ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز)فروغِ اُردو فورم کے زیرِ اہتمام وسنت راﺅ کاڑے کالج ، ناندیڑ میں مراٹھواڑہ کے معروف ادیب ‘صحافی جناب عارف خورشیدکی تعزیتی نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس کی صدارت جناب عبدالملک نظامی (سرپرست فروغِ اُردو فورم ، ناندیڑ) نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ارشاد احمد خاں (صدر شعبہ اُردو این ۔ ایس ۔ بی کالج و صدر فروغِ اُردو فورم ، ناندیڑ) نے عارف خورشید کے سانحہ ارتحال پر دِلی افسوس و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عارف خورشید علاقہ¿ مراٹھواڑہ کی مشہور و معروف اور ہمہ جہت شخصیت تھی۔ انھوں نے بحیثیت معلّم ، شاعر ، افسانہ نگار ، صحافی اور خاکہ نگار اپنی ایک منفرد شناخت بنائی۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والا مشہور و معروف رسالہ ”عالمگیر ادب“ اور اس کے خصوصی شمارے اُردو رسائل میں اپنی انفرادی شناخت کے حامل ہیں
۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اُردو ادب اور ادبی سرگرمیوں کے لیے وقف کردی۔ ان کا انتقال اُردو حلقوں با الخصوص مراٹھواڑہ کے لیے ایک ایسا سانحہ ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ ڈاکٹر محمد عبدالرافع (نائب صدر فروغِ اُردو فورم ، ناندیڑ) نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشہور و معروف شاعر و ادیب عارف خورشید کی شدید حملہ قلب کے باعث انتقال کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا۔ مجھے پندرہ یوم قبل مہاراشٹر اُردو ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے جو مثالی معلم ایوارڈ سے نواز گیا ، اس میں عارف خورشید موجود تھے اور انھوں نے اس باوقار اعزاز کے لیے مجھے مبارکباد دی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ جناب عبدالملک نظامی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ علاقہ مراٹھواڑہ کے افسانوی ادب کی جب بھی تاریخ مرتب کی جائے گی تو اس کے معماروں میں ایک اہم اور معتبر نام عارف خورشید کا ہوگا۔ وہ مراٹھواڑہ کے افسانوی ادب کے خورشید تھے۔ ان کے اس اچانک انتقال سے علاقہ مراٹھوارہ کے افسانوی ادب میں جو خلاءپیدا ہوگیا ہے اسے پُر کرنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ علیم اسرار (معتمدفروغِ اُردو فورم، ناندیڑ) ، ڈاکٹر انیس الرحمٰن (خازن فروغِ اُردو فورم ، ناندیڑ) ، محمد مظفرالدین فراز ، محمد انورالدین ، شیخ نذیر ، محمد صوفیان نے بھی مرحوم کو تعزیت پیش کی۔ علیم اسرار کی دعائے مغفرت پر تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوئی۔