وکاس لوانڈے پر سیاہی پھینکنے کا واقعہ وارکری فرقے کی توہین، ح ملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: ہرش وردھن سپکال

وکاس لوانڈے پر سیاہی پھینکنے کا واقعہ وارکری فرقے کی توہین، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: ہرش وردھن سپکال
ناسک کے ٹی سی ایس معاملے کو مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی بی جے پی کی سازش، پہلے ایف آئی آر عوام کے سامنے لائی جائے
شیوسینا لیڈر امباداس دانوے اور ملند نارویکر کی کانگریس ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال سے ملاقات
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ترجمان وکاس لوانڈے پر سیاہی پھینکنے، دھکا مکی اور بدزبانی کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حملہ آور وارکری فرقے کے نظریات پر یقین رکھنے والے نہیں ہو سکتے اور اس پورے واقعے کے پیچھے بی جے پی کی اشتعال انگیزی کارفرما ہے۔
گاندھی بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس پارٹی وکاس لوانڈے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکاس لوانڈے وارکری فرقے کے مساوات، بھائی چارے اور سماجی انصاف کے نظریات کو آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ سپکال کے مطابق وکاس لوانڈے نے وارکری فرقے میں منوادی سوچ کے بڑھتے اثرات پر جو تشویش ظاہر کی تھی، اس حملے نے اس خدشے کو سچ ثابت کر دیا ہے۔
سپکال نے کہا کہ چند لوگوں کے ہاتھ میں مذہبی اور سیاسی طاقت مرکوز رکھنے کی سوچ نے چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو مہاراج، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور کئی سنتوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ سنت تکارام مہاراج کی گاتھاؤں کو ڈبونے والے، سنت گیانیشور کو ستانے والے اور ساوتری بائی پھولے پر ظلم کرنے والی یہی منوادی سوچ آج بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی منوادی فکر سے تنگ آ کر گوتم بدھ نے بدھ مت کی بنیاد رکھی، مہاویر نے جین مذہب قائم کیا اور مہاتما بسویشور نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھایا۔ سپکال نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اسی منوادی نظریے کی نمائندگی کرتے ہیں اور اسی فکر نے دابھولکر، پانسارے اور کلبورگی جیسے سماجی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا۔
ناسک کے ٹی سی ایس معاملے میں ندا خان کی گرفتاری کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اس معاملے کی ایف آئی آر اب تک عوامی نہیں کی گئی ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر منظر عام پر لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے، لیکن اس معاملے کے ذریعے مذہبی پولرائزیشن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سپکال نے سوال کیا کہ اگر معاملہ اتنا سنگین تھا تو پولیس اب تک خاموش کیوں بیٹھی تھی؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ آیا اس معاملے کو ہوا دینے میں حکومت کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مارنے کا ڈرامہ کرتا ہوں، تم رونے کا ڈرامہ کرو جیسا تماشہ اب بند ہونا چاہیے۔
دریں اثنا، قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے والے مہاوکاس اگھاڑی کے امیدوار اور شیوسینا لیڈر امباداس دانوے اور رکن اسمبلی ملند نارویکر نے گاندھی بھون پہنچ کر کانگریس پارٹی کی حمایت پر ہرش وردھن سپکال کا شکریہ ادا کیا۔
اس ملاقات کے دوران مہاوکاس اگھاڑی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی اور مثبت گفتگو بھی ہوئی۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ریاست میں عوام مخالف اور آئین و جمہوریت مخالف بی جے پی مہایوتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مہاوکاس اگھاڑی متحد ہو کر مضبوطی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے گی۔
اس موقع پر ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیجیت سپکال بھی موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading