نئی دہلی، یکم فروری (یو این آئی) مرکزی بجٹ چھوٹی اقتصادی سطح پر سب کی شمولیت والی بہبود پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مجموعی اقتصادی سطح کی نمو میں تعاون فراہم کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے ۔ خزانہ اور کمپنی امور کی وزیر محترمہ سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں 23-2022 ء کا مرکزی بجٹ پیش کیا ۔
بجٹ کی نمایاں جھلکیاں درجِ ذیل ہیں :
ہندوستان کی اقتصادی نمو کا تخمینہ 9.2 فی صد کے بقدر کا لگایا گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ بڑی معیشتوں میں سب سے اعلیٰ مقام کی حامل معیشت ہو گی ۔
14 شعبوں میں پیداواریت سے منسلک ترغیباتی اسکیم کے تحت 60 لاکھ نئے روز اور فراہم کرائے جائیں گے ۔
پی ایل آئی اسکیم کے اندر اضافی 30 لاکھ کرو ڑروپئے کے بقدر کی پیداوار کی صلاحیت فراہم کرنے کے مضمرات پنہا ہیں ۔
امرت کال میں داخل ہوتے ہوئے ، 25 طویل برسوں نے بھارت کو @ 100 پر پہنچا دیا ، بجٹ چار ترجیحات کے ساتھ نمو کو مہمیز فراہم کرے گا ۔
پی ایم گتی شکتی ۔
شمولیت پر مبنی ترقی ۔
پیداواریت میں اضافہ اور سرمایہ کاری ، نئے مواقع ، توانائی کا تغیر اور موسمیاتی کارروائی ۔
سرمایہ کاریوں کے ذریعے سرمایہ بہم رسانی ۔
پی ایم گتی شکتی
پی ایم گتی شکتی کے ساتھ محرک ذرائع ، سڑکیں ، ریلوے ، ہوائی اڈے ، بندر گاہیں ، عوامی نقل و حمل ، آبی راستے اور لاجسٹکس بنیادی ڈھانچہ ہیں ۔
پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان
پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کا دائرۂ کار اقتصادی تغیر ، سقم سے مبرا کثیر پہلوئی کنکٹیویٹی اور لاجسٹکس کی اثر انگیزی کے لئے سات ذرائع پر احاطہ کرے گا ۔
قومی بنیادی ڈھانچہ پائپ لائن میں سات ذرائع سے متعلق پروجیکٹ ایسے ہوں گے ، جنہیں پی ایم گتی شکتی فریم ورک سے مربوط کیا جائے گا ۔
سڑک نقل و حمل
قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو 23-2022 ء میں 25000 کلو میٹر کی وسعت دی جائے گی ۔
قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کی توسیع کے لئے 2000 کروڑ روپئے کی رقم بہم پہنچائی جائے گی ۔
کثیر پہلوئی لاجسٹکس پارکس چار مقامات پر کثیر پہلوئی لاجسٹکس پارکوں کے نفاذ کے لئے 23-2022 ء میں پی پی پی موڈ کے توسط سے ٹھیکے دیئے جائیں گے ۔
ریلویز
مقامی کاروبار اور سپلائی چینوں کی امداد کے لئے ایک وَن اسٹیشن وَن پروڈکٹ کا نظریہ ۔
ریلوے کے نیٹ ورک کے تحت 200 کلو میٹر کے راستوں کو کوچ کے تحت لایا جائے گا ، یہ اندرون ملک تیار کردہ عالمی درجے کی ٹیکنالوجی اور صلاحیت پر مشتمل ہو گا ، جس 23-2022 ء کے دوران عمل میں لایا جائے گا ۔
400 نئی پیڑھی کی وَندے بھارت ریل گاڑیاں آئندہ تین برسوں کے دوران مینو فیکچر کی جائیں گی ۔ کثیر پہلوئی لاجسٹکس کے لئے 1000 پی ایم گتی شکتی کارگو ٹرمنل آئندہ تین برسوں کے دوران وضع کئے جائیں گے ۔
پروَت مالا
پی پی پی موڈ کے تحت نیشنل روپ وے ترقیات پروگرام پروت مالا کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا ۔
60 کلو میٹر کی طوالت پر مشتمل روپ وے کے 8 پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کے لئے 23-2022 ء کے دوران ٹھیکے دیئے جائیں گے ۔
شمولیت پر مبنی ترقی
زراعت
گیہوں اور دھان کی حصولیابی کے لئے 1.63 کرو ڑکاشت کاروں کو 2.37 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر کی براہ راست ادائیگی ۔
ملک بھر میں کیمیاوی اشیاء سے مبرا کاشت کاری کو فروغ دیا جائے گا ۔ ابتدائی مراحل میں کاشت کار کی زمینوں پر پانچ کلو میٹر چوڑے گلیارے دریائے گنگا کے کنارے فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔
نبارڈ کو زراعت اور دیہی صنعتوں کے لئے اسٹارٹ اَپ کے سلسلے میں پونجی فراہم کرنے کے اختیارات دیئے جائیں گے ۔
فصلوں کے تجزیے ، زمینوں کے ریکارڈ کی ڈجیٹل شکل تیار کرنے ، کیڑے مکوڑوں کو فنا کرنے کے لئے ضروری دواؤں کے چھڑکاؤ اور تغذیہ بہم پہنچانے کے لئے کسان ڈرون فراہم کئے جائیں گے ۔
کین بیتوا پروجیکٹ
کین بیتوا لنک پروجیکٹ کے لئے 1400 کروڑ روپئے کے تخمینہ جاتی اخراجات فراہم کئے جائیں گے ۔
کاشت کاروں کے 9.08 لاکھ ہیکٹیئر کے بقدر اراضی کو کین بیتوا لنک پروجیکٹ سے فائدہ حاصل ہو گا ۔
ایم ایس ایم ای
اُدیم ، ای – شرم ، این سی ایس اور اسیم پورٹلوں کو باہم مربوط کیا جائے گا ۔
130 لاکھ ایم ایس ایم ای اداروں کو ایمرجنسی کریڈٹ لنک گارنٹی اسکیم ( ای سی ایل جی ایس ) کے تحت اضافی قرض فراہم کرائے گئے۔
ای سی ایل جی ایس کی توسیع مارچ ، 2023 ء کی جائے گی ۔
ای سی ایل جی ایس کے تحت ضمانتی احاطے کی توسیع ۔ مجموعی 5 لاکھ کرو ڑروپئے تک 5000 کرو ڑروپئے کے ذریعے کی جائے گی ۔
بہت چھوٹی اور چھوٹی صنعتی اکائیوں کے لئے 2 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر اضافی قرض ۔ کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ برائے بہت چھوٹی اور چھوٹی صنعتوں ( سی جی ٹی ایم ایس ای ) کے لئے فراہم کرائے جائیں گے ۔
6000 کروڑ روپئے کے منصوبہ جاتی اخراجات سے سرمایہ بہم رسانی اور ایم ایس ایم ای کار کردگی پروگرام متعارف کرایا جائے گا ۔
ہنر مندی ترقیات
ہنر مندی اور روزی روٹی کے لئے ڈجیٹل ایکو نظام ( ڈیش – اسٹیک ای – پورٹل ) کا آغاز شہریوں کو آن لائن تربیت کے ذریعے ہنرمند، از سر نو ہنر مند یا ہنر مندی کو بہتر بنانے کے لئے جائے گا ۔
اسٹارٹ اَپ اداروں کو ڈرون شکتی اور ڈرون بطور خدمت ( ڈی آر اے اے ایس ) کو فروغ دینے کے لئے آگے لایا جائے گا ۔ ؎
تعلیم
پی ایم ای – ودیا کا کلاس I کا ایک ٹی وی چینل پروگرام 200 ٹی وی چینلز پر دکھایا جائے گا۔
تنقیدی سوچ کی مہارت اور سیکھنے کے موثر ماحول کو فروغ دینے کے لئے ورچوئل لیبارٹری اور اسکل ای – لیب کا قیام۔
ڈیجیٹل اساتذہ کے ذریعے پڑھانے کے لئے اعلیٰ معیار کا ای – مواد تیار کیا جائے گا۔
انفرادی تعلیم کے لئے عالمی معیار کی تعلیم کا حامل ڈیجیٹل وشو ودیالیہ قائم کیا جائے گا۔
صحت
نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ ایکو سسٹم کے لئے کھلا پلیٹ فارم شروع کیا جائے گا۔
معیاری ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور دیکھ بھال کی خدمات کے لئے نیشنل ٹیلی مینٹل ہیلتھ پروگرام شروع کیا جائے گا۔
23 ٹیلی مینٹل ہیلتھ سینٹرز کا نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ اس کا نوڈل سنٹر نمہنس ہوگا اور ٹیکنالوجی کی مدد انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی بنگلور (آئی آئی آئی ٹی بی ) فراہم کرے گی۔
سکشم آنگن واڑی
مشن شکتی، مشن واتسلیہ، سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے ذریعے خواتین اور بچوں کو مربوط فوائد فراہم کئے جائیں گے۔
دو لاکھ آنگن واڑیوں کو قابل آنگن واڑیوں میں اپ گریڈ کیا جائے گا ۔
ہر گھر نل سے جل
ہر گھر، نل سے جل کے تحت، سال 23-2022 ء میں 3.8 کروڑ خاندانوں کا احاطہ کرنے کے لئے 60,000 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔
سب کے لئے رہائش
پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت سال 23-2022 ء میں 80 لاکھ مکانات کو مکمل کرنے کے لئے 48 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔
شمال مشرقی خطے کے لئے وزیر اعظم کا ترقیاتی اقدام
شمال مشرق میں بنیادی ڈھانچے اور سماجی ترقی کے منصوبوں اور فنڈنگ کے لئے نئی اسکیم پی ایم – ڈیوائن شروع کی گئی۔
اس اسکیم کے تحت، نوجوانوں اور خواتین کو روزی روٹی کی سرگرمیاں شروع کرنے کے قابل بنانے کے لئے ابتدائی طور پر 1500 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔
متحرک گاؤں کا پروگرام
وائبرنٹ ولیج پروگرام شمالی سرحد پر سرحدی دیہاتوں کی ترقی کے لئے ، جن میں کم آبادی، محدود رابطے اور انفراسٹرکچر ہے۔
بینکنگ
100 فی صد 1.5 لاکھ ڈاک خانوں کو مرکزی بینکنگ سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔
شیڈولڈ کمرشل بینک 75 اضلاع میں 75 ڈیجیٹل بینکنگ یونٹس (ڈی بی یو ) قائم کریں گے۔
ای پاسپورٹ
ایمبیڈڈ چپ اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ای – پاسپورٹ متعارف کرائے جائیں گے۔
شہری منصوبہ بندی
بلڈنگ بائی لاز کی جدید کاری، اربن پلاننگ پلان، ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ کو لاگو کیا جائے گا۔
شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لئے بیٹری کی تبدیلی کی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔
زمینی ریکارڈ کا انتظام
زمینی ریکارڈ کے آئی ٹی پر مبنی انتظام کے لئے منفرد زمینی پارسل شناختی نمبر۔
فوری کارپوریٹ اخراج
سینٹر فار پروسیسنگ ایکسلریٹڈ کارپوریٹ ایگزٹ (سی – پی اے سی ای ) کمپنیوں کی تیزی سے انخلاء کے لئے قائم کیا گیا ہے۔
اے وی جی سی انہانسمنٹ ٹاسک فورس
اس شعبے کی صلاحیت کو تلاش کرنے کے لئے اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ اینڈ کامک ( اے وی جی سی ) انہانسمنٹ ٹاسک فورس کا قیام۔
ٹیلی کام سیکٹر
پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو اسکیم کے ایک حصے کے طور پر 5 جی کے لئے ایک مضبوط ایکو سسٹم قائم کرنے کے لئے عوامی مفاد کی مینوفیکچرنگ کی اسکیم۔
برآمدات کا فروغ
اسپیشل اکنامک زونز ایکٹ کی جگہ ایک نئی قانون سازی کی جائے گی تاکہ ریاستوں کو کاروباری اداروں اور سروس سینٹرز کی ترقی میں شراکت دار بننے کے قابل بنایا جاسکے۔
دفاع میں خود انحصاری
23-2022 ء میں گھریلو صنعت کے لئے مختص کیپٹل پروکیورمنٹ بجٹ 68 فی صد ہے، جو 22-2021 ء کے 58 فی صد سے زیادہ ہے۔
ڈیفنس ریسرچ ڈویلپمنٹ کو 25 فی صد ڈیفنس ریسرچ ڈیولپمنٹ بجٹ کے ساتھ انڈسٹری اسٹارٹ اپس اور اکیڈمی کے لئے کھولا جائے گا۔
جانچ اور سرٹیفیکیشن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک آزاد کلیدی احاطہ ادارہ قائم کیا جائے گا۔
نئے مواقع
مصنوعی ذہانت، جغرافیائی نظام اور ڈرون، سیمی کنڈکٹرز اور اس کے ماحولیاتی نظام، خلائی معیشت، جینومکس اور فارماسیوٹیکل، سبز توانائی اور صاف نقل و حرکت کے نظام جیسے نئے مواقع میں تحقیق اور ترقی کے لئے حکومتی تعاون فراہم کیا جائے گا۔
انرجی ٹرانزٹ اور کلائمیٹ ایکشن
2030 ء تک نصب شدہ 280 گیگا واٹ شمسی توانائی کے ہدف کو حاصل کرنے کی غرض سے اعلیٰ کارکردگی والے شمسی ماڈیولز کی تیاری کے مقصد سے پیداوار سے منسلک مراعات کے لئے 19,500 کروڑ روپئے کا اضافی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
تھرمل پاور پلانٹس میں 5 سے 7 فی صد بائیو ماس پیلٹس فائر کئے جائیں گے۔
سی او 2 کی سالانہ بنیاد پر 38 ایم ایم ٹی کی بچت
کسانوں کے لئے اضافی آمدنی اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع۔
اس سے کھیتوں میں بھوسے کو جلانے کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
صنعت کے لئے کوئلے کی گیسی فیکیشن اور کوئلے کو کیمیکلز میں تبدیل کرنے کے لئے چار پائلٹ پروجیکٹ شروع کئے جائیں گے۔
زرعی جنگل بانی کو اپنانے والے درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے تعلق رکھنے والے کسانوں کو مالی امداد۔
عوامی پونجی سرمایہ کاری
23-2022 ء میں نجی سرمایہ کاری اور طلب کو بڑھانے کے لئے عوامی سرمایہ کاری کو جاری رکھنا۔
23-2022 ء میں سرمائے کے اخراجات کا تخمینہ 35.4 فی صد سے بڑھ کر 7.50 لاکھ کروڑ روپئے ہو گیا ، جو موجودہ سال میں 5.54 لاکھ کروڑ روپئے تھا۔
سال 23-2022 ء میں خرچ جی ڈی پی کا 2.9 فی صد ہوگا۔
23-2022 ء میں مرکزی حکومت کے موثر سرمایہ خرچ کا تخمینہ 10.68 لاکھ کروڑ روپئے ہے، جو کہ جی ڈی پی کا تقریباً 4.1 فی صد ہے۔
جی آئی ایف ٹی – آئی ایف ایس سی
گفٹ سٹی میں عالمی معیار کی غیر ملکی یونیورسٹیوں اور اداروں کی اجازت ہوگی۔
بین الاقوامی عدالتی دائرۂ اختیار کے تحت تنازعات کے بروقت حل کے لئے ایک بین الاقوامی ثالثی مرکز قائم کیا جائے گا۔
وسائل کی بہم رسانی
ڈیٹا سینٹرز اور انرجی اسٹوریج سسٹم کو انفراسٹرکچر کا درجہ دیا جائے گا۔
وینچر کیپیٹل اور پرائیویٹ ایکویٹی نے پچھلے سال 5.5 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی اور سب سے بڑے اسٹارٹ اپ اور ترقی کے ایکو سسٹم میں سے ایک کو سہولت فراہم کی۔ اس سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
نئے شعبوں کے لئے مرکب سرمائے کو فروغ دیا جائے گا۔
گرین انفراسٹرکچر کے لئے وسائل کو متحرک کرنے کی خاطر خودمختار گرین بانڈز جاری کئے جائیں گے۔
ڈجیٹل روپیہ
23-2022 ء میں ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے ڈجیٹل روپیہ متعارف کرایا جائے گا ۔
ریاستوں کو بڑی مالی گنجائش فراہم کرنا
سرمایہ کاری کے لئے ریاستوں کو مالی امداد کی اسکیم کے لئے زیادہ خرچ:
یہ تخمینہ بی ای میں 10,000 کروڑ روپئے تھا ، جسے موجودہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ میں بڑھا کر 15,000 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔
سال 23-2022 ء میں ریاستوں کی معیشت کو مجموعی طور پر فروغ دینے کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپئے مختص کرنا ، 50 سال کا بلا سود قرض فراہم کرنا، جو عام قرض کے علاوہ ہے۔
ریاستوں کو 23-2022 ء میں جی ایس ڈی پی کے 4 فی صد کے مالیاتی خسارے کی اجازت دی جائے گی، جس میں سے 0.5 فی صد کو پاور سیکٹر میں اصلاحات کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
مالیاتی انتظام
بجٹ تخمینہ 22-2021 ء : 34.83 لاکھ کروڑ روپئے
نظرثانی شدہ تخمینہ 22-2021 ء : 37.70 لاکھ کروڑ روپئے
سال 23-2022 ء میں کل تخمینہ جاتی اخراجات: 39.45 لاکھ کروڑ روپئے
سال 23-202 ء میں قرضوں کے علاوہ مجموعی حصولیابیاں: 22.84 لاکھ کروڑ روپئے
رواں مالی سال میں جی ڈی پی کا 6.9 فی صد مالیاتی خسارہ (بی ای میں 6.8 فی صد کے مقابلے)
مالیاتی خسارے کا تخمینہ سال 23-2022 ء میں جی ڈی پی کا 6.4 فی صد ہے۔