مخصوص طبقے کے خلاف زہر افشانی، فسادات کروانے کا ارادہ۔ 

پونے کے سمست ہندو آگھاڑی کے ملند ایکبوٹے پر بلآخر کیس درج۔۔۔۔مراٹھا سیوا سنگھ اور سنبھاجی بریگیڈ کے پونے کے ستیش بھاسکر کاڑے کی شکایت۔۔۔

پونے(محمد مسلم کبیر) 2/ مارچ 2021 کو پونے شہر کے کونڈوا علاقے میں سمست ہندو آگھاڑی کے کارگزار صدر ملند رماکانت ایکبوٹے نے بلا جواز ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کو جمع کر کے مخصوص طبقے کے خلاف زہر افشانی کرکے بہوجن سماج میں فسادات کروانے کی کوشش کی۔جو پونے شہر کے پر امن ماحول میں زہر گھول کر جانی و مالی نقصان کروانے کا ارادہ کر رہا ہے۔اس کے خلاف مراٹھا سیوا سنگھ اور سنبھاجی بریگیڈ کے پونے ضلع کے نائب صدر ستیش بھاسکر کاڑے نے کونڈھوا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی۔اس شکایت میں اُنہوں نے کہا ہے کہ ملیند اکبوٹے نےکونڈھوا میں غیر مجاز اجتماع کرتے ہوئے اپنی زہریلی تقریر میں کہا کہ۔۔
"کونڈھوا میں حج ہاؤس کی تعمیر کا کام پونے میونسپل کارپوریشن نے شروع کیا ہے، یہ انتہائی حیرت زدہ اور حیران کن ہے،کونڈھاوا منی پاکستان ہے،یہاں دہشت گردوں کا ایک سلیپ سیل موجود ہے ، جیسا کہ سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی نے اطلاع دی ہے،پونے کے شہریآن کے تحفظ کو مسمار کرنے والا ایک انتہائی گھناؤنا فیصلہ میونسپل کارپوریشن نے لیا ہے عوام کی ترقی کے لئے جس رقم کی توقع کی جارہی تھی وہ رقم ہاؤس کی تعمیر پر خرچ ہوگی، میونسپل انتظامیہ نے حج ہاؤس کے لئے 4 کروڑ روپئے مختص کیے ہیں، میونسپل کمشنر نے امنیٹی حلقے میں فلاحی و ثقافتی مرکز کے نام پر حج ہاؤز بنانے کا راستہ اختیار کیا ہے،سپریم کورٹ کے مطابق انتظامیہ کی منظوری کے بغیر کوئی مذہبی مقام تعمیر نہیں کیا جائے، تاہم ،کارپوریشن نے اسے ثقافتی مرکز قرار دے کر دھول پھینک کر کے سپریم کورٹ کی توہین کی ہے،تمام ہندو محاذ اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے،چھترپتی شیواجی مہاراج کے قدموں کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ،میونسپل انتظامیہ کا حج ہاؤس کی تعمیر کا ارادہ کامیاب نہیں ہونے دینگے .
جے شری رام!” مراٹھا سیوا سنگھ اور سنبھاجی بریگیڈ کے پونے ضلع کے نائب صدر ستیش بھاسکر کاڑے(47) نے کونڈھوا پولیس اسٹیشن میں درج شکایت میں کہا ہے کہ سمست ہندو آگھاڑی کے کار گزار صدر ملند رماکانت ایکبوٹے کی یہ تقریر مذہبی اور نسلی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے کے ساتھ ساتھ مذہب کے نام پر ایک سنگین جرم ہے۔ایک ہتک عزت آمیز بیان دیا گیا ہے۔اسی طرح یہ بیان پونے میں امن کو خراب کرنے کے ارادے سے دیا گیا ہے خاص طور پر کونڈھوا علاقہ فرقہ وارانہ فسادات کا باعث بنے لہٰذا اس معاملے میں ملند رماکانت ایکبوٹے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ بہوجن سماج میں جان بوجھ کر فساد کروانے اور نسلی و مذہبی فسادات کرکے لوگوں کو مالی نقصان پہنچانے کے ارادے سے لوگوں کو متحد کیا، اس نے قومی اتحاد کو بلاجواز طور پر روکنے اور بد امنی پھیلا کر کسی مخصوص مذہب کو بدنام کرنے کی سازش کی ہے۔ ملزم نے تقریر کو فسادیوں کو دہشت گردی پر ورغلانے کے ارادے سے فلمایا ہے اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا ہے۔اس نے پونے میونسپل کمشنر کو بھی جارحانہ متن بھجوایا ہے۔،شیواجی نگر، پونے کا رہنے والا ملزم ملند ر ماکانت ایکبو ٹے نے شیواجی مہاراج اور دیگر بڑے رہنماؤں کا نام لے کر اُنہیں بدنام کرنے اور منظّم طور پر فرقہ ورانہ فسادات کی دھمکی دی ہے۔
مراٹھا سیوا سنگھ اور سنبھاجی بریگیڈ کے پونے ضلع کے نائب صدر ستیش بھاسکر کاڑے(47) نے کونڈھوا پولیس اسٹیشن میں درج شکایت پر ملزم
ملند رماکانت ایکبوٹے کے خلاف شکایت رجسٹر میں213/2021 کے میں تعزیرات ہند کی دفعات
153، 153-A،153- B, 295-A، 289،500،501،502،505(1)(c)، 505(2)، 120-B، 34، 66(A)، 66(B)
لگائے گئے ہیں

فسادات کے ماسٹر مائنڈ ملند ایکبو ٹے کے خلاف مستقل کاروائی کی جائے۔۔۔۔ انجم انعامدار

ملند ایکبو ٹے پچھلے کئی سالوں سے مسلم مخالف جذبات کے ساتھ کام کر رہے ہیں ، اگر ہم اس شخص کی گذشتہ 30 سالوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہے کہ وہ پونے ضلع اور مہاراشٹر میں ہندو اور مسلم فسادات کا سبب بن رہا ہے۔ وائی، ستارا اور بھیما کورے گاؤں کے فرقہ وارانہ فسادات میں بھی اس کا بڑا ہاتھ ہے۔ پونے کے مول نیواسی منچ کے صدر اور سماجی جہد کار انجم انعامدار نے ہمارے نمائندے سے کہا کہ وہ ہمیشہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی غلط تاریخ بتا کر مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا کام کرتا ہے۔
سماجی جہد کار انجم انعامدار نے مطالبہ کیا کہ پولیس، بھیما کورےگاؤں فسادات،سانگلی،میرج فسادات کے ماسٹر مائنڈ ملند ایکبو ٹے کے خلاف مستقل کاروائی کرنی چاہئے۔_________

فرقہ پرست اور فسادیوں کے خلاف فوری کارروائی ہو۔۔ حسین دلوائی

سمست ہندو آگھاڑی کے ورکنگ صدر ملند ایکبوٹے نے ایک بار پھر پونے کے علاقے کونڈوا میں مسلمانوں پر توہین آمیز حملہ کیا ہے اور سما جی اتحاد کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں ، سمھباجی بریگیڈ کے نائب صدر ،ستیش کالے اور بریگیڈ کے دیگر ممبروں نے پونے کے کونڈھوا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔ ملند ایکبوٹے اور سمبھا جی بھیڈے ہمیشہ ہی سماج میں عدم اطمینان پیدا کرنے اور فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس واقعے کے انکشاف ہونے کے بعد بھی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی جب سانگلی ، میرج ، ستارا میں وائی اور بھیما-کوریگاؤں فسادات میں یہ دونوں براہ راست اس کیس میں ملوث تھے۔یہ بات کہتے ہوئے مہاراشٹر کے سابق وزیر اور کانگریس قائد حسین دلوائی نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ شرجیل عثمانی کے حوالے سے حکومت کو صحیح فیصلہ کرنا چاہئے ، کسی کی مدد کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن انصاف کے بارے میں یکساں رویہ اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ دلوائی نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹرا حکومت پونے میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے کارروائی کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مہاراشٹر میں ہر روز فسادات پیدا کرنے کے لئے بہت کوششیں جاری ہیں۔لیکن مہاویکاس آ گھاڈی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اُنہیں کچھ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک ہی وقت میں ، سمھاجی بریگیڈ ، مراٹھا سیوا سنگھ جیسی تنظیموں کی تعریف کی جانی چاہئے کہ انہوں نے بر وقت فرقہ پرستوں کے خلاف اواز اٹھا کر اُن کے خلاف پولیس کارروائی بھی کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو بھی سابق ممبر پارلیمنٹ حسین دلوائی نے خط لکھا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading