متنازعہ شہریت ترمیمی قانون ،این پی آر اور این پی آر کے خلاف ناندیڑ میں دھرنا آج نویں دن میں داخل

ناندیڑ20۔جنوری۔(ورق تازہ نیوز)متنازعہ شہریت ترمیمی قانون ،این پی آر اور این پی آر کے خلاف ناندیڑ میں دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر ناندیڑ کی آواز کے عنوان سے جاری بے مدت احتجاجی دھرنے کا آج 8 واں دن تھا ۔معمول کی طرح آج کا دن بھی لوگوں کی کثیر تعداد دھرنے میں شریک رہی ۔طے شدہ منصوبے کے مطابق آج کا دن اسرا نگر،چینیہ نگر ،نعمانیہ نگر و اطراف کے علاقہ کے لئے مختص کیاگیا تھا ۔

نماز فجر کے بعد ہی لوگ دھرنے میں شریک ہونے کے لئے نکل پڑے ۔کچھ ہی دیر میں دھرنے کا پنڈال مکمل طورپر بھر گیا ۔اسی طرح دوپہر کے خواتین کے سیشن کےلئے مدینہ نگر ،بلال نگر اور چوپالہ و اطراف کے خواتین کےلئے مختص کیا گیا تھا ۔ان علاقوں سے خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔۔آج 21 جنوری بروز منگل صبح 8 بجے سے دوپہر دو بجے اور شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک نئی آبادی ،مخدوم نگر ،لیبر کالونی کی عوام شامل ہونگے۔اس کے علاوہ دوپہر ڈھائی تا پانچ بجے پیر برہان اور پیر نگر کی خواتین اپنی شرکت درج کرائیں گی ۔

کل جماعتی تحریک کی جانب سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ جو لوگ اس احتجاج میں آج شامل ہورہے ہیں اپنے اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے دھرنے کے مقام دفتر ضلع کلکٹر پہنچے ۔ دھرنے میں حکومت مخالف نعروں کے علاوہ تقریریں اور ساتھ ہی ساتھ حب الوطنی پر مبنی ترانے ،گیت اور ڈرامہ پیش کیا گیا ۔انقلابی شاعری پر مبنی ترانے لوگوں کے لئے کافی دلچسپی کا سبب بن گیا ہے ۔ ناندیڑ کی آواز احتجاجی دھرنے میں روز بروز سماجی و ملی تنظیموں کے ذمہ داران شرکت اپنی تائید و حمایت کا اعلان کررہے ہیں ۔مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی یونائیٹیڈ جنرل سیکریٹری پروفیسر بھیارے اور ان کی ٹیم نے دھرنے میں شامل ہوکر اپنی تائید کا اعلان کیا ۔اس کے علاوہ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے قانون ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لایا گیا ہے ۔آ ج بھلے ہی مودی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ یہ قانون شہریت لینے کےلئے نہیں بلکہ دینے کےلئے ہے لیکن حقیقت یہ ہے جن حالات میں یہ قانون لایا گیاہے یہ اسی بات کا ایک ثبوت ہے کہ اس قانون کی مدد سے مسلمانوں کو نشانہ بناکر انہیں ملک بد رکرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم حکومت کی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔دھرنے میں آرسی سی باندھ کام مزدور سنگھ کے ذمہ داران ،کارپوریٹر بابو خان گتہ دار کے ہمراہ تمام یونین کے ذمہ داران نے شرکت کی ۔قدیم موندھا تاجران اسوسیشن کے ذمہ داران نے بھی دھرنے میں شرکت کی اور اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران کو یقین دلایا کہ اس تحریک کو اپنے انجام تک پہنچانے کےلئے ہرممکنا مدد کرنے کےلئے ہم تیار ہے ۔آج ۸ وے دن اسرا نگر چیتینہ نگر کے مقامی شہریوں کے علاوہ پرنٹنگ پریس اور اسٹیشنری اسوسیشن کے ذمہ داران نے رات دس بجے تک اس احتجاجی دھرنے میں شرکت کر اپنا احتجاج درج کرایا ۔دھرنے کے اختتامی سیشن میں کل جماعتی تحریک کے صدر مفتی ایوب قاسمی نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ یہ پیغام دیا کہ شہریت ترمیمی قانون کےخلاف شروع کیا گیا یہ احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ہمارے مطالبات کو پورا نہیں کرتی ۔ناندیڑ کی عوام کا انہوں نے شکریہ ادا کیا کہ آپ روزانہ کثیر تعداد میں شریک ہوکر دھرنے کو کامیابی کی طرف لے جارہے ہیں ۔کل جماعتی تحریک نے نہ صرف شہر میں بلکہ ضلع کے تمام تعلقوں میں لوگوں کو جوڑنے کا کام شروع کردیا ہے اس کے لئے روزانہ کسی نہ کسی ایک تعلقہ کا دورہ کیا جارہاہے اور وہاں کے لوگوں سے ملاقات کی جارہی ہے اور ان مقامات پر منعقدہ عمومی اجلاسوں میں خطاب کرہے ہیں اسی سلسلہ کے تحت آج کل جماعتی تحریک کے وفد نے مدکھیڑ کا دورہ کیا ۔وہاں ایک عمومی اجلاس سے خطاب کیا ۔واضح رہے کہ یہ احتجاج ناندیڑ کی تاریخ کا شاید پہلا ایسا احتجا ج ہوگا جو اتنے طویل دنوں تک جاری رہتے ہوئے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مرد وخواتین شرکت کررہے ہیں ۔احتجاجی دھرنے کولیکر شہر میں زبردست ماحول سازی ہوگئی ہے ۔لوگ اپنے اپنے محلے کے نمبر آنے کا بے صبری کے ساتھ انتظار کررہے ہیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading