ایڈوکیٹ محمد بہا الدین‘ناندیڑ

اردو زبان کے بارے میں حضرت داغ دہلوی کے اشعار اردو کی ہمہ گیریت و عالم گیریت لیے ہوئے ہیں۔ جبکہ ادب برائے زندگی کے ترجمان مخدوم محی ادلدین کے افکار و خیالات کے مطابق
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
سارے زمانے میں دھوم مچانے والی زبان کا ماضی درخشاں رہا اور مستقبل تابناک نہ رہنے کی وجہ سے ساحر لدھیانوی کے مطابق رہنے کو گھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا کے مصداق اردو کا حال ہے۔پچھلے دو تین دہوں سے اردو کی شعری ادبی مقبولیت عالمی سطح پر تو ہے کیوں کہ ہندوستان اردو کی جائے پیدائش ہے۔ لیکن اس زبان کی کوئی سرحد نہین اس لیے دنیا کے ہر ملک میں اردو کے مشاعرے ‘سیمینار ‘ و پروگرام خواہ و لندن ہو کہ شکا گو ‘ کینیڈا ہو کہ دوہا قطر‘ شارجہ ہو کہ جدہ ‘ نیز یورپ کے تمام بڑے شہروں میں اردو کے کا لونیاں ٓباد ہیں۔
عالمی یوم اردو کے موقع پر حیدرآباد کے علی صدیقی مرحوم جو اردو کے تنآور درخت کی طرح تھے جنہوں نے عالمی اردو کانفرنس بیرونی ممالک میں اردو کے پروگرام اندرا پریہ درشنی سینٹر کی جانب سے چلا تے تھے۔ اردو کے مشاعروں ‘کانفرنسوں نے اسے تہذیب کی شکل دے دی تھی اور اسی میں انھوں نے عمر گزار دی۔
بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہاے سے سلیقہ سیکھا
اردو کا استعمال لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وزرائے اعظم اور اراکین پارلیمنٹ جن میں تارا کشوری سنہا سے لے کر من موہن سنگھ ہی نہیں بلکہ سشما سوراج تک نے اشعار کے ذریعہ اپنے خیالات کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ماضی میں اس زبان کے لیے قانونی طور پر اردو کو کُل ہند سطح پر جب سرکاری زبان بنانے کا موقع آیا کیوں کہ یہ زبان آزادی سے پہلے ایک مشترکہ قدروں والی زبان بن گئی تھی لیکن ٹیکنیکل بنیادوں پر اس کی منظوری نہ مل سکی۔یہ زبان کی اہمیت و افادیت اور ضرورت کے تحت ہی انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج میں اردو کی تعلیم دینے کا سلسلہ رائج کیا تھا۔ الغرض یہ واحد زبان ہے جس نے مختلف فرقوں میں رابطہ کی زبان کا کردار ادا کیا۔اور اس کے ارتقاء کے بارے مین دیکھا جائے تو اسے اولیاء کی زبان بھی کہا جاسکتا ہے ۔ جنہوں نے ہندوستان میں اپنے خیالات و افکار کے ذریعہ یہاں کے عوام کو متوجہ ہی نہیں کیا بلکہ وحدت کی بنیاد پر انھیں متحد بھی رکھا۔
زندگی کے تلخ وشیرین حقائق کا اظہار الفاظ ہی کے ذریعہ ہوتا ہے۔۔ اور کسی خطہ کی زبان وہاں کے باشندوں کے تہذیب کی عکاسی بھی کرتی ہے ۔ اور آج بھی بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے اردو دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان تیسرے نمبر پر ہے۔لیکن یہ تمام خوبیاں اور شہرت کے باوجود ہمارے ملک میں اس کا کوئی سرکاری مقام نہیں اور نہ ہی اسے روزگار سے جوڑا گیا ہے۔ اس لیے اس کی مارکٹ میں قدرو قیمت میں کمی واقع ہوئی اسی لیے اردو مادری زبان والے والدین میں اپنے بچوں کو ریاستی زبان یا انگریزی زبان کے ذریعہ تعلیم دینے کا رحجان پچھلے تین چار دہوں سے بڑھ جانے کی وجہ نئی نسل اردو مادری زبان سے بے بہرہ ہوتی جارہی ہے۔
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائیٹیڈ مسلم انڈیا ان دونوں غیر سرکاری خانگی انجمنوں کے اشتراک سے عالمی یوم اردو کا نعقاد عمل میں آتا ہے۔یہ پروگرام ۹ نومبر کو منعقد ہوتا ہے جو علامہ اقبال کا بھی یوم پیدائش ہے۔اس ویژن اور مشن کے روح رواں ڈاکٹر سید احمد خان اور ان کے بعد نامور صحافی محفوظ الرحمٰن زندگی بھر اس مشن کی تکمیل میں ہمہ تن مصروف رہے تاکہ اردو ایک عوامی زبان بن سکے۔ مادری زبان کی تاثیر اور اس کے حسن کی وجہ سے بنگالیوں نے غیر منقسم پاکستان نے جب اردو کو سرکاری زبان بنایا تھا جس کی مخالفت میں دھرنے مورچے نکالے گئے جس میں لاٹھی چارج ہی نہیں بلکہ گولیاں بھی چلیں۔بالآخر 29فروری 1951کو بنگلہ زبان کو وہاں کی سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔زبان کی ایہ چنگاری ایسی چلی کہ 1971میں یہ علاقہ ایک علاحدہ مملکت کی شکل میں تبدیل ہوگیا۔یہاں آج نئی نسل کو اردو زبان کے سیاق و سباق کااور ماضی میں اردو کی شیرین لطافت اور مشترکہ زبان ہونے کے باوجود اس کی جو حیثیت آ ج ہو کررہ گئی ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ اس کے بار ے میں ڈاکٹر سید احمد قادری کا مضمون جو انھوں نے لکھا تھ اس کا اقتباس درجہ ذیل ہے۔
اردو زبان سے ہمارا تعلق ۔عالمی یوم اردو کے عنوا ن سے لکھا تھا جس میں وہ رقم طراز ہیں کہ : ’’ آ ج جو اردو زبان کا منظر نامہ ہے اس پر سرسری نگا ہ ڈالیے میں اس سلسلے میں زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے شیو پرساد سنہا( سابق جج الہ آباد ہائی کورٹ) کے ۳۰ مارچ ۱۹۶۸ میں بہار میں منعقدہ اردو کانفرنس کے موقع پر فرمایا تھا کہ زبان کے سلسلے میں راجندر پرساد ‘عبدالحق معاہدہ آزادی سے قبل یعنی ۱۹۳۸ میں ہی پٹنہ میں ہو اتھا جس کی رو سے یہ قرار دیا گیا تھا کہ اردو فارسی رسم الخط اور ہندی دیوناگری رسم الخط میں ہندوستا ن کی زبان ہوگی جسے ہندوستانی زبان کہا جائے گا۔ لیکن راجندر پرساد نے خود اس معاہدہ کو اس طرح توڑا کہ جب ہندوستا ن میں زبان کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پیش ہو ا تو ہندی کے حق میں اور اس کے خلاف مساویانہ ووٹ ملے لیکن پارلیمنٹ میں صدر کی حیثیت سے کاسٹنگ ووٹ کے ذریعہ ہندی کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔ نہ صرف یہ ہوا بلکہ اردو کے تمام حقوق ختم کردئیے گئے اور اس زبان کے خلاف بیانات دے کر تحریک چلا کر اور عملی جد وجہد کرکے وطن ہی نہیں بلکہ اسے جلا وطن کرنے کی مذموم کوشش بھی کی گئی۔ اور یہ ثابت کرنے کے کوشش کی گئی کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے اور اس طرح یہ اس زبان کو بھی وہی حیثیت دینے کی کوشش کی جارہی جو مسلمانوں کو دی گئی ہے۔ انہی لوگوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اردو آج لائبریریوں اور مدرسوںمیں پناہ گزیں بنی ہوئی ہے۔حالانکہ یہ زبان ہندو مسلم سکھ عیسائی کے اتحاد و اتفاق کی علامت ہے جن میں دیا نارائن نگم ‘ رتن ناتھ سرشار‘ منشی پریم چند‘ برج نارائن چکبست‘ جوش ملسیانی‘ ترلوک چند محروم‘ آنند نارائن ملا‘ کرشن چندر‘ بیدی ‘ رام لال‘ جگن ناتھ آزاد‘ دیویندر اسر‘گوپی چند نارنگ ‘ گلزار زتشی‘ گلزار جیسے سیکڑوں کے فکر و خیال کو اس زبان نے انھیں آفاقیت ہی نہیں بخشی بلکہ انھیں شہرت و مقبولیت کے آسمان تک پہنچا دیا۔اس موقع پر نئی نسل کو اپنے ماضی کی تاریخ اور اردو کو حالیہ تناظر میں تبدیل ہونے والے واقعات اور آج اس عالمی یوم اردو کے موقع پر عہد کرنا ہوگا کہ وہ اپنی اولاد کو اپنی مادری زبان اردو کو ذریعہ تعلیم ہی نہیں بلکہ تہذیب و ثقافت کا تحفظ بھی کریں گے۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
بنگال والوں کی زبان بنگلہ‘ ان کی مستعدی کی وجہ سے آج نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں دوسے نمبر پر ہے۔حال ہی میں زبانوں کے اعداد و شمار ٹی وہ پروگرام کے بی سی کے دوران اینکر امیتابھ بچن نے لوگوں کے علم میں لائی۔عالمی یوم اردو منانے والی ان دونوں تنظیموں کو ہم سلام کرتے ہیں ۔جن کی وجہ سے آج یہ دن منایا جارہا ہے۔نئی نسل کو اردو کی تاریخ اور مستقبل مین اس کی اشاعت و فروغ کے بارے میں عزم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اردو سے محبت کرنے والے اور جس شعبہ حیات سے تعلق رکھتے ہیں خواہ انتظامیہ ‘عدلیہ ‘تعلیم ‘صحافت ‘تجارت غرض جو جہاں ہے وہ اپنی مادری زبان اردو کو اپنی زندگی میں شامل کریں تاکہ آنے والی نسل بھی اس امانت کی پاسداری کریں گے۔اگر ایسا نہیں ہوا ہمیں جاننا چاہیے کہ کسی قوم کو اگر ختم کرنا ہو تو اسکی زبان کو ختم کرنے والے اصول کی وجہ سے کہیں اپنی شناخت اور یکائی والی حیثیت بھی ختم نہ ہوجائے۔ کیوں کہ آج کل اس قسم کا ماحول بنایا جارہا ہے اور ہم غیر محسوس طریقہ سے اس کا شکار نہ ہوجائے۔آج کل کا ماحول اس مقاصد کے لیے تما م حربے کا استعمال ہی نہیں بلکہ اس میں شدت پسندی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ اور اس منہ زوری پر نہ قانونی کاروائی ہے نہ سماج کی پابندی۔ایسے پراگندہ ماحول میں اردو والے اپنی تہذیب و شناخت کو محفوظ کرسکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ مرکزی قانون حق تعلیم کی تکمیل و تعمیل کے لیے آگے آئیں اس لیے کہ ریاستی حکومت ہی نہیں حکومت مقامی کو لازم ہے کہ وہ چھ سے چودہ سال والے بچوں کے لیے مدارس کا آغاز کریں لیکن دفتر شاہی اور حکو مت کے بیرو کریٹس اس سے غفلت و کوتاہی برت رہے ہیں اس لیے کہ ہم خود غفلت وعدم معلامات کا شکار ہیں۔
اگر تم چاہتے ہو اردو بچانا
میاں اپنے بچوں کو اردو پڑھانا
اردو ذریعہ تعلیم سے مذہبی سرمایا سب سے زیادہ اسی میں ہے اس لیے ااس ذریعہ ہی سے اپنا معاشرہ ماحول تہذیب پھر سے مہذب ہوسکتی ہے اور اب جو اردو کی شیریں لطافت جو صرف نغموں اور مشاعروں میں سمٹ کر رہ گئی ہے وہ اپنی نئی نسل کی زندگی میں آجائے تو ہماری نئی نسل اس طرح ہوسکتی ہے۔
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
اردو کے تحفظ ‘بقا ہی نہیں بلکہ ترویج و اشاعت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو اس بات سے مطمئن نہ ہونا چاہیے ۔آج بھی موجودہ ماحول میں تیلگو اور مراٹھی زبان وال اردو کو فیشن سمجھ کر استعمال کرتے ہیں لیکن جب تک اردو زبان سے ذریعہ تعلیم نہ ہوگا اس وقت تک اردو والے اپنی زبان سے بے بہرہ ہی رہیں گے۔اس کے علاوہ دیگر زبانوں سے تعلیم پانے والے نو نہالوں کے لیے مہارت حاصل کرنا دشوار ہپی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ فکر کا تقاضا ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے ماہر تعلیم کا مسلمہ و متفقہ فیصلہ ہیکہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہی ہو نا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پر عمل کریں اور مقام وریاستی حکومت کو اس سلسلے میں مستعد بھی رکھے ۔
میری اردو کے تحفظ کے لیے
ہر گلی می ں ایک مدرسہ چاہیے
پچھلے دہایئوں میں انگریزی اور ریاستی زبان میں تعلیم پانے والے طلبہ ‘ نوجوان نسل اپنی تہذیب سے ناآشنا بلکہ بول چال گفتگو میں بھی وہ ق کا تلفظ ادا نہیں کرسکتے۔
لوگ پڑھ لکھ کر انپڑھ دکھائی دیتے ہیں
میر و غالب کی اردو زبان چھوڑ کر