مسلمان چاہے مہاراشٹر کا ہو یا بہار کا ہمارے قائد شرد پوار نے ہمیشہ اقلیتوں کا دھیان رکھا ہے۔عبدالغفار ملک
بھیونڈی (شارف انصاری):بھیونڈی شہر ضلع راشٹر وادی کانگریس اقلیتی شعبہ کے زیر اہتمام گزشتہ کل منعقد ہونے والے پارٹی کارکنان اور عوام الناس کی ایک پر ہجوم میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ممبرا کلوا کے رکن اسمبلی شری جتیندر آہواڑ نے کہا کہ یہاں کی سڑکوںکی حالت دیکھ کر دل میں بار بار آیا کہ راستے سے ہی واپس چلا جاؤں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کارپوریشن الیکشن کے دوران میں نے موٹڑ سائیکل سے پورے بھیونڈی شہر کا دورہ کیا ہے یہاں کے سڑکوں کی حالت دوسال قبل جیسی تھی آج اس سے بھی بد تر ہے۔ممبرا کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوںنے سوال کیا کہ آپ لوگ کب بیدار ہوں گےاور آپ لوگوں میں بدلاؤ کب آئے گا؟بھیونڈی کے ہدٰی ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج ہال میں منعقد ہونےو الے اس جلسےمیں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات واضح کر دی کہ بجلی بل کی شرح ریاستی حکومت طے کرتی ہے ٹورینٹ کمپنی نہیں عوام کی پانچ بنیادی سہولیات ہوتی ہیں‘میں جتنے بھی مسلم حلقوں میں گیا جو کام ممبرا میں ہوا ہے ویسا کام کہیں نہیں ہوا۔مسلمانوں کے مختلف مسلکوں کے لئےپانچ ایکڑ قیمتی زمین قبرستان کے لئے دی ہے لیکن جذباتی سیاست کرنےوالوں نے مسلم قوم کو ہمیشہ گمراہ کیا۔ آج پورا ملک بھاجپا کے نرغےمیں ہے اس کے بعد آپ نہیں سمجھو گے تو پھر اس ملک کا اوریہاں کی عوام کا خدا ہی حافظ ہے۔ امت شاہ اور اکبر الدین اویسی کی مبینہ مشکوک کا تذکرہ کرتے ہوئے شری آہواڑ نے کہا کہ بھاجپا نے پہلےکانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا اب مسلمان مکت بھارت کا نعرہ دیا جا رہا ہے۔ان حالات میں ہم اگرمتحد نہیں ہوئے تو آخر کب ہونگے۔انھوںنےسپریم کورٹ میںحکومت کی مداخلت‘رافیل جہاز کی خریداری ہزاروں کروڑ روپیوں کا گھوٹالہ اور ریلائنس کو فائد ہ پہنچانے کی حکمت علمی کے نقصانات گنائے۔ انہوںنے رام مندر کے نام پر ہندؤں کو بے وقوف بنائے جانے کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ سوگند رام کی کھاتے ہیں مندر وہیں بنائیں گے ‘تاریخ نہیں بتائیں گے۔جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کی جاسوسی کرنے اورملک سے غداری کرنےوالے آج مسلمانوں سے وفاداری کی سند مانگ رہے ہیں۔آخر یہ فرقہ پرست لوگ مسلمانوں سے وفاداری کی سند مانگنے والے کون ہوتے ہیں۔سرجیکل اسٹرائک کے نام پر سینہ ٹھونکتے ہیںتو نوٹ بندی اگر ان کا کارنامہ ہے تواس کارنامے کا چرچا کیوںنہیں کرتے؟انہوں نے ہندوستان کےتمام شہریوںکو متنبہ کرتےہوئے کہا کہ آنےوالے چھ مہینوں تک ہم لوگوں کو اور بطورخاص مسلمانوں کو اپنا دماغ بہت ٹھنڈا رکھنا پڑےگا۔ آئندہ ہونے والے جنرل الیکشن کے لئے مہا گٹھ بندھن کی ضرورت اور اہمیت کی طرف اشارہ کرتےہوئے انہوں نے واضح طور پر کہا کہ راشٹروادی اور کانگریس کا گٹھ بندھن طے ہے اور جو بھی مودی کی سیاست سے پریشان ہیںوہ سب کے سب متحد ہونگے۔کہیںنہ کہیں سے فرقہ پرست طاقتیں اس سازش میںملوث ہیں کہ میرا قتل کر دیا جائے میں مرنے سےنہیں ڈرتا صرف اور صرف اللہ میرا محافظ ہے۔ڈاکٹر دھابولکر ‘پنسارے‘کلبرگی اور گوری لنکیش کو شہید کرکے ان فرقہ پرستوں کو کیا ملا؟ ملک کے اندر پھیلتی فرقہ واریت کے خلاف آخری سانس تک میں اپنی جنگ جاری رکھوں گا۔مہاراشٹر پردیش راشٹروادی کانگریس اقلیتی شعبہ کے ریاستی صدر شری عبدالغفار ملک نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس شہر کو ٹھوس نمائندگی کی اشد ضرورت ہے۔سیاست میں تعداد کی سب سےزیادہ اہمیت ہوتی ہےآپ کے ساتھ عوام کا جم غفیر ہوگا تو حکومت بھی آپ کے آگے جھکے گی۔سات آٹھ لوگ اربوں روپئے لیکر ملک سے فرار ہو گئے ۔ بیرون ملک سے کالا دھن لانے کا جھوٹا وعدہ کرنے والے ہمارے وزیر اعظم اس مسئلے پر آج تک خاموش ہیں ۔ایسی سرکارپرلعنت ہےجو کسانوں کا قرض معاف نہ کر سکے ‘غریبوں کی امداد نہ کر سکے ‘پڑھے لکھے بےکار نوجوانوں کو روزگار نہ دے سکے اور گئو رکھشا کےنام پر آئے دن نوجوانوں کا قتل ہوتا رہے ایسی حکومت کو ایک دن بھی اقتدار میں رہنے کا اخلاقی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹوپی پہننےمیں مودی جی کو شرم آتی ہے تو لال قلعہ سے تقریر کرنےمیں مودی جی کو شرم کیوں نہیں آتی اس لئے کہ لال قلعہ بھی تو ہمارے باپ دادا کا ہے۔ملک میں بڑھتی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے انھو ں نے کہا کہ آج پیٹرول ڈیزل اوررسوئی گیس کی قیمتیںآسمان چھو رہی ہیں ۔دیش کی ایکتا اور اکھنڈتا کو برباد کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں آئین میں کسی قسم کی تبدیلی قطعی برداشت نہیںکی جائے گی۔ تھانےضلع پریشد کے سابق نائب صدرعرفان محمد حسین بھورے نے کہا کہ گزشتہ کارپوریشن الیکشن میں راشٹر وادی کانگریس پارٹی صرف اس لئے ہاری کہ ہم نے بھیونڈی کی عوام کا اعتمادکھو دیا۔ایڈوکیٹ ساجد مومن کی قیادت میں یقینی طور پر این سی پی ایک طاقتورپارٹی بن کر ابھرے گی۔بھیونڈی کے ووٹروں نے کانگریس کو۴۷؍ کارپوریٹر دئیے اس لئے یہ ان کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں کی عوام کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے ۔ راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے ریاستی سکریٹری ایڈوکیٹ یٰسین مومن نے کہا کہ ۲۰۱۴ء میں جو الیکشن ہوا وہ تمام جھوٹے وعدوں پر ہوا۔ آج پورے ملک کی عوام خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ اس موقع پر بھیونڈی شہر راشٹروادی پارٹی اقلیتی شعبہ کے صدر ایڈوکیٹ ساجد مومن نے بھیونڈی کے جملہ مسائل کے حل کے لئے متحد ہونےاور راشٹر وادی کانگریس پارٹی سے جڑنے کی اپیل کی انہوں نے مزید یہ کہا کہ جناب عرفاب بھورےکی قیادت میں ہم لوگوں نے ایم ایل اے شری جیتندر آہواڈ کے سامنے بھیونڈی کے مسائل رکھے جن میں راستے ‘صاف صفائی کا فقدان ‘ٹورینٹ پاور کی زیادتی‘جھوٹے کیس اور مقدمے قائم کر کے لوگوں جیل بھیجنا وغیرہ شامل تھے۔انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راشٹروادی پارٹی کو طاقت دیںاسے مضبوط کریں تاکہ ہائی کمان سے ہم شہر کےمسائل کرنے کے لئے مضبوطی کے ساتھ اپنی دعوی داری پیش کر سکیں ۔اس موقع پر شری راجیش چوہان اور دیگر لوگوں نے بھی جلسے سے خطاب کیا ۔ اس تقریب میں دستخطی مہم کا بھی آغاز ہوا ۔جلسے میں اقلیتی شعبہ کےسابق صدر شکیل خان‘ایڈوکیٹ فیصل میمن‘ساجد انصاری‘جمیل ماما‘ایڈوکیٹ نسیم مومن ‘کامل کرنالے ‘وسیم خان ‘شکیل ونچو کے علاوہ کثیر تعداد میں مقامی اور بیرونی عمائدین شہر ‘خواتین نیز جناب عرفان بھورےکے ہمراہ مہاپولی گرام پنچایت کے بلامقابلہ منتخب تمام اراکین اسٹیج پر موجود تھے۔ جلسےکی کامیاب نظامت خالدبیتاب نے بحسن وخوبی ادا کی۔