محرم کے بغیر سفر حج پر رواں سال 2340 خواتین، لیکن مودی نے گمراہ کن دعوے کیوں کئے ؟

ہندوستان میں محرم (مرد ساتھی ) کے بغیر حج پر جانے کی اجازت ملنے کے بعد سال رواں 2340 خواتین تنہا سفر حج پر جانے کی تیاری میں ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلہ میں دوگنی ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے مطابق محرم کے بغیر حج پر جانے کیلئے کل 2340 خواتین کی درخواستیں ملیں اور سبھی کو منظور کرلیا گیا ۔

>ان خواتین کے رہنے ، کھانے ، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات کیلئے خصوصی سہولیات مہیا کرائی جائیں گی ۔ حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر مقصود احمد خان نے بتایا کہ اس مرتبہ کل 2340 خواتین محرم کے بغیر سفر حج پر جارہی ہیں ۔ جتنی بھی خواتین نے محرم کے بغیر سفر حج پر جانے کی درخواستیں دی تھیں ، ان سبھی کی درخواستوں کو قرعہ اندازی کے بغیر ہی قبول کرلیا گیا ۔

گزشتہ سال اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ اب انڈیا کی مسلمان خواتین بھی بغیر کسی محرم کے حج پر جا سکیں گیں۔
سنہ 2014 میں سعودی عرب نے اعلان کر دیا تھا کہ نئی حج پالیسی کے تحت 45 یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کوئی بھی خصوصی اہتمام کیے بغیر آزادی کے ساتھ حج کے لیے آ سکیں گی۔ اس میں صرف ایک ہی شرط تھی اور وہ یہ کہ ان خواتین کو گروپ کے ساتھ جانا ہوگا۔ اس کے علاوہ کہا گیا تھا کہ 45 سال سے کم عمر خواتین کے لیے بغیر اجازت نامے کے حج پر جانے کی پابندی عائد رہے گی۔

وزیراعظم نے اس بات پر حیرانی کا اظہار بھی کیا کہ آخر اب تک انڈیا میں رہنے والی مسلم خواتین کے پاس یہ سہولت پہلے کیوں نہیں تھی۔ انھوں نے اسے مسلمان خواتین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا اور پچھلے فیصلے کو ختم کر دیا۔

اس بارے میں سوشل میڈیا پر تنازع بھی پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا انھوں نے ممکن بنایا ہے اور اُس اقدام کا کریڈٹ لے رہے ہیں جس میں اصل میں سعودی عرب کا کردار ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 1300 خواتین نے درخواستیں دی تھیں۔ نئی حج پالیسی کے تحت گزشتہ سال 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کے حج پر جانے کیلئے محرم ہونے کی شرط ہٹادی گئی تھی ۔ محرم وہ شخص ہوتا ہے جس سے اسلامی شریعت کے مطابق خاتون کی شادی نہیں ہوسکتی ۔

تنازع کیوں؟

لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا انڈین حکومت 2014 سے پہلے یہ اقدام اٹھا سکتی تھی؟ تو جواب ہے نہیں۔

شاید اسی وجہ سے نریندر مودی پر گمراہ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے حیرانی کا اظہار کیا کہ ’آخر گذشتہ 70 برسوں میں حج پر جانے والی مسلمان خواتین کے ساتھ یہ نا انصافی کیوں ہوتی رہی؟‘

دوسری جانب جو لوگ اس فیصلے کے حق میں بات کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کم از کم سعودی عرب کی جانب سے حج پالیسی میں تبدیلی کہ بعد مودی حکومت نے یہ صحیح قدم تو اٹھایا۔

انڈین حکومت نے 2018 سے اس نئی حج سکیم کو نافذ کرانے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سفارشات میں یہ بھی شامل تھا کہ 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو بغیر کسی گروپ کے اکیلے حج پر جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

مودی حکومت نے گذشتہ سال اکتوبر میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ 2018 سے نافذ ہونے والی نئی حج پالیسی میں 45 یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو بغیر محرم کے حج پر جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

جس کے بعد مرکزی حکومت نے اس پانچ رکنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading