مولانا اسرار الحق قاسمی ایک ہمہ جہت شخصیت، خدمات کا اعتراف مشکل

دفتر جمعیتہ علماء مالیگاؤں میں منعقدہ تعزیتی نششت میں مختلف مکاتب فکر اور تنظیموں کے ذمہ داران کا اظہار خیال

مالیگاؤں(نامہ نگار) کشن گنج کے رکن پارلیمنٹ اور دارالعلوم دیوبند و مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسے عظیم الشان اداروں سے منسلک مولانا اسرار الحق قاسمی کی وفات حسرت آیات پر دفتر جمعیتہ علماء مالیگاؤں ( مولانا ارشد مدنی) پر ایک تعزیتی نششت کا انعقاد گزشتہ شب کیا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام، مدارس دینیہ کے ذمہ داران اور مختلف تنظیموں سے وابستگان نے نہ ٓصرف شرکت کی بلکہ مولانا کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت اور دعائے مغفرت سے بھی نوازہ ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے جمیعتہ کے سیکرٹری مولانا عمران اسجد ندوی نے کہا کہ "مولانا کی یہ اہم خصوصیت یہ رہی کہ اختلاف کے باوجود وہ اس کی رائے زنی نہیں کرتے تھے یہ وصف و کمال بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے” بیت العلوم کے مدرس و نوید شمش کے مدیر مولانا امتیاز اقبال نے مولانا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "مولانا ہمارے اکابرین کی یادگار تھے اور انکے تربیت یافتہ تھے، انکے اندر مجاہدانہ کردار مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی کی تربیت کی وجہ سے پیدا ہوا” جمیعتہ اہلحدیث کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن محمدی نے برملا مولانا کی قوم و ملت کے تئیں خدمات کی سراہنا کی اور بتایا کہ "مولانا اسرار الحق قاسمی ایک منجھے ہوئے صحافی، کامیاب سیاستدان اور ایوانِ حکومت میں اپنی قوم و ملت کی سچی نمائندگی کرنیوالے تھے” مدنی مسجد کے امام حافظ عبدالطیف نے کہا کہ "وہ رفاہی کاموں سے جڑے تھے انکے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اللہ تعالی اسے پر فرمائے (آمین)” جمیعتہ علماء (مولانا محمود مدنی) کے جنرل سیکرٹری مولانا جمال ناصر ایوبی نے کہا کہ” انکا سانحہ ارتحال موت العالم موت العالم کی مصداق ہے ملت پر نازک موڑ آتا تو انکی تحاریر رہنما ثابت ہوا کرتی تھی آپکا سب سے اہم وصف سادگی اور فنا فی اللہ تھا” بزمِ فیضان قمر سے وابستہ مولانا افتخار سالک نے ” آپ عارف باللہ تھے آپکا اصلاحی رشتہ مولانا قمر الزماں سے بھی رہا دور قحط الرجال میں وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھے” مدرسہ محمدیہ کی جانب سے قاری طفیل نے بھی انکی خدمات کی سراہنا کی اور بارگاہ خداوندی میں انکے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی مولانا کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سیٹیزن کمپلیکس کے روح رواں ڈاکٹر منظور حسن ایوبی نے کہا کہ ” انکی تعلیمی خدمات بھی قابل ذکر ہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے قیام کیلئے نہ صرف انکے حلقہ انتخاب بلکہ مالیگاؤں کیلئے کوشش کی حکومت نے جب علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار ختم کرنا چاہا تب مولانا نے اسکی شدید مخالفت کی”جامعہ ابوالحسن اور علی میاں ندوی لائبریری و فارغین ندوۃ العلماء کی جانب سے مولانا جمال عارف ندوی نے بتایا کہ” قوم کی نمائندگی اور اسکے مسائل کے حل کیلئے اپنی ہی پارٹی سے دو دو ہاتھ کیا وہ دین اور سیاست دونوں جگہ اپنی مثال آپ تھے” مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے کہا "انکا سانحہ ارتحال نہ صرف انکی خاندان، ریاست بہار بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں کے لیے غم کا باعث ہے وہ ایک باوقار عالم، مایہ ناز صحافی، مختلف جماعتوں اور جمیعتوں کے رکن بلکہ صاحب دل و صاحب نسبت بزرگ تھے انکا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے بھی گہرا ربط تھا” اس موقع پر مفتی عامر ملی نے بھی مولانا کی حیات و خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی مدرسہ تجوید القرآن کے بانی و ناظم مولانا ایوب قاسمی نے” انکے اندر سادگی تھی کبھی بھی انہوں نے اپنے عہدے کا رعب نہیں جمایا” جمیعتہ علماء مالیگاؤں کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالقیوم قاسمی کہا کہ "وہ جمیعتہ کے پلیٹ فارم سے بھی منسلک رہے اور جب جب کہیں پر فساد ہوا کرتا تھا وہ وہاں پہنچ جایا کرتے تھے مالیگاؤں سے بھی انکا کافی گہرا تعلق رہا آپ حضرت فدائے ملت سے بھی بیت تھے” اس تعزیتی نشش کی صدارت مفتی نظام الدین قاسمی نے کی، نظامت کے فرائض مولانا عمران اسجد ندوی نے انجام دیئے، مولانا امتیاز اقبال کی دعا پر نششت کا اختتام عمل میں آیا نششت میں مقررین کے علاوہ محمد مکی سیٹھ، قاری حفیظ الرحمٰن، قاری اخلاق جمالی، مفتی عبداللہ ہلال، مجیب کابل، عبدالماجد شیخ، خالد سکندر، نہال احمد، عمر فاروق الخدمت، حافظ ساجد تجویدی، عبدالرحمن پیارے وغیرہ نے شرکت کی اس طرح کی پریس ریلیز رکن جمیعتہ علماء مالیگاؤں عامر ایوبی سر نے روانہ کی

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading