مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بھیما-کوریگاؤں معاملہ پر ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھیما-کوریگاؤں کیس مرکزی حکومت کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایلگر پریشد معاملہ اور بھیما-کوریگاؤں معاملہ 2 الگ الگ چیزیں ہیں۔ بھیما-کوریگاؤں معاملہ دلتوں سے متعلق ہے اور اس سلسلے میں جانچ مرکزی حکومت کو نہیں دی گئی ہے اور اسے مرکز کو سپرد کرنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ مرکز نے ایلگر پریشد معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔
Maharashtra CM Uddhav Thackeray: Elgaar Parishad case&Bhima Koregaon case are 2 different cases. Bhima Koregaon case is related to my Dalit ppl & the probe related to the case yet not given to Centre&it will not be handed over to Centre. Centre has taken over Elgaar Parishad case pic.twitter.com/AFv6xNSFKt
— ANI (@ANI) February 18, 2020
ادھو ٹھاکرے نے میڈیا کو بتایا کہ ’’دلت بھائیوں کا معاملہ بھیما-کوریگاؤں سے جڑا ہوا ہے۔ میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ ہم دلتوں کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دیں گے۔ ایلگر پریشد اور بھیما-کوریگاؤں معاملہ آپس میں جڑا ہوا نہیں ہے اور برائے کرم کسی طرح کی غلط فہمی کو نہ پھیلایا جائے۔‘‘
این آر سی کے معاملے پر بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے میڈیا کے سامنے اپنا نظریہ رکھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر این آر سی نافذ کیا جاتا ہے تو یہ صرف ہندو اور مسلمانوں کو ہی متاثر نہیں کرے گا بلکہ قبائلیوں کو بھی متاثر کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرکز نے این آر سی کے متعلق اب تک کوئی قدم نہیں بڑھایا ہے۔ این پی آر اور این آر سی کو جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ این پی آر مردم شماری ہے اور میں نہیں مانتا کہ اس سے کوئی منفی اثر پڑے گا، کیونکہ یہ ہر دس سال میں ہوتا ہے۔
دوسری طرف این سی پی نے بھیما-کوریگاؤں معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شرد پوار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ پولس اہلکاروں کے رویہ پر شبہ ہے، اس لیے اس معاملے میں پولس کے کردار کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو