نئی دہلی:دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسودیا کے اسپیشل ڈیوٹی افسر یعنی او ایس ڈی گوپال کرشن مادھو کو سی بی آئی نے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد سیاسی گلیارے میں خوب ہنگامہ برپا ہے۔ گرفتاری کے بعد منیش سسودیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی)نے ان کے دفتر میں تعینات جس افسر کو رشوت لیتے گرفتار کیا ہے اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
دراصل سی بی آئی نے گوپال کرشن مادھو کو جمعرات کی دیر رات اشیا اورخدمات ٹیکس(جی ایس ٹی)کے ایک معاملے کو نمٹنانے کے سلسلے میں دو لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔ اس سلسلے میں آج منیش سسودیا نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ کیا جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’مجھے پتہ چلا ہے کہ سی بی آئی نے ایک جی ایس ٹی انسپکٹر کو رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔یہ افسر میرے دفتر میں بطور او ایس ڈی تعینات ہے۔سی بی آئی کو اسے فوراً سخت سے سخت سزا دلانی چاہئے۔ایسے کئی بدعنوان افسر میں نے خود پچھلے پانچ سال میں پکڑائے ہیں۔‘‘
मुझे पता चला है कि सीबीआई ने एक GST इन्स्पेक्टर को रिश्वत लेते हुए गिरफ़्तार किया है. यह अधिकारी मेरे ऑफ़िस में बतौर OSD भी तैनात था. सीबीआई को उसे तुरंत सख़्त से सख़्त सजा दिलानी चाहिए. ऐसे कई भ्रष्टाचारी अधिकारी मैंने ख़ुद पिछले 5 साल में पकड़वाए है.
— Manish Sisodia (@msisodia) February 7, 2020
گوپال کرشن مادھو کی گرفتاری کے بعد افسروں نے بتایا کہ انھیں سی بی آئی ہیڈکوارٹر لے جایاگیا،جہاں ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نے یہ گرفتاری ایسے وقت میں کی ہے جب ہفتے (8 فروری) کو دہلی میں ووٹنگ ہونی ہے۔ مادھو کی گرفتاری کے بعد بی جےپی نے عآپ کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ بی جےپی نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’منیش سسودیا کا او ایس ڈی رشوت لیتے گرفتار کیاگیا ہے۔وہ سسودیا کے دفتر میں 2015سے تعینات تھا۔جی ایس ٹی کے معاملے میں 2 لاکھ روپے کی رشوت لیتےو ہوئے سی بی آئی نے گرفتار کیا۔اس سے پہلے رشوت لینے کی کل رقم 10لاکھ روپے طے ہوئی تھی۔‘‘
मनीष सिसोदिया का OSD रिश्वत लेते हुए गिरफ्तार किया गया…
सिसोदिया के कार्यालय में 2015 से तैनात था,
जीएसटी के केस में 2 लाख रुपये रिश्वत लेते हुए सीबीआई ने गिरफ्तार किया। 10 लाख की कुल रक़म तय हुई थी।
ऐसे व्यापारियों का शोषण कर रही थी AAP की सरकार…
केजरीवाल ने चुप्पी साधी! pic.twitter.com/5oXa4k9TJx
— BJP Delhi (@BJP4Delhi) February 7, 2020
بی جےپی کا کہنا ہے کہ عآپ حکومت اس طرح سے تاجروں کا استحصال کر رہی تھی اور دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے ابھی تک اس معاملے میں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ بی جےپی کے میڈیا ترجمان پورین شنکر کپور نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’منیش سسودیا جی کیوں بلا وجہ ایک او ایس ڈی کو بدنام کررہے ہو۔ وہ بے چارہ تو آپ کے الیکشن کےلئے چندہ کر رہا تھا۔ آپ بدعنوانی پر اتنے سخت تھے تو آپ کو پانچ سال تک پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ کے دفتر میں کھٹمل ہے۔‘‘
دہلی میں بی جےپی ترجمان اور ہری نگر سے پارٹی کے امیدوار تجندر پال سنگھ بگا نے بھی گوپال کرشن مادھو کی گرفتاری کے بعد اس تعلق سے ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’منیش سسودیا کا او ایس ڈی رنگے ہاتھوں پیسے لیتے پکڑا گیا اور اس سے بڑا بدعنوانی کا ثبوت اور کیاہوگا۔میں الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو