نئی دہلی (پریس ریلیز): شمال مشرقی دہلی میں کئی دن تک چلے فسادات میں ایک بڑی تعدادان متاثرین کی ہے جن کا سب کچھ تباہ ہوگیا، مکانات جلادئے گئے،کاروبار تباہ ہو گئے، فسادیوں کے جو کچھ ہاتھ لگا انہوں نے وہ سب کچھ یا تو لوٹ لیا یا جلاکر خاکستر کر دیا۔لوگوں نے بڑی مشکل سے وہاں سے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں اور اب انکے لئے چھت کے انتظام سے لیکر روز مرہ کی ضروریات پوری کرنا، ان کے دلوں سے خوف نکالکر ازسرنو زندگی کی شروعات کرنے میں مدد کرنا یہ کچھ ایسے سوال ہیں جو کسی چیلنج سے کم نہیں ہیں اور یہ چیلنج دہلی وقف بورڈ نے قبول کیا ہے۔
دہلی وقف بورڈ نے اپنے کاندھوں پر ایک ہزار سے زائد متاثرین کی جن میں خواتین بھی ہیں اور معصوم بچے بھی، زخمی بھی ہیں اور خوف و دہشت میں مبتلاسینکڑں ذہنی طور پر پریشان حال بھی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائی ہے۔ دہلی وقف بورڈ نے تمام متاثرین کے لئے مصطفی باد عید گاہ میں ایک وسیع کیمپ لگایا ہے جہاں اب تک ایک ہزار سے زائد متاثرین آچکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں کی ہے جن کے لئے دو وقت کے کھانے اور ناشتہ سے لیکر روز مرہ کی ضروریات کا دہلی وقف بورڈ نے کیمپ کے اند رہی انتظام کیا ہے۔
باورچیوں کی ایک ٹیم لگاکر کیمپ کے اندر ہی مطبخ کا انتظام کیا گیا ہے۔ متاثرین کی قانونی مدد کے لئے وقف بورڈ کے وکیل وجیہ شفیع کی قیادت میں لیگل سیل بنایا گیا ہے جہاں متاثرین کو معاوضہ کی فراہمی کے لئے فارم بھرے جارہے ہیں ساتھ ہی ان کے مقدمات کے اندراج کے لئے قانونی صلاح کے ساتھ ان کی شکایات لکھنے میں مدد کی جارہی ہے۔ تفصیل کے مطابق کیمپ کے اندر ایک انتظامی آفس بنایا گیا ہے جس کے انچارج دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر نشاب احمد خان ہیں جن کی نگرانی میں بورڈ کا پوراعملہ دو شفٹوں میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہاہے۔
بورڈ کے مرکزی آفس دریا گنج سے ریلیف مٹیریل کے پیکیج تیار ہوکر متاثرین تک پہونچائے جارہے ہیں جن میں آٹا، دال، چاول، چینی، چائے کی پتی، ریفائنڈ آئل، بسکٹ،دواؤں سے لیکر بچوں کے ڈائپر،خواتین کے لئے دوپٹے پہونچائے جارہے ہیں۔ اس کام کے لئے ایک ٹیم بنائی گئی ہے۔ جو چیئرمین دہلی وقف بورڈ امانت اللہ خاں کی ہدایت کے مطابق سامان کی خریداری کرتی ہے اور اسکی پیکنگ کراکر متاثرہ علاقوں میں تقسیم کا کام کرتی ہے۔ پورے کام کی نگرانی کر رہے دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفسیر حافظ محفوظ محمد نے بتایا کہ مصطفی باد عید گاہ کیمپ میں ایک کاؤنسلنگ سیل بھی بنایا گیا ہے جہاں متاثرین کی کاؤنسلنگ کی جارہی ہے اور ان کے ذہنوں سے فساد میں پیش آئے واقعات کا خوف نکالنے میں مدد کی جارہی ہے تاکہ وہ ماضی کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کرسکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کیمپ کے اندر ہی میڈیکل ڈیسک کا بھی قیام کیا گیا ہے جہاں متاثرین تک ضروری دوائیاں مفت تقسیم کی جارہی ہیں اور اب مریضوں کو اسپتال لیجانے کے لئے بورڈ کی جانب سے ایک ایمبولینس کا بھی انتظام کردیا گیا ہے اسی طرح اسٹریچر،آکسیجن سلینڈر وغیرہ کا بھی انتظام کیاگیا ہے۔حافظ محفوظ محمد نے بتایا کہ چیئرمین دہلی وقف بورڈ امانت اللہ خان صاحب کی سخت ہدایات ہیں کہ فساد متاثرین کی راحت رسانی کے کام میں کسی طرح کی کوتاہی نہ ہوپائے اور وقف بورڈ کے عملہ کو مستعدی کے ساتھ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے اتوار (تعطیل)کوبھی آفس بلایا جاتاہے۔
دہلی وقف بورڈ ایسے لوگوں کی مدد کر رہاہے جو دوردراز اپنے گھروں یا رشتہ داروں میں جانا چاہتے ہیں۔ایسی ہی کئی فیملیاں جامع مسجد دہلی 6ایک کیمپ پر رکی ہوئی ہیں جنھیں گھر جانے کے لئے بورڈ نے ٹرین ٹکٹ اور زاد سفر کا انتظام کیا ہے۔ذرائع کے مطابق متاثرین کی راحت رسانی کے لئے لوگ تعاون بھی خوب کر رہے ہیں اور چیئرمین وقف بورڈ امانت اللہ خان کے اکاؤنٹ میں پیسوں کے ٹرانسفر کے ساتھ ساتھ لوگ بذات خود دریا گنج بورڈ آفس کے باہر لگائے گئے کیمپ پر بھی نقد اور سامان کے ذریعہ تعاون کر رہے ہیں جس سے متاثرین کی راحت رسانی میں آسانی ہورہی ہے۔

متاثرہ علاقوں کے لئے 1500پیکٹس تیار
چیئرمین دہلی وقف بورڈ کی ہدایت پر شمال مشرقی دہلی کے ان علاقوں میں جہاں فساد نے لوگوں سے بہت کچھ چھین لیا اور اب تک سینکڑوں لوگوں کے گھروں کے چھولھے نہیں جلے ہیں ان علاقوں میں تقسیم کے لئے آٹا،دال،چاول،ریفائنڈ،چینی چائے کی پتی،رسک پاپے،بسکٹ،صابون،دودھ اور دیگر لازمی اشیاء پر مشتمل 1500ریلیف پیکیٹس تیار کرائے گئے ہیں۔ان پیکیٹس کو کراول نگر،شیو وہار جیسے فساد متاثرہ علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔امانت اللہ خان کی ہدایت پر وقف بورڈ کے مرکزی آفس دریا گنج پر بورڈ عملہ کی ایک ٹیم مسلسل راحتی پیکیج بنانے میں مصروف ہے جہاں سے پیکیج تیار ہوکر فورا متاثرہ علاقوں تک پہونچائے جارہے ہیں اور اس طرح جو لوگ مصطفی آباد کیمپ نہیں پہونچے ہیں ان کو مدد پہونچانے کا نظم کیا گیا ہے تاکہ کوئی متاثر بھوکا نہ سوئے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو