ممبئی16اکتوبر (یواین آئی ) ممبئی سمیت مہاراشٹر میں متعدد ایسے اسمبلی حلقے ہیں ،جن کے رائے دہندگان اگر بہتر اور منصوبہ بند انداز میں حق رائے دہی کا استعمال کریں تو کسی بھی پارٹی کے اقلیتی امیدوار اسمبلی کے ایوان میں آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک غیرجانبدار تنظیم نے ممبئی سمیت تقریباً 14 اسمبلی انتخابی حلقوں کا جائزہ لیا اور اس کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ ان حلقوں سے اقلیتی امیدواربا آسانی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
مذکورہ انتخابی سروے کے روح رواں اور ایک کالج میں لیکچرار ریحان انصاری کے مطابق ممبئی کے متعدد حلقوں کے ساتھ ساتھ بھیونڈی بھی اس فہرست میں شامل ہے جوکہ ممبئی کا ایک نزدیکی اسمبلی حلقہ ہے اور اسمبلی میں مسلم نمائندگی کے لیے مشہورہے۔ ان اسمبلی حلقوں میں تقریباً 2.5 لاکھ اہل ووٹرز ہیں، لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ آبادی کا نصف حصہ ہی الیکشن کے روز ووٹنگ کے لیے ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر آتا ہے۔ممبئی کے شمال مغربی اسمبلی حلقہ ورسوا میں جوکہ ایک متمول علاقہ ہے ووٹنگ محض 39 فیصد ہوئی ہے اور ممبئی شہرمیں زیادہ سے زیادہ 55 فیصدووٹنگ بائیکہ اسمبلی حلقہ میں ریکارڈ ہوئی ہے۔ممبئی میں متعددحلقوں میں سیکولر امیدواروں کو بی جے پی سے شکست کا سامنا کرنا پڑااور فرق کافی کم رہا ہے۔
دراصل دیگر سیکولر پارٹیوں کے اتنے امیدوارمیدان میں اترگئے کہ یہ اہم سیکولرپارٹیوں کے امیدواروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اتحاد پر مشتمل بڑی سیکولر پارٹیاں ہیں جوکہ اگر جنوبی ہند کی ایم آئی ایم اور شمالی ہند کی سماجوادی پارٹی(ایس پی) جیسی چھوٹی جماعتوں کے استھ انتخابی سمجھوتہ کرلیں تو یہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔فی الحال ممبئی میں سات اسمبلی کامیاب ایم ایل اے کا تعلق سیکولر پارٹیوں سے ہے اور اگر منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے اقدام کیے جائیں تو موجودہ 7 جیتنے والوں کی تعداد 14 سے تجاوز ہوسکتی ہے۔اس کے لیے کسی بھی سیکولرپارٹی کے امیدوار کا انتخاب کیا جائے اور یکطرفہ ووٹ دیا جائے تو اس کی کامیابی یقینی ہے۔ریحان انصاری کا خیال ہے کہ اگر موجودہ اوسطاً 50 فیصدپولنگ کا فیصد 5سے 10بڑھایا جائے تو سیکولرامیدوار کو آسانی سے کامیابی مل سکتی ہے۔
بلکہ ایسے حلقہ جیت کے ضامن ہوں گے۔ اس کے لیے عوام کومناسب انداز میں ووٹ دینے کے لیے بیداری پیدا کی جائے تاکہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم روکی جاسکے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ چھوٹی سیکولر جماعتیں کانگریس کے امیدواروںکو نقصان پہنچاتی ہے اور فی الحال پانچ حلقوں میں یہی ہونے والا ہے ، ان حلقوںمیںایم آئی ایم کے امیدوار میدان میں ہیں ،ایم آئی ایم نے 2014 میں یہاں سے انتخاب نہیں لڑا تھا۔ ایسے میں ایک دوسرے کی حمایت کو یقینی بنانا ہے۔
فی الحال جنوبی ممبئی میں ممبادیوی حلقہ سے کانگریس کے امین پٹیل ،بائیکلہ سے ایڈوکیٹ وارث پٹھان ،دھاراوی حلقہ سے کانگریس کی ورشا گائیکواڑ، چاندولی حلقہ سے سابق وزیراور اسمبلی کے ڈپٹی لیڈر عارف نسیم خان اور مالونی سے کانگریس کے ہی اسلم اور گوونڈی سے سماج وادی پارٹی کے ابوعاصم اعظمی کامیاب ہوئے تھے اور اب انہیں سخت آزمائش کا سامنا ہے۔کیونکہ دیگر چھوٹی سیکولر پارٹیوں نے بھی ہر ایک حلقے میں امیدوار میدان میں اتار دیئے ہیں۔