ظلم کسی بھی طرح کا ہو ،حسینیت اس کا علاج: سید محمد اشرف

، نئی دہلی:28 / اکتوبر(ای میل) ۔ظلم کسی بھی طرح کا ہو حسینیت ہی اس کا علاج ہے ” یہ بات آل انڈیا علماءو مشائخ بورڈ کے بانی و صدر اور ورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرفکچھوچھوی نے نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں ہو رہے ظلم پر حسنین کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا،حسینیتنام ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا، ظلم کے خلاف خاموش رہنا بھی ظلم ہے کیونکہ ایسا کرتے ہوئے آپ ظالم کی مدد کرتے ہیں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مظلوم کی مدد کرو اور ظالم کی بھی، ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔اگر ظلم دیکھ کر آپ خاموش رہتے ہیں تو آپ ظالم کو مزید ظالم بنارہے ہیں، حضرت نے کہا کہ حسنین کریمین کی زندگی سے ہمیں سبق لینا ہے۔ایک طرف امام حسن مجتبی ہیں کہ آپ امن کو برقرار رکھنے کے لئے قربانی پیش کرتے نظر آتے ہیں اس کے بعد امام حسین علیہ السلام ہیں جو ظلم کے خلاف اپنا سب کچھ نچھاور کرتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن دونوں ہی طرف مقصد بڑھتے ظلم کو روکنا ہے۔ظلم کا علاج آل محمد سےسیکھنا ہوگا کیونکہ اس کے سوا اور کوئی در نہیںجہاں سے اسے عملی طور پر سمجھا جا سکے۔دنیا میں ظلم بڑھتا ہی جا رہا ہے، لوگوں کو افواہوں کے ذریعے بہکایا جا رہاہے، سچ کو دبانے کے لئے جھوٹ کو بار بار چیخ کر بولا جا رہا ہے اور لوگ آخر میں اسے ہی سچ سمجھ کر نفرت کی آگ میں جھلسنے کو مجبورہیں۔حضرت نے کہا کہ اب ہمیں افواہوں کو روکنا ہوگا، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ سچ کو جانا جائے اور بغیر سچ جانے کوئی رائے نہ بنائی جائے۔حضرت کچھوچھوی نے کہا کہ سیاسی بیداری بھی ضروری ہے، اپنے حق کو سمجھیں، ووٹ کی طاقت کو سمجھیں اور سمجھداری کے ساتھ فیصلے کریں، کیونکہ نفرت اپنا کام کر رہی ہے اور لوگوں کو اپنے اثر میں لے رہی ہے، آپ کو محبت کے پانی کا چھڑکاو ،اس آگ پرکرنا ہے کیونکہ اسلام کا پیغام جو ہم تک غریب نواز نے پہنچایا کہ” محبت سب کے لئے ،نفرت کسی سے نہیں ”ہمیں اس پر عمل کرنا ہے اوریہی حسینیت ہےہمیں اس پر عمل کرنا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading