موجودہ سنگھی منافرتی ماحول میں ہماری اجتماعی مرکزئیت، وقت کی اہم ضرورت

نقاش نائطی+966504969485

کرونا جیسے آفات،صبر و تحمل کے علاوہ، ایک دوسرے کی داد رسی کے، ہمارے امتحان کے لئے بھی ہوا کرتے ہیں۔

سقم کورونا حکومتی امتناع تناظر میں،روزانہ کما کر، کھانے والے عزت دار گھرانوں میں،انکے دست سوال آگے بڑھنے سے قبل، انکے گھر دروازے پر، راشن پانی پہنچانا، وقت کی سب سے بڑی ضرورت

مسلم اکثریتی علاقوں میں قبل برسات پانی کی کمی کے موقع پر، دیگر فلاحی، تنظیمیں اور اسپورٹس کلب ، جہاں بستی والوں کو پانی پہنچانے کے لئے،اور طبی کیمپ و اجتماعی شادی بیاہ کی سہولیات پہنچانے کے لئے، لاکھوں روپیہ خرچ کیا کرتے ہیں۔ ویسے ہی کورونا کے قہر سے لوگوں کو آمان میں رکھنے کے لئے، عالم بھر کے بڑےشہروں گاؤں ہی کو، کورنٹائن یا جیل خانے میں تبدیل کئے گئے تناظر میں، آج کما آج کھانے اور اپنے بچوں کی پرورش کرنے والے مزدور پیشہ لوگوں کو ایک دو ہفتہ نہیں, مہینہ دو مہینہ تک، محنت مشقت مزدوری سے پرے، حکومتی امتناع، گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہونا پڑے تو، وہ اپنے بیوی بچوں کو کیا کھلائیں گے اور خود کیا کھائیں گے؟

شہر کے مزدور کھڑا رہنے کی جگہ پر کھڑے ایک مجبور شخص کی ویڈیو کلپ سائبر میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ سر راہ اکیلے میں کھڑے شخص کو دیکھ کر ، اسے ڈنڈے مار دوڑانے پیٹرولنگ پر نکلی پولیس جیب رک کر ڈنڈا اٹھائے اس کے پاس جانے لگی تو وہ شخض پولیس کے ڈنڈوں کی مار سے ڈرکر بھاگنے کے بجائے،پیٹھ گھماکر جھک کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا "بے شک مارئیے جناب ، میں ڈنڈا کھانے کی ہمت رکھتا ہوں، لیکن خالی ہاتھ گھر جاکر، بھوکے بلکتے بچوں کی تڑپ دیکھنے کی سکت میں نہیں رکھتا ہوں، میں پاگل بھی نہیں ہوں لیکن دو بچوں کا مجبور باپ ہوں۔ کسی ضرورت مند کو، گر مزدور چاہئیے تو ایسے ساہو کار کی تلاش میں یہاں آیا ہوں۔ کچھ کماؤں تو اپنے بچوں کے لئے روٹی دال چاول ہی لے جا پاؤں”۔

اپنے لئے اور ایک حد تک اپنی آل اولاد کے لئے تو دنیا کا ہر جاندار،درند پرند چرند حتی کہ زہریلے رینگتے کیڑے مکوڑے بھی خیال رکھا کرتے ہیں۔ اپنے علاوہ اپنے آس پڑوس محلے گاؤں،معاشرے کے غرباء و مساکین کی داد رسی کرنے کا جذبہ، صرف اور صرف اشرف المخلوقات کہے جانے والے، ہم انسانوں کا وطیرہ خاص ہوا کرتا ہے۔ جب کہ ہم مومن مسلمان، جنہیں خاتم الانبئاء سرور کونین محمد مصطفیﷺ نے، جہاں یہ ترغیب دی ہے کہ اپنی دولت سے غرباء و مساکین کے لئے وہ جتنا خرچ کرینگے،اس سے ان کی دولت میں کمی کے بجائے بڑھوتری ہی ہوگی وہیں پر، اس وعید سے ہمیں متبہ اور خوفزدہ کرنے کی سعی بھی کی گئی ہے کہ،اگر باوجود ہماری وسعت رزق کے، ہمارا پڑوسی تنگدستی کی وجہ سے بھوکاسونے پر مجبور ہوجائے تو، ہمارے ذاتی اعمال نماز روزے ذکر واذکار، ہمیں قہر خدا وندی سے آمان نہیں دلاپائیں گے۔

ہر کسی معاشرے کا روزانہ کما کر عزت سے اپنی زندگی جینے پر مجبور،وہ طبقہ مساکین خود کیا کھائے؟ یا اپنی آل اولاد کے بھوک سے بلکنے کو کیسے برداشت کرے؟ اور غیر متوقع کورونا کورنٹائین کے، گھروں میں مقید زندگی گزارنے کے حکم صاحب اقتدار نے تو،آج کما آج کھانے والوں کو، بھوک فاقہ والی زندگانی جینے پر مجبور کیا ہوا ہے۔

سنگھی حکومت عوام کی وقتی راحت کاری کرنے کےلئے،پانچ دس کلو راشن پانی تقسیم کا، کوئی بندوبست کرتی ہے یا نہیں؟ اس جواب دہی والے عمل سے پرے،ہم بحیثیت اشرف المخلوقات عام انسان اور نبی رحمت اللعالمین کے ہم مومن مسلمین، پورے جہاں کی فکر سے پرے، اپنے خود کے رہائشی علاقے کے، اپنےآس پاس پڑوس کی، غریب بستیوں کے، روزانہ اجرتی مزدوروں کے،اس حکومتی کورونا کورنٹائین جیل خانہ میں تبدیل کئے،معاشرے کی راحت کاری کے لئے، ہم میں سے صاحب حیثیت امراء و تونگر، اپنی حیثیت مطابق کیا کچھ کر پاتے ہیں یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔ ابھی دس ایک دنوں بعد رمضان المبارک کی مبارک ساعات بھی شروع ہوا چاہتی ہیں۔ عموما عالم کے مسلمان رمضان المبارک میں اپنی سالانہ زکاة و صدقات غرباء و مساکین میں تقسیم کیا کرتے ہی ہیں۔کورونا قہر والے اس تناظر میں، رمضان کے آخری ایام تقسیم کی جانے والی زکاةو صدقات کو رمضان المبارک سے قبل ابھی یا رمضان المبارک کے شروعاتی دنوں ہی میں ہی،راشن پیکٹ کی صورت مستحق گھرانوں میں، تقسیم کئے جائیں تو اکثر و بیشتر مساکین و غرباء، گھروں میں مقید رہتے، اپنے اپنے گھروں کے ایک حصہ کمرے کو عبادات کے لئے مختص کرتے ہوئے، رمضان المبارک کی شب کو، اپنے بارگاہ خداوندی میں آہ و زاری کر،اپنے ذاتی و اجتماعی گناہوں کی معافی مانگتے، اپنے رحیم و کریم رب دوجہاں کو راضی کرنے کی سعی کرتے پائے جاسکتے ہیں۔

مسلم محلہ کے رضاکار تنظیمیں،ادارے اسپورٹس کلب وغیرہ اپنے اپنے علاقے کے تونگروں کو، اللہ رسول ﷺ کا حوالہ دیکر، انہیں قائل کرتے ہوئے، روزانہ اجرت کمائی والے مفلوک الحال لوگوں کے گھروں میں،انکے مجبور بن سوالی ہونے سےپہلے، ان کے گھروں میں عزت نفس سے جینے لائق راشن پانی کا بندوبست کروائیں،یہی توامتحانی وقت، ہم آپ تک آپہنچا ہے کہ ہم اپنی بساط بھر امداد و رضاکاری سے، بندگان خدا کی وقتی راحت کاری کا بندوبست کرتے ہوئے، رزاق دو جہاں پروردگار دو عالم کو راضی کرپائیں۔
شہر بھٹکل کو یہ امتیازئیت حاصل ہے کہ ہم میں، ہمارے اباء و اجداد کا قائم کیا ،سو سال قبل کا، سماجی رفاعی امدادی اور سیاسی آگہی پیدا کرنے والا ادارہ،مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل، آج بھی پوری توانائی کے ساتھ ہمارے درمیان خدمت خلق میں مصروف عمل ہے۔ مجلس اصلاح و تنظیم ایسا رفاعی ادارہ ہے، جس میں،ہمارے نبی آخر الزماں،سرور کونین محمد مصطفی ﷺ کے ہدایت کئے،تالیف القلوب للکفار کی مد کے ساتھ ہی ساتھ، ادائیگی زکاة کے تمام سات مد میں، زکاة تقسیم کا نظم ایک زمانے سے تنظیم کے ماتحت قائم کیا یوا آج بھی دیاجاتا ہے۔نہ صرف رمضان المبارک کے موقع پر، بلکہ سال بھر کے بارہ مہینے، مستحقین کے گھر، راشن پانی پہنچانے، کے علاوہ مختلف مدات میں کم و بیش ایک کروڑ سالانہ اوصول و تقسیم کئے جانے کا نظم مجلس اصلاح و تنظیم کے پاس علماء کرام کی نگرانی میں دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آسمانی آفات و مصائب کی صورت، کشمیر سمیت بھارت بھرکی مختلف ریاستوں، گجرات، ٹامل ناڈو، آسام بہار تک میں، نہ صرف وقتی ریلیف بلکہ مستحقین میں مستقل گھر بنا کر کالونی بسائی سنہری تاریخ، اپنے میں ہم رکھتے ہیں

!س موجودہ کورونا عالم پر ایک ساتھ آئی مصیبت کی اس گھڑی میں بھی، الحمد للہ حسب روایات سابق، مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داروں نے، اپنے ممبران تنظیم کے، دامے درمے سخنے وقت پر، دل کھول کر مدد کرنے کے جذبہ کےپیش نظر، اپنے سالانہ بجٹ سے پرے، اس کورونا حکومتی لاک ڈاؤں تناظر میں بھی، علاقے کے غرباء و مساکین کے علاوہ، متوسط یومیہ مزدور طبقہ کے گھرانوں میں بھی، ایمرجنسی راشن پانی تقسیم کرنے کا بیڑہ اٹھایاہوا ہے۔مجلس اصلاح و تنظیم کے ماتحت اصلاحی و سیاسی آگہی و خصوصا پنچایتی، بلدیاتی،ریاستی و ملکی انتخابی، صف بندی ہی کے سبب، مجلس اصلاح و تنظیم، سابقہ دو دہوں کی سنگھی حکومت کی نظروں کا کانٹا بنے ہوئے تناظر میں بھی، اپنے برادران وطن کے بشمول غریب عوام میں رفاعی خدمات کے چلتے، رفاعی کاموں کی اپنی شاندار تاریخ کے پس منظر میں، وقت ضرورت حکومتی کاموں میں، قومی اجتماعی تعاون کے پیش،حکومتی ڈسٹرکٹ پولیس و سیول اٹھارٹیز، ایس پی، ڈی جی پی، اے سی اور ڈی سی، سے اپنے خوش گوار تعلقات بنائے رکھنے کے ہی پیش نظر، کورونا وباء پر قابو پانے، سختی سے نافذ العمل لاک ڈاؤن کے باوجود، تنظیم کے رفاعی امدادی کاموں پر عوامی نقل و حرکت کو نظر انداز کئے، ہمیں راشن پانی تقسیم کی ایک طرح سے چھوٹ مزحمت کئے ہوئے ہے۔گاؤں شہر کے مختلف محلوں علاقوں کے اسپورٹس کلب کے مسلم نوجوانوں کا مکمل تعاون حاصل کرتے ہوئے، مختلف کلبوں کے،انکے انکے علاقوں کے گھرانے، خاندان تعداد کے تناسب سے،مستحقین کی مکمل لسٹ تیار کرتے ہوئے، اپنے اپنے علاقے کے روساء سے بھی،اپنے طور امداد حاصل کر، مجلس اصلاح وتنظیم کے پاس سے،حسب ضرورت امداد لیتے ہوئے، منظم طور پر مندرجہ ذیل چند کلب سے منسلک مسلم نوجوانوں نے، جس محنت و جانفشانی سے ایمرجنسی طور،تین چار ہفتوں پر مشتمل، ضروریات زندگی پر مشتمل راشن پانی تقسیم کرنے کا کام کیا ہے، یقینا وہ لائق تحسین کام ہے، جس کی جتنی پذیرائی کی جائے اتنا ہی کم ہے.سب سے اہم ہزاروں کی تعداد میں گھر گھر راشن پانی تقسیم کرتا یہ عمل، تصویر کشی اپنی تشہیر کرنے والے کسی بھی قسم کے خودنمائی یا ریاکاری سے ، پاک و صاف یہ کام نوجوانوں نے کیا ہے۔

آزاد نگر کے مسلم نوجوانوں کے انفا کلب نے، اپنے آس پاس کے علاقے، جالی ،موسی نگر، کوپتی تالاب آس پاس کے ایک وسیع علاقہ کے مکینوں تک راشن پانی پہنچانے کا کام مجلس اصلاح و تنظیم کے تعاون سے جس بہتر انداز کیا ہے یقینا قابل تعریف عمل ہے۔ لبیک ایسوسئین اسپورٹس کلب والوں نے بھی،تنظیم کے تعاون سے بھٹا گاؤں، عثمان نگر، غرباء و مساکین پر مشتمل ابوذر غفاررض کالونی کے وسیع تر علاقے کے، تمام مکینوں میں راشن پانی پہنچانے کا کام اور موگلی ہونڈا کے نوجوانوں پر مشتمل آزاد اسپورٹس کلب والوں کا برادران وطن کے ساتھ متصل کالونیوں میں راشن پانی تقسیم کا کام واقعی قابل تعریف ہے۔

اندورنی مسلم محلوں کے، اپنے اپنے علاقے کے گھرانوں میں راشن پانی پہنچانے کا کام، کوسموس اسپورٹس کلب، سلطانی محلہ اسپورٹس کلب، مدینہ کالونی محی الدین محلہ اسپورٹس کلب، نوائط کالونی وائی ایم ایس اے کلب ، مخدوم کالونی الھلال اسپورٹس کلب اور شاہین اسپورٹس کلب، بندر روڈ سوپر اسٹار اسپورٹس کلب والوں نے مجلس اصلاح و تنظیم کے تعاون سے بہت ہی اچھے انداز، ایمرجنسی راشن پانی تقسیم رفاعی کام کو نہ صرف مسلم گھرانوں میں، بلکہ برادران وطن کے پس ماندہ شیڈول کاشٹ شیڈول ٹرائب حلقوں تک کے گھرانوں میں، صاحب حیثیت افراد سے حاصل، سود فنڈ سے، ان کے لئے الگ کم و بیش ہزار روپیہ کے چاول آٹا ٹیل دال شکر چاءپتہ وغیرھم پر مشتمل راشن پانی پیکٹ ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ نہ صرف بھٹکل شہر بلکہ پاس پڑوس کے دیہات جنگلات کے مزدور پیشہ انتہائی پس ماندہ مزدور پیشہ ھندو علاقوں کے مکینوں میں بھی، سرکاری گاڑیوں سے، تحصیلدار کے ہاتھوں راشن پانی تقسیم کر، اس منافرتی سنگھی ماحول میں بھی، بھٹکل مجلس اصلاح و تنظیم نے انسانیت کی بنیاد پر راشن پیکٹ تقسیم کر، نہ صرف برادران وطن میں، بلکہ حکومتی ایوانوں میں بھی داد تحسین وصول کی ہے

بھٹکل کے اسمبلی حلقہ کے ہوناور روشن محلہ والوں کی گوہاڑ پر، مجلس اصلاح و تنظیم والوں نے، چالیس ہزار روپے نقد انہیں ارسال کرتے ہوئے، مقامی طور راشن خرید کر، علاقے میں، تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اب چونکہ روشن محلہ تنظیم کی طرف سے امداد پہنچنے کی خبر پھیلتے ہی، شراوتی ندی کے آس پاس والے اسمبلی حلقہ کے دور دراز مسلم علاقہ والے بھی، مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف نظریں جمائے ہماری امداد کے منتظر بیٹھے ہیں۔اسمبلی و مرکزی انتخابات کے مواقع پر، مجلس اصلاح و تنظیم کے اجتماعی فیصلوں کی قدر کرتے ہوئے، اور تنظیم کے اجتماعی فیصلے کی لاج رکھتے ہوئے، تقریبا صد فیصد اپنے ووٹ یکطرفہ تنظیم کی تائید والے امیدوار کے حق میں ہی، اپنی حق رائے دہی کرنے والے غریب مسلم مزدور پیشہ علاقوں کی بھی دستگیری کرنا، یقینا ہم اہل بھٹکل والوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ علاوہ ازیں شہر بھٹکل کے اطراف بسے مختلف ذات برادری کے غریب ھندو مزدور بستیوں میں،انسانیت کی بنیاد پر، انکی تکلیف کے وقت راشن پانی تقسیم کرتے ہوئے، سنگھیوں کے اشاروں پر ناچنے والے، پچھڑی جاتی یومیہ مزدور طبقہ کو، ان پر پڑنے والے سنگھیوں کے اثرات بد کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، مذہبی منافرت والے ناگفتہ حالات میں ، سنگھیوں کے اشاروں پر، ہم پر اٹھتے ہاتھوں کو اپنے حسن اخلاق سے ایک حد تک روک سکتے ہیں
ایسے میں پورے اسمبلی حلقہ میں غرباء و مساکین کی انسانیت کی بنیاد پر دادرسی کرتے ہوئے،سنگھیوں کے، بتنظیم کو بدنام کرتے تناظر میں، مجلس اصلاح و تنظیم کا نام روشن کرنے کے، بہترین موقع پر بھی،بعض مفاد پرست اپنی انانیت کی تسکین کے لئے، مجلس اصلاح و تنظیم کے ماتحت آزاد اداروں کو، ایسے رفاعی کاموں کے لئے، آگے کر، گویا مجلس اصلاح و تنظیم کے وقار کو مجروح کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے ناگفتہ مذہبی منافرتی ماحول میں بھی، ہمارے اپنے درمیان والے فعال ادارے کی موجودگی میں، حکام و علاقے کے غیر مسلم بھائیوں میں بھی، مرکزی مجلس اصلاح و تنظیم کے ماتحت رفاعی کام کرنے یاکروانے کے بجائے، ڈیڑھ انچ کی اپنی اپنی مساجد تعمیر کئے جیسا، الگ الگ اداروں کے نام سے،نئے اداروں کو درمیان میں لانا صحیح بھی ہے یا نہیں ارباب حل وعقل دانش قوم سمجھ سکتے ہیں۔اوپر بعد افراد ذاتی طور پر صاحب حیثیت افراد سے چندے اوصول کرتے ہوئے،اپنے طور غرباء و مساکین کی خدمت کرنے والے بھی، گویا دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کی افادیئت کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔اس لئے التماس عام ہے کہ بھارت کے مذھبی منافرتی سنگھی حکومتی پرفتن ماحول ہم مسلمین کو، کسی بھی بہانہ سے ،ہمہ وقت بدنام کرتے پس منظر میں، ہم میں، پہلے سے موجود مرکزئیت کو پارہ پارہ کرنے کی کسی بھی قسم کی کوشش کو، تقوئیت پہنچانے سے گریز کریں۔آج بھارت کے اکثر و بیشتر حصوں کے مسلمین میں بھی بلا تفریق مذہبی اختلافات کے، محبت اخوت والی مرکزئیت قائم کرنے کی جہاں کوششیں ہورہی ہیں، ہمارے علاقے کے مرکزی ادارے کی مرکزئیت کو توڑنے والی طاقتوں کا سد باب وقت کی اہم ضرورت ہے۔وما علینا الا البلاغ*
*ممبئی شہر کی ایک تعلیم یافتہ با پردہ خاتون نے، خود اپنی نگرانی میں ، مایانگری ممبئی شہر کے،کورونا حکومتی لاک ڈاؤن تناظر میں،بے روزگار ہوئے یومیہ مزدوروں کو پکا پکایا کھانا کھلانے کی شروعات کرتے ہوئے، آج روزانہ کم و بیش ایک لاکھ بے روزگاروں کو دو وقت کا ترکاری کھانہ بغیر مذہبی تفریق کے کھلاتے ہوئے نہ صرف مہاراشٹرا بلکہ مرکزی سنگھی حکومت کی داد تحسین اوصول کررہی ہے بلکہ عالم کے اس کورونا وبا تناظر میں انسانی امداد کی اسلامی مثال قائم کئے ہوئے ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس کورونا قہر کہرام میں، ترپتی انسانیت کی، اپنی اپنی صلاحیت سے خدمت کرنے والوں کے جذبہ ایثار و قربانی کو، قبول کرتے ہوئے، ماہ مبارک ماہ صیام اپنی عبادات سے،دنیا وآخرت سنوانے کی توفیق ہم تمام مسلمین کو عطا کرے۔آمین فثم آمین۔

اس سلسلے میں ہمارا لکھا اور طبع یوا مضمون تفصیل پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک کھول کر فیس بک پر ہڑھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading