لاتور میں مسلم شادی خانے کی تعمیر کا راستہ صاف.. انتخابی ضابطہ اخلاق سے قبل آغاز تعمیر کا عزم

لاتور(محمدمسلم کبیر)گذشتہ تین انتخابی میعاد سے لاتور شہر کے مسلم شادی خانے کے تعمیر کا شاخسانہ چھوڑ کر اپنے حق میں وؤٹ بٹورنے والی کانگریس کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے حکمران پارٹی بی جے پی نے لاتور شہر کے مسلم شادی خانے کا مسئلہ حل کردیا ہے.چند روز قبل ہی شادی خانے کی تعمیر کوانتظامیہ کی منظوری کے فوری بعد چیف انجنئیر نے اس کی تینکی منظوری بھی دیدی ہے اور 12/ فروری کو باضابطہ تعمیرات کا ٹینڈر بھی جاری کیا گیا جس کی مدت 20/ فروری 2018 ہے.ٹینڈر اوپن ہونے کے فوری بعد تعمیرات کا آرڈر دے کر کام کا آغاز فی الفور کروانے کی تیاریاں جاری ہیں.

منعقد شدنی پارلیمنٹ انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے قبل ہی مولانا شجاء الدین فروٹ مارکٹ کے عقب میں 24464 مربع فٹ اراضی پر مسلم شادی خانے کی تعمیر کا آغاز ہونے کے امکانات ہیں.اور اس شادی خانے کی تکمیل اندرون 9 ماہ کرانے کے احکامات ہیں.اوائل میں زیر زمین اور پہلے منزل کی تعمیر ہوگی اور اس کے بعد دستیاب گرانٹ کے لحاظ سے دوسری منزل کی تعمیر کی جائیگی.اس تعمیر میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی وجہ سے کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو اسلئے اس کام میں تیزی لائے جانے کا منصوبہ شعبہ تعمیرات عامہ کی جانب سے کہا گیا ہے.

گذشتہ تین انتخابی میعاد میں لاتور شہر میں مسلم شادی خانے کا سنگ بنیاد دو تین مرتبہ کانگریس کے قائدین نے رکھا. اور یہ تماشہ عین قبل از انتخابات کیا جاتا رہا اور کانگریس کے اقلیتی قائدین بھی مارے خوشی کے اقلیتوں کے وؤٹ بٹورتے رہے مگر جیسے ہی کانگریس جیت جاتی مسلمانوں سے کئے گئے اپنے وعدوں سے مکر جاتی اور اراضی کے تعلق سے بہانے بناتے. جب ان سے سوال کیا جاتا کہ مسلم شادی خانے کے لئے لال گودام کی دستیاب اراضی ناکافی یا محصول ڈپارٹمنٹ کی ہے تو پھر دو تین بار اس اراضی پر سنگ بنیاد کیوں رکھا گیا.تو جواب ندارد..واضح ہو کہ 2006 میں سابق وزیر اعلی آنجہانی ولاس راؤ دیشمکھ نے لاتور بلدیہ کے انتخابی تشہیر کے دوران لال گودام کی اراضی پر مسلم شادی خانے کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن اعلان محض اعلان ہی رہ گیا اس کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر رہے. درحالیکہ لاتور کے مسلمانوں نے اپنے لئے شادی خانے کی تعمیر کا مطالبہ ہی نہیں کیا تھا.لیکن جب اعلان کیا گیا اور تعمیر نہ ہوا تو یہ معاملہ جذبات سے منسلک ہوگیا.پھر انتخابات سے قبل سال اس لال گودام کی اراضی پر کانگریس کے قائدین کے ہاتھوں سنگ بنیاد بھی رکھا گیا اس کے باوجود کانگریس قائدین نے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا.اس کے بعد 2014 کے پارلیمنٹ انتخابات سے قبل پھر اسی مقام پر سنگ بنیاد رکھ کر اعلان کیا کہ حیدرآباد کے چارمینار کی طرز پر مسلم شادی خانے کی تعمیر کی جائيگی.اس اعلان کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا تعمیر تو درکنار اس اراضی کے ناکافی ہونے کا شاخسانہ چھوڑا اور اس سے ملحقہ شعبہ خرید و فروخت کی اراضی حاصل کرنے تو کبھی تکنکی مسائل کو پیش کرکے اس شادی خانے کی تعمیر سے ہی باز رہے. لال گودام کی کراضی صرف دس ہزار مربع فٹ ہےجو ہنوز کھلی ہے.دو سال قبل لاتور بلدیہ عظمی کے انتخابات سے چند روز قبل اس اراضی پر شادی خانے کی تعمیر کا ٹینڈر بھی جاری کیا پھر تکنکی مسئلے کے پیش نظر اس ٹینڈر کو خارج کردیا گیا.لیکن مسلم سماج سے جڑے اس مسئلے کو بی جے پی کے قائدین نے بھانپ لیااور لاتور بلدیہ عظمی کے 2017 کےانتخابی تشہیر کے دوران وزیر رابطہ سمبھاجی راؤ پاٹل نلنگیکر نے اعلان کیا کہ بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد فوری شادی خانے کی تعمیر کی جائیگی.اس اعلان کے بعد لاتور بلدیہ عظمی میں بی جے پی اقتدار میں آئی اور وعدے کے مطابق شادی خانے کے لئے موزوں اراضی کی تلاش کرکے مولانا شجاء الدین فروٹ مارکیٹ کے عقب میں جہاں شاپنگ کامپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ تھا لیکن اس اراضی پر غیر مجاز رہائشی مکانات ہونے کی وجہ سے کانٹریکٹر نے شاپنگ کامپلیکس کی تعمیر سے گریز کیا تھا.اب اسی اراضی پر شادی خانے کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ اور کانٹریکٹر کی منظوری کے لئے کافی وقت لگا انتظامیہ اور تکنکی منظوری کے بعد وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے پی اے ابھیمنیو پوار نے اس شادی شادی خانے کی تعمیر کے لئے 5 کروڑ روپیوں کا گرانٹ منظور کر لایا.اور اس کام کو لاتور بلدیہ عظمی کے بجائے شعبہ تعمیرات عامہ کے زیر نگرانی کروانا طئے کیا. انتظامیہ کی منظوری کے بعد گذشتہ ہفتے چیف انجنئیر شعبہ تعمیرات اورنگ آباد نے تکنکی منظوری دی اور 3.72 کروڑ کا ٹینڈر جاری کیا.اور اس ٹینڈر 20 فروری کے بعد فوری ارپن کرکے پارلینٹ انتخابات سے قبل ماہ مارچ کے اوائل میں سنگ بنیاد رکھ کر فوری کام کا آغاز کئے جانے کے امکانات ہیں.یہ بات لاتور کے شعبہ تعمیرات عامہ کے اسب انجنئیر روہن جادھو نے کہی.

انھوں نے مزید بتایا کہ شادی خانے کی مکمل تعمیر کے لئے دس کروڑ روپئے درکار ہیں لیکن پہلے مرحلے میں زمینی اور پہلے منزل کا کام تکمیل کو پہنچ سکتا ہے. زمینی منزل پر باورچی خانے ، پارکنگ، اور اسٹور روم ہوگا اور پہلے منزل پر تمام آرائش سے آراستہ ہال ہوگا.اسی کے ساتھ بیڈ روم، اور بیت الخلاء اور حمام خانے بھی ہونگيں. مستقبل میں لفٹ کا بھی نظم رہےگا. اس ہال میں 1000 تا 1200 افراد کے نشست کا نظم ہوگا.اس سارے شادی خانے کا نقشہ اور پلان اورنگ آباد کے مشہور آرکیٹیکٹ سجاد لودھی نے بنایا ہے..

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading