پابندی کے نام پر کچھ من مانی کرنے والے افسران نے شہر کو ‘بندھک’بنا کر رکھ دیا ہے : قائد نونسل سید علی اشرف
تھانے (آفتاب شیخ)
ممبرا میں گذشتہ کئی دنوں سے میونسپل کارپوریشن کے کچھ اہلکاران کی من مانی کے سبب سبزی منڈی، پھل، کرانہ اسٹور، مرغی وگوشت کی دوکانیں بند ہونے سے عام شہری کافی پریشان ہوگئے ہیں جس کو لیکر سوشل میڈیا پر جب واویلا مچا تو اہلکاران نے اپنا بیان بدل کر دوکانوں کو کچھ مختلف اوقات میں کھولنے کی اجازت دی ۔ ڈپٹی مونسپل کمشنر جوشی نے اسٹیڈیم میں کچھ صحافیوں کو طلب کر فوری طور پر اپنا ایک بیان جاری کرتے ہوئے کل سے دوکانیں کھلنے کا اعلان کردیا ۔ جوشی نے کہا کہ سبزی کی دوکانیں (اتوار، منگل اور سنیچرصبح 7 سے 11 بجے تک) گوشت ، مرغی (اتوار، بدھ اور جمعہ صبح 7 سے11 بجے تک)، کرانہ اسٹورس (روزانہ صبح 7 سے 11 بجے تک)، میڈیل اسٹورس (صبح 7 سے 11 اور شام 6 سے 10 ) باقی جنرل اسٹور، بیکری، میڈیکل اسٹور کو آن لائن بھی سامان گاہکوں تک بھیجنا ہوگا ۔
ممبرا میں مریضوں کی تعداد 5 سے 17 تک جاپہنچی ساتھ ہی شہر میں بنیادی و ضروری چیزوں کی قلت ہونے کے سبب واویلا مچنے لگا سوشل میڈیا پر میونسپل اہلکاران پر من مانی کرنے کا الزام عائد ہونے لگا یہاں تک کہ شہر کے سینئر لیڈر قائد نونسل سید علی اشرف (بھائی صاحب) نے بھی شہریوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا میں بیماری منڈلارہی ہے ہر کوئی اس سے پریشان ہے پوری دنیا میں اور پورے ملک لاک ڈاون ہے لیکن کیا پوری دنیا کی اور پورے ملک کی سبزی منڈیاں، پھل مارکیٹ، اسٹور، کرانہ اسٹورس بند ہیں؟ سید علی اشرف نے کہا پڑوس میں تھانے و اسکے رابوڑی علاقے میں سبزی منڈی کا کتنا اچھا نظم ہے ہرچیز کا سسٹم ہے ادھر بھیونڈی میں بھی سبزی منڈیا وقت پر کھل رہی ہیں اور زیادہ وقت کے لئے کھولنے سے وہاں بھیڑ نہیں ہوتی ہے ۔ سید علی اشرف نے کہا صرف ممبرا کو ہی پابندی کے نام پر بندھک بنا کر رکھ دیا گیا ہے یہ سراسر نا انصافی ہے اور اتنا ظلم ہوگا تو لاءاینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا ۔انھوں نے بتایا کہ اس متعلق انکی مقامی ایم ایل اے اور کابینی وزیر ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ سے بھی بات ہوئی جو کہ ان دنوں ھوم کورنٹین میں ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ بیماری کو دیکھتے ہوئے شیڈول بنایا جائے بازار کو کھولا جائے، دوکانوں کو کھولنے کاوقت اور انتظام کیا جائے سیکوریٹی بڑھائی جائے لیکن ایسا نہیں کوئی مریض دوا لینے کے لئے بھی نکلتا ہے تو پولیس والے بے تحاشہ پٹائی کرتے ہیں پھر چاہئے وہ بوڑھا ہو، عالم ہو کوئی ذمہ دار ہو لیکن وہیں فور ویلر گاڑیاں کالے شیشے چڑھا کر نکل جاتی ہیں انکی کوئی تلاشی پوچھ تاچھ نہیں کی جاتی سبزی کی دوکانیں لگانے کا ہائی پروفائل سوسائٹیوں میں اجازت ہے لیکن عام بستیوں میں نہیں ایسا کیوں؟ سید علی اشرف نے کہا کہ انھوں نے کابینی وزیر کو مشورہ دیا کہ اس طرح سے شہر میں لوگوں کی صحت اور جذبات سے کھلواڑ کیا جارہا ہے لہذا اس پر روک لگنی چاہیے۔