
آج عالم بھر میں 60 سے زیادہ ملکوں میں اردو ڈبنگ کے ساتھ دکھائے جانے والے،سات سو سال قبل کے زندہ کردار پر مشتمل، سو سال قبل تک، عالم کے ایک بہت بڑے حصہ پر حکومت کررہے خلافت عثمانیہ کے آباء و اجداد کی حقیقی زندگانی کے ‘جہدجنون جہاد اسلامی ‘ کی داستان کو درشاتے، مملکت ترکیہ کے مشہور ڈرامہ سیریل ‘ارتغرل غازی’ کی غیر معمولی عالمی پذیرائی نے،3 سال قبل لکھے اپنے مضمون کو، معمولی اضافی جملوں کےساتھ، ایک مرتبہ پھر ہمارے اردو قارئین کے ذہن و افکار کےحوالے کرنے کو دل چاہتا ہے.
ایک وقت تھا راجہ دہر کی زمام حکومت والے سندھ کی جیل میں، ایک مسلم بیوہ پر ظلم ہوتا ہے، اور اس کی آہ بکاہ،کچھ عرصہ بعد، گوش درگوش اڑتی ارتی، اس وقت کی سوپر پاور، مملکت اسلامیہ عالم کے دار الخلافہ عراق میں، حجاز بن یوسف کے ایوانوں میں، گونجتی سنائی دیتی ہے۔ 16 سالہ محمد قاسم کی سپہ سالاری میں گھڑ سوار اور پیدل افواج، عراق سے ہزاروں میل دور، دشمن اسلام کو تہہ و تیغ کرنے نکل کھڑی ہوتی ہے، اور زمانہ شاہد ہے، اس زمانہ حال کے لاسلکی دور میں، جہاں نہ صرف آپس کی سرگوشیان لاکھوں میل دور سنائی دیتی ہے، بلکہ سر گوشیاں کرنے والے، ایک دوسرے کو سامنے موبائل و لیپ ٹاپ اسکرین پر ایک دوسرے کو دیکھ کر، محظوظ بھی ہورہے ہوتے ہیں، جہاں جدت پسند طائران آہن، ہزاروں افواج کو، تباہ کن آلات حرب جدید کے ساتھ، ہزاروں کلومیٹر کی مسافت،چند گھنٹوں میں طہ کرادیتے ہوں، جہاں برقی شعاؤں اور برقی آلات کے بل پر، کمپیوٹر اسکرین پر نگاہ رکھتے ہوئے، ہزاروں میل دور اھداف کو تباہ کرنے والے، زور آور،الات حرب (ڈرون و میزائل ٹیکنولوجی) نے ، نیزہ و تلوار والی دست بدست جنگ کو اب، بے معنی سا بناکر رکھ دیا ہو، اس دور جدید سے ہزار سال قبل ایک مسلم بیوہ کی آہ بکاہ پر، ہزاروں میل دور سے، پیدل و گھڑ سوار نکلی افواج، نہ صرف راجہ دہر کے سندھ کو فتح کرلیتی ہے، بلکہ ھند کی زمین کے مختلف مملکت وسلطنت نیز ملحد ساکنان ھند کے قلوب و ذہن ، اپنے اخلاق حسنہ سے فتح کرتے کرتے، نصف سے زاید ہند پر، اسلامی دارالخلافہ کے پرچم لہراچکے ہوتے ہیں۔
زمانہ حال نے اس دور فتن کا بھی مشاہدہ کیا ہے کہ یہود و نصاری کی ریشہ دوانیوں کے شکار بن، جب مسلمانوں نے "تعلیم عصر جدید” اور "تعلیم دینیہ” میں تفریق کرتے ہوئے، اپنی اکثریت کو، جنت کے حصول کے دھوکہ میں، مسجدوں مدرسوں اور مقبروں یا درگاہوں کی قباوں میں مقید کر، اللہ اللہ کی ضربوں میں مگن و مست کر دیا ہے اور علم عصر جدید حاصل کرنے والوں کو ابن الحرام اور بنت الحرام کے تمغوں سے نوازنا شروع کردیا ہے، تو مسلمانوں کے تلووں کے زیر نگین بچھی رہنے والی دنیا نے، اپنے ہی آگےمسلمانوں کو سرنگوں کردیا ہے۔ مسلمانوں نے دین و دنیا کی تفاوت کو اپنا کر، اپنا مقام و رتبہ کیا کھویا، اقوام عالم کے سامنے، ھیج تر بن کر،ہم رہ گئے ہیں.
دنیا نے، ان نظاروں کو بھی دیکھا کہ مسلمان کا خون، خون انسان نہ رہا، مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جاتا رہا اور تیل کی دولت سے مالا مال مسلم حکمرانوں کے کانوں تک جوں بھی نہ رینگ پائی۔ افغانستان عراق لیبیاء سوریہ یمن و برما میں لاکھوں مسلمان شہید کئے جاتے رہے ،لاکھوں مسلم بہنوں کی عزتوں کو تاراج کیا جاتا رہا، لاکھوں مسلم گھرانوں میں مولود ننھی کلیوں کو مسلا جاتا رہا، وہیں پر، ان جنگ زدہ تباہ حال مسلم ممالک کی باز آباد کاری کے نام سے، عالم پر حکمرانی کرنے والے مسیحی و یہودی حکمران ، تیل سے مالا مال مسلم حکمرانوں کی دولت کو لوٹتے رہے اور مسلمانوں کی دولت کے ایک حصہ کو، ان تباہ حال مسلم حکومتوں میں باز آباد کاری کے بہانہ خرچ کرتے ہوئے، اپنے مسیحی افکار ان بدحال مسلمانوں میں پیوست کرتے رہے.
جب جب بھی دنیا کے کسی خطہ میں مسیحی آبادی پر وہاں کی مسلم آبادی بھاری پڑی, چاہے وہ انڈونیشیا ہو کہ سوڈان، مسیحی حکمرانوں نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے اور عالمی اقدار کا حوالہ دیکر اپنی مسیحئیت کے دعویداروں کی، ایسی پشت پناہی کی، کہ مسلم مملکتوں کی سر زمین سے، مشرقی تیمور اور شمالی سوڈان جیسی مسیحی ریاستوں کو وجود بخشا گیا کہ جیسے، ہزار سال قبل مسلم دار الخلافہ عراق سے، مسلمانوں کی پشت پناہی کی جاتی رہی تھیں۔
تیل کی دولت سے مالا مال عرب حکمرانوں کو دنیا جہاں کی عیش عشرت میں مگن و مصروف کرتے ہوئے، اور انہیں آپس میں لڑواتے ہوئے، ان سے دولت اینٹھی جاتی رہی اور ملکی دہشت گردی (اسٹیٹ ٹیررزم) کے خاتمہ کے نام پر، مسلمانوں پر ظلم و انبساط توڑے جاتے رہے، اور مسلمان اپنی بے بسی پر تلملاتے ہی رہ گئے۔
یہود و نصاری نےاقوام عالم کو زیر نگین کرنے کے لئے، ایک طرف یوروپین یونین قائم کرتے ہوئے، اور ناٹو مشترکہ افواج تشکیل دیتے ہوئے، بزور قوت اقوام عالم، خصوصا مسلم حکمرانوں کے ناکوں میں نکیل ڈال کر، انہیں قابو میں رکھنے کی سعی کی گئی، تو دوسری طرف اقوام متحدہ ادارہ قائم کرتے ہوئے ،اور انسانیت کے خود ساختہ اقدار خود وضع کرتے ہوئے، اقوام عالم ہی کو اپنا زیر نگین کہ غلام بنانے میں کامیاب رہے۔اور مسلمان، یہود و نصاری کی سازشوں کا شکار بنتے ہوئے، دنیا میں رہتے، مسجدوں مدرسوں اور خانقاہوں کی قباوں ہی سے، دوزخ سے آمان اور والی جنت کے پروانے تقسیم کرتے ہوئے،اپنے مکتبہ فکر ہی کو حق پر اور باقی تمام مکتب فکر کو ضالین پر منتج کر، ان کے خلاف کفر کے فتوے باٹنے میں ہی مگن و مصروف و شادمان رہے۔
ایک ایسے جدت پسند دور فتن میں، جب مسلم دنیا نےافغانستان، عراق، لیبیاء، سوریہ، یمن، جیسی طاقت ور ترین مملکتوں کو یہود و نصاری کے، "علم عصر جدید” کی شہہ زوری پر مزین ،انکے آہنی پرندوں (فائیٹر جیٹ) کے ہاتھوں، تباہ و ہلاک ہوتے پایا، لاکھوں مسلم صنف نازک کی عصمتوں کو تار تار ہوتے ، اور اپنے مسلم بھائیوں کے جسموں کو گولیوں، بموں سے چھیتڑوں میں تبدیل ہوتے، فضاء میں منتشر ہوتے پایا،اور یہ سب ٹیلیوزن متحرک اسکرین پر، بہ عینہی مسلم امہ نے دیکھا تو مایوسیوں میں، اپنے آپ کو جکڑا پایا۔ایسے پر فتن دور میں امید کی کرن صرف اور صرف ترک زمام حکومت پر ہی اٹھ رہی ہے۔جسکی خلافت عثمانیہ کو، صد سال قبل یہود و نصاری کی عالمی عسکری قوتوں نے، سو سالہ لوزین عقد میں باندھتے ہوئے، چھ سو سالہ کامیاب خلافت عثمانیہ کو جدت پسند ترقی پذیری سے سو سال تک روکے، پابند عقد عالم رکھا ہوا ہے۔جن مختلف شروط کے تحت،پابہ سلاسل،کل کے خلافت عثمانیہ کے دعویدار مملکت ترکیہ کو، جو 2023 عقد عالم یہود و نصاری سے آزاد ہوا چاہتا ہے، جس کے سر براہ رجب طیب اردغان نے عالم کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں پر ہوتے، مظالم کے خلاف آواز اٹھا کر، مسلمانان عالم کو اپنی طرف متوجہہ کرلیا ہے۔ مملکت سعودیہ کے نئے سربراہ سلمان بن سعود نے، اقوام عالم کے طاقت ور ترین حکمراں، صدر آمریکہ سے دوران ملاقات،اپنے رب دو جہاں کی، تکبیر آذان صلاة کے سنتے ہی، انہیں شش و پنج یک و تنہاں چھوڑ، رب حقیقی کی دعوت پر لبیک کہتے چلے جانے کے عمل نے، مسلمانان عالم کو اپنے تابناک ماضی کی طرف پلٹ چلنے کی آہٹ کو محسوس کرنے پر مجبور کردیا ہے۔زمانہ نے یہ بھی دیکھا کہ، ایک منظم سازش کے تحت خلافت عثمانیہ کے آخری مستقر، ترک دار الحکومت کو تاراج کر، نہ صرف ان سے "زمام امامت عالم اسلام” چھینی گئی تھی بلکہ انہیں بزور قوت، ملحد اور اسلام دشمنی پر ابھار کر، یورپ کی رنگینیوں میں، ضم کرنے کی سعی بھی کی گئی تھی، انقلاب ترک پر صد سال بیتنے سے قبل ہی، اسی سرزمین سے،مرد مجاہد، رجب طیب اردغان کی شکل، اسلام کی تیز و تند روشنی کے پو پھوٹنے دکھائی دینے نے، مفلوک الحال مسلمانان عالم میں، اپنے تابناک ماضی کے پلٹ آنے کی ایک مدھم امید جگائی ہے۔
مسلمانان عالم کی نگاہیں بیک وقت ترک و سعودیہ پر جمی ہوئی ہیں۔ شاہ سلمان و رجب طیب ارغان کی قربت و صلاح و مشورہ نے، ناٹو کی طرز پر عرب ممالک کی متحدہ افواج کو ایک پرچم تلے، مسلمانان عالم کے دفاع کے لئے ترتیب دینے پر ابھارا ہے، اور دنیا نے مشاہدہ کیا ہے کہ کس طرح ان متحدہ مسلم افواج نے، یہود و نصاری و رافضی شازشوں کے، یمن کے راستہ حرمیں شریفین پر بڑھتے قدموں کو کامیابی کے ساتھ روکتے پایا ہے۔*
جمہوریہ اسلامیہ پاکستان کی مسلح افواج کے متقاعد (ریٹائیرڈ) کمانڈر ان چیف، جنرل راحیل شریف کے، اپنے دور اقتدار، تمام تر عیوب دنیوی سے پاک، کیریر نے، 39 ممالک اسلامیہ کی متحدہ افواج کی سربراہی کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر پائی ہے۔ ہمہ وقت مختلف الجہتی محاذ جنگ پر، مصروف حرب رہے، کسی جرنیل کی، ناٹو کے طرز پر قائم 39 ممالک اسلامیہ کی متحدہ افواج کی سر براہی (کمانڈ) آجانے نے، مسلمانان عالم کو ایک مرتبہ پھر اپنے تابناک و روشن مستقبل کے روشن دریچوں میں جھانکنے اور اسی طرز کے روشن مستقبل کی طرف محو پرواز ہونے کی امید جگائی ہے۔ اللہ کرے کہ، وہ تابناک مسلم حکمرانی کے ماضی کی جھلکیوں میں، ایک نئے روشن اور محفوظ مستقبل کی طرف، یہ مسلم امہ، اپنے ذہن و افکار میں اثاث دین کو پیوست پاتے ہوئے، علم عصر جدید کو، اپنے ہاتھ میں تھامے، "زمام حکومت عالم” کو اپنے زیر نگین پائے۔ انشاءاللہ جب کوئی قوم اپنے تابناک ماضی کے چھروکوں کو اپنے گلو میں لئے، علم عصر حاضر کو،اپنے میں محلول کئے، ایک منظم منصوبہ کے تحت، آگے بڑھتی ہے تو، اس سے زمام حکومت کو چھین پانا، یہود و نصاری کے لئے اتنا آسان نہ ہوگا۔انشاءاللہ
مسلمانان عالم کے موجودہ سربراہ، خادم الحرمین ملک سلمان بن آل سعود کے دست مبارک سے تمغات سے مزین سربراہ افواج مسلم امہ کی سالاری، نہ صرف جنرل راحیل شریف اور مملکت پاکستان، بلکہ مشرقی خطہ کے تمام مسلمانوں کے لئے باعث تفخیر ہے ۔ رب دو جہاں، مالک الملک، رحمان ورحیم، غفار و قہار، بارگاہ ایزدی سے دعا ہے کہ افغانستان سے سربراہ عالم، صاحب امریکہ کے، "بڑے ہی بے آبرو ہوکر، تیرے کوچے سے ہم نکلے ” تمثیل پس منظر میں، اس کورونا متعدی وبا کو ایک منظم سازش کے تحت، عالم بھر پھیلاتے ہوئے، اقوام متحدہ اور اسکی ذیلی صحت عامہ والی تنظیم عالمی ادارة صحت، نیز یہود و ہنود و نصاری کی عالمی میڈیا کی 24/7 منظم نشریات سے، پورے عالم کے دو سو کے قریب آزاد ملکوں، مملکتوں کی کم و بیش 750 ارب انسانیت کو،ڈر اور خوف کے ماحول میں جکڑتے ہوئے، اپنے ون آرڈر ‘حکم دجالیہ یہود’ پر عمل پیرا رہنے پر مجبور کرتے تناظر میں، امامت عالم کی دعویداری کی دوڑ میں، تقریبا پورے عالم کو اپنے معشیتی عنکبوتی جال میں، پہلے سے جکڑے ہوئے چائینا کے، صاحب امریکہ سے دعویداری عالم کی سربراھی چھینتے پس منظر میں، 2023 بعد اپنی پوری آب و تاب سے ابھرنے والے، ترکیہ، پاکستان، ایران، مصر، سعودیہ،انڈونیشیا، ملیشیا، و نومولود آزاد مسلم ممالک روس و مسلم ممالک افریقہ پر مشتمل، یہ اسلامی قوت، ناٹو طرز قائم،ان 39 ممالک اسلامیہ کے اس فوجی اتحاد و اس وقت، قوت بازوئے دم پر مختلف مسیحی ملکوں کے درمیان بھی، بنتے بگڑتے رشتوں کے پس منظر میں، عالمی سر براہی عالم کا تاج، کس کے سر سجایا جاتاہے یہ تو آنے والا وقت ہی بنائے گا، لیکن ایک بات جو طہ ہے زوال خلافت عثمانیہ بعد، اس ایک صد سالہ زندگی میں، مسلم امہ نے جس خجالت و پزمردگی میں دن کاٹے تھے، اس سے پرے،سر اٹھاکر،ہزار سال قبل کے خلافت راشدہ والے توقیرئیت و افتخارئیت والے دن پلٹ آتے ضرور رکھتے ہیں۔ ایسے میں،اس کورونا متعدی وبا کے مارے، اس ماہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں بھی،مسجد اقصی و حرمین شریفین بشمول،عالم بھر کی اپنی مساجد والی اجتماعی تراویح میں، لحن داوؤدی سے فضاؤں میں بکھرنے والی، آیات تلاوت قرآنی سے محروم، 190 ارب ہم مسلمین کے، شب قدر کی برکات کو سمیٹتے، رمضان المبارک کی طاق راتوں میں، عالم بھر کے مسلمین و مومنیں کی، خلوت والی آہ و زاری کی سسکیوں کے فضاء میں ضم ہوتے پس منظر میں، بارگاہ مالک دو جہاں سے یہ دعا ہے کہ، اب کے بعد ہم مسلمانوں میں،ارتغرل غازی ،صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی جیسے مرد مجاہد، سر فروشان اسلام کو ہم میں پیدا کردے کہ ہم میں وہ خلافت راشدہ یاکہ خلافت عثمانیہ والی مجایدانہ حرارت جاگے، بلکہ اب کہ بعد مسلم امہ کو کسی اور خطہ ارض پر یہود و نصاری کی سازشوں کا شکار بن، اپنی بے کسی کا ننگا ناچ نہ دیکھنا پڑے۔ آمین ثم آمین