کانگریس کی ضلعی صدور کی تقرریوں میں سماجی توازن کو ترجیح
تمام طبقات کو نمائندگی دے کر تنظیمی مہم کو نئی رفتار دینے کی کوشش
ممبئی: کانگریس پارٹی نے ریاست بھر میں جاری ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ کے تحت ضلعی صدور کی تقرریوں کا اعلان کرتے ہوئے سماجی توازن اور تمام طبقات کی نمائندگی کو خاص اہمیت دی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نئی تقرریاں مقامی سطح پر عوامی قبولیت، تنظیمی صلاحیت، سرگرم قیادت اور سماجی نمائندگی جیسے اہم نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں، تاکہ پارٹی تنظیم کو مزید مضبوط اور ہمہ گیر بنایا جا سکے۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ضلعی صدور کے انتخاب کے لیے ایک وسیع اور منظم عمل اختیار کیا تھا۔ پارٹی کی جانب سے مقرر کردہ سینئر مبصرین نے مختلف اضلاع میں کئی دن قیام کرتے ہوئے کانگریس کے عہدیداران، کارکنان، سابق لیڈروں، مقامی نمائندوں اور مختلف سماجی طبقات سے تفصیلی مشاورت کی۔ اس دوران ہر ضلع کی تنظیمی صورتحال، مقامی قیادت کی مقبولیت، عوامی رابطے اور پارٹی کو وسعت دینے کی صلاحیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ان تمام مشاورتوں اور رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی سفارشات کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے کی منظوری کے بعد حتمی شکل دی گئی، جس کے نتیجے میں ریاست بھر میں 69 ضلعی صدور کی تقرری کا اعلان کیا گیا۔
کانگریس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 ضلعی صدور کا تعلق اوپن زمرے سے ہے، جبکہ 22 عہدے او بی سی طبقے کو دیے گئے ہیں۔ اقلیتی طبقے سے 7، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے 7، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے 3، وی جے این ٹی طبقے سے 2 اور خواتین کو 3 اضلاع کی قیادت سونپی گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ کانگریس نے او بی سی طبقے کے مختلف سماجی گروہوں کو نمایاں نمائندگی دی ہے۔ آگری، دھنگر، کومٹی، کوشتی، کونبی، لیوا پاٹل، لنگایت، مالی اور تیلی برادریوں کے افراد کو ضلعی قیادت میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح درج فہرست ذاتوں کے زمرے میں بودھ، ماتنگ اور ہندو کھاٹک برادریوں کو نمائندگی دی گئی ہے، جبکہ مسلم سماج کو بھی اقلیتی طبقے کے تحت اہم مقام دیا گیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نئی تقرریوں میں تجربہ اور نوجوان قیادت کے امتزاج پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ مقرر کیے گئے ضلعی صدور کی اوسط عمر تقریباً پچاس سال ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس نے ایک طرف تجربہ کار قیادت پر اعتماد برقرار رکھا ہے تو دوسری جانب نئی نسل کو بھی آگے لانے کی کوشش کی ہے۔ اس تنظیمی مہم کے تحت ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مبصرین کو تعلقہ سطح تک تنظیمی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ مبصرین نے مختلف تعلقوں کا دورہ کرکے کارکنان، مقامی عہدیداران اور کانگریس کی مختلف محاذی و سیل تنظیموں سے ملاقاتیں کیں۔ اس جائزے کے بعد تعلقہ صدور، مختلف شعبہ جات، محاذوں اور سیل تنظیموں کے خالی عہدوں پر بھی تقرریوں کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
پارٹی کے مطابق ریاست بھر میں تقریباً سات ہزار نئے عہدیداران کی تقرری کا عمل جاری ہے اور اس کے لیے 26 سے 29 مئی کے درمیان ممبئی کے تلک بھون میں تربیتی کیمپ بھی منعقد کیا جائے گا، جہاں نئے عہدیداران کو تنظیمی امور، عوامی رابطوں اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ اس وسیع تنظیمی بازسازی کے ذریعے پارٹی نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ آنے والے سیاسی چیلنجوں کا مقابلہ تمام سماجی طبقات کو ساتھ لے کر کرے گی اور ریاست بھر میں اپنی تنظیمی بنیاد کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سرگرم ہے۔