگوں میں خوف و دہشت پیدا کر دیا ہے۔ بجنور کے کوتوالی دیہات تھانہ علاقہ کے شیر نگر نرائیکا گاؤں میں تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے 3 افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ موصولہ اطلاع کے مطابق اسپتال لے جاتے وقت راستے میں 22 سالہ لڑکی نے دم توڑ دیا اور اس کے والدین کی حالت اب بھی نازک بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ممبئی: خاندان کے 4 افراد کی موت معاملے میں نیا موڑ! تربوز میں نہیں تھی ملاوٹ، جسم میں زہریلا مادہ پھیلنے کا شبہ
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن نامی شخص نے بازار سے لایا ہوا تربوز اپنی بیوی اور بیٹی مسکان کے ساتھ کھایا تھا۔ تربوز کھانے کے کچھ ہی دیر بعد تینوں کو شدید بے چینی، الٹی اور پیٹ درد کی شکایت ہونے لگی۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، مسکان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی۔ اہل خانہ اسے لے کر فوری طور پر اسپتال کے لیے روانہ ہوئے، لیکن بدقسمتی سے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مسکان کی موت ہو گئی۔ مسکان کا نکاح حال ہی میں طے ہوا تھا، جس کے باعث گھر میں خوشیوں کا ماحول تھا۔ لیکن اب یہ خوشی ماتم میں بدل گئی ہے۔

اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی محکمۂ صحت کی ٹیم اور مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اور ان کی اہلیہ کو بجنور کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے مسکان کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ تاہم اہل خانہ پوسٹ مارٹم کرانے پر راضی نہیں ہوئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading