ماہ صیام "لعلکم تتقون" کا ایک بہترین ذریعہ
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیئے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروں پر فرض کئے گئے تھے. اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی."(183) اس آیت کے ابتدا میں اللہ نے روزوں کی فرضیت کا اعلان کیا ہے اوراس اہم فریضے کا مقصد بھی آیت کے آخر میں" لعلکم تتقون"کے مفہوم میں بیان کیا ہے." لعلکم تتقون" کا ترجمہ مولانا مودودی رحمت اللہ علیہ نے تفہیم القرآن میں اس طرح کیا ہے" اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی" تفسیر ابن کثیر میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے "تاکہ تم بچ جاؤ"…… "تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو" (تفسیر احسن البیان) "تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ" "تاکہ تم ڈرو" (تفسیر فی ظلال القرآن) بہر کیف تراجم میں معمولی فرق ہے لیکن مفہوم واضح یہی ہے کہ ان دو لفظوں میں اللہ نے روزے رکھنے کا مقصد واضح کیا ہے. ان دو الفاظ میں اصل لفظ "تتقون "ہے جس کا مفہوم" پر ہیزگار بن جاؤ" ہے. تقویٰ اور پر ہیزگاری سے مراد اللہ سے ڈرتے ہوئے اللہ کی مرضی کے مطابق اور اس کے رسول کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرنے کو تقوی کہتے ہیں. اللہ سے ڈرنے اور اسکی بندگی کا صحیح شعور بندوں میں پیدا کرنے کا ایک وسیلہ روزہ ہے. اس ضمن میں فی ظلال القرآن میں مولانا سید قطب شہید لکھتے ہیں کہ "دراصل روزہ وہ راہ ہے جس کی آخری منزل تقویٰ ہے" انگریزی میں تقویٰ کے لئے "PIETY" کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا مفہوم پارسائی، خدا ترسی اور پرہیز گاری ہو تا ہے. مراٹھی زبان میں تقویٰ کے لئے "धर्मपरायण " اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ نے روزوں کو ایک خاص مہینے میں فرض کیا ہےاور وہ مہینہ ماہ رمضان ہے کیونکہ اس مہینے کی ایک بہت ہی با برکت والی رات شب قدرجس میں اللہ نے قرآن مجید کو نازل کیا. اس لئے اس مہینے میں روزوں کے ذریعے تقوے کا شعور اور قرآن کی اہمیت ان دونوں چیزوں کو اس مہینے میں شامل کر دیا گیا.مزید اس میں تیسری چیز یہ کہ اس مہینے میں نیکیوں پر ملنے والے اجر کا تناسب بھی بڑھا دیا گیا تاکہ بندوں میں نیکی کرنے کے جذبے کو تقویت ملے. اب یہ ہمارا اولین فرض بنتا ہے کہ ہم روزے سے تقویٰ حاصل کرے. روزے سے ہمارے اندر لعلکم تتقون کا شعور پیدا ہو. چند دنوں بعد یہ مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہو نے والا ہے اس لئے ہمیں آج سے یہ نیت کرنا چاہئے کہ ہم روزوں کے ذریعے تتقون کا شعور اپنے اندر پیدا کریں گے. اس ماہ مبارک میں ہماری قرآن سے گہری وابستگی بھی ضروری ہے. الحمدللہ تراویح کی نماز میں ہر سال ہمیں قرآن سننے کا شرف حاصل ہوتا ہے اور ہم میں سے کئی افراد ایسے بھی ہیں جو اس ماہ میں بڑی پابندی سے قرآن پڑھتے ہیں لیکن اسکے علاوہ ہمارے معاشرے میں ایک روایت یہ قائم ہو گئی ہے کہ لوگ صرف ناظرہ قرآن خوانی پرہی اکتفا کر لیتے ہیں. میں ناظرہ قرآن خوانی کی مخالفت نہیں کررہا ہوں لیکن ناظرہ قرآن پڑھ لینا ہی سب کچھ اور اصل مقصد نہیں ہے بلکہ ترجمہ اور تفسیر سے پڑھنا بہت فائدے مند عمل ہے. اگر ہم ترجمہ اور تفسیر سے پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ کتاب ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے. قرآن ہمارے لئے قانون الہی ہے اس لئے اس کی آیتوں کو سمجھ کر پڑھنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے ورنہ یہی قرآن روزمحشر میں ہم سے سوال کرے گا کہ میں تو ھدللناس بن کر آیا تھا لیکن تم نے مجھے صرف ایک ناظرہ خوانی کی کتاب بنا دیا. کچھ لوگوں کا یہ اعتراض ہے کہ قرآن کو سمجھنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ یہ علماء کا کام ہے. اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ٹھیک بات یے کہ صرف ترجمہ والی قرآن پڑھنے سے قرآن کو سمجھنے میں دشواری آسکتی ہے لیکن تفسیر قرآن تو آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے اور یہ علماء اکرام کی لکھی ہوئی ہوتی ہے جس میں آسانی سے آیتوں کا مفہوم تفسیر کے ذریعے سمجھایاجاتا ہے یعنی اگر ہم کوئی بھی تفسیر قرآن پڑھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو تا یے کہ ایک مفسر قرآن ہم کو قرآن سمجھارہا ہے. اس لئے اس ماہ مبارک میں قرآن کو سمجھ کر پڑھیں. اس کی آیتوں پر غوروفکر کریں اور سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے تو علماء اکرام سے رجوع کریں پھر دیکھئے آپکی زندگی میں کیسا انقلاب رونما ہو تا ہے اس لئے لعلکم تتقون کے تقاضے میں یہ بھی بات ضروری ہے کہ ہم اللہ کے کلام کو سوچ سمجھ کر پڑھیں اور عمل کریں. تتقون کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جس طرح ہم ماہ رمضان میں روزوں کی حالت میں کھانے پینے اور دیگر حلال چیزوں سے بچتے ہیں ٹھیک اسی طرح غیر رمضان میں بھی ہم حرام چیزوں سے اپنی حفاظت کریں. حضرت ابو ہریرہ رظ سے روایت ہے کہ آپ صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ روزہ ایک ڈھال ہے اس لئے (روزہ دار) نہ بے ہودہ گوئی کرے اور نہ جاہلانہ افعال.. اب یہ ڈھال جس طرح روزوں میں گناہوں سے ہماری حفاظت کرتی ہے اسی طرح عام دنوں میں بھی روزہ تتقون کی شکل میں ڈھال بن کر گناہوں سے ہماری حفاظت کرتاہے اور یہ ہمارا کام یے کہ اس ہتھیار کا ہم گناہوں سے بچنے کے لئے بحسن خوبی اس کا استعمال کریں. لیکن افسوس کہ جیسے ہی رمضان ہم سے وداع ہوتا ہے تو ہم اس ڈھال کو بھی اپنے آپ سے وداع کرلیتے ہیں اور اس طرح تتقون کا شعور ہم میں پیدا نہیں ہو پاتا. ہماری ملت کا تو المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی عید کی نماز ادا ہوتی ہے اسکے بعد تمام مسجدوں میں نمازیوں کی قلت پیدا ہو جاتی ہے. مسجدیں ویران ہو جاتی ہیں. رمضان میں جو روزےدار نمازوں کے پابند تھے وہ رمضان کے جاتے ہی ان کی نمازیں بھی رمضان کے ساتھ وداع ہو جاتی ہیں. بقول علامہ اقبال "مسجدیں مرثیہ خواں کہ نمازی نہ رہے" واللہ یہ کیسے نمازی اور کیسے روزےدار تھے جن کو ماہ رمضان نے پنچ وقتہ نمازی بھی نہ بنا سکا؟ کم از کم چند مہینے یا چند دن بھی ان پر روزوں کا اثر نہیں رہ سکا! کتنے رمضان ہماری زندگیوں سے گذر چکے ہیں لیکن امت کی ایک کثیر تعداد جو کئ برسوں پہلے بے نمازی تھی اب بھی بے نمازی ہے اور یہ تعداد گھٹی نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ نمازیوں میں اضافہ ہوا ہوگا لیکن متوقع اور مطلوبہ تعداد اب بھی نماز جیسی بنیادی عبادت سے لاپروہ ہے. روزہ تو ہم کو بے نمازی سے نمازی اور پر ہیزگار بنانے آتا ہے لیکن افسوس کہ ہم روزوں کی تربیت سے کم از کم پنچ وقتہ نمازی بھی بن نہیں پا رہے ہیں تو کیا ہم نے رمضان کے روزوں کو صرف لطف اندوزی کے لئے رکھا تھا؟ کیا اس مہینے کے لذیذ کھانے، افطار میں لذیذ پھلوں کی فراوانی اور مشروبات کے چسکوں نے ہمیں روزے رکھنے پر آمادہ کیا تھا؟ کیا صرف ہم کو اپنے روزوں سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوا ہوگا. اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ کتنے روزے دار ایسے ہیں جنہیں سوائے بھوک اور پیاس کے روزوں سے کچھ اور حاصل نہیں ہوتا. تو کیا ہمارا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے؟ کیا ہم بھی غیروں کی طرح رمضان کو ایک تہوار کے طور پر سلیبریٹ تو نہیں کر رہے ہیں؟ جس طرح دیگر قوموں میں اپنے مذہبی تہوار کو صرف لطف اندوزی اور موج مستی کے لئے منایا جاتا ہے. لیکن یاد رکھئے رمضان کے روزے ایک با مقصد عمل ہے جو روزےدار کے نفس کا تذکیہ کرکے اس میں بندگئ خدا کا شعور اور انسانی خیر خواہی کا انوکھا جذبہ بیدار کرتا ہے. ماہ رمضان چند ہی دنوں میں ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے اس لئے اس بار ہم ضرور یہ عزم کریں کہ ہم روزوں سے اپنے نفس کا تذکیہ کرکے تقوے کا شعور اپنے اندر پیدا کریں گے اور روزے کی آخری منزل تقوی کا حصول کریں گے انشاءاللہ ہم ضرور قرآن مجید کو ترجمہ مع تفسیر پڑھیں گے اور یہی عمل عام دنوں میں بھی جاری رکھیں گے. رمضان کی طرح عام دنوں میں بھی ہم نماز کی پابندی کریں گے. خیر خواہی کا جذبہ ہمیشہ برقرار رکھیں گےاور روزوں سے تتقون والی صفت جس کا تقاضا اللہ نے کیا ہے اپنے اندر پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کریں گے. انشاءاللہ. اللہ سے دعا ہے کہ وہ روزوں کے ذریعے ہم میں مکمل تقوے، پرہیزگاری اور بندگی کی صفت ہم میں پیدا کرے.. آمین… ڈاکٹر شیخ عتیق الرحمن مدرس ضلع پریشد ہائی اسکول تامسہ تعلقہ حدگاوں ضلع ناندیڈ پتہ : پٹیل سا میل نئ آبادی، اردھاپور ضلع ناندیڈ (مہاراشٹر) فون نمبر :9021314807