نیٹ امتحان سے متعلق جاری ملک گیر طلبہ تحریک کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت اور احتجاجی طلبہ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد مرکزی وزیر جے پی نڈا نے متعدد اہم مطالبات پر مثبت فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے احتجاج کے دوران طلبہ اور تحریک سے وابستہ افراد کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ، نیٹ پیپر لیک معاملے کے بعد جان گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کے مطالبے پر بھی مثبت فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
مرکزی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ نیٹ سمیت دیگر قومی سطح کے امتحانات کے نظام میں شفافیت اور اعتماد بحال کرنے کے لیے جامع اصلاحات کی جائیں گی۔ احتجاجی طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے پانچ نکاتی اصلاحاتی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ چند ہفتوں میں اس سلسلے میں ایک اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر اختلافات سامنے آئے تھے، تاہم بعد ازاں مذاکرات کامیاب رہے اور حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی دیے جانے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
تحریک کی قیادت کرنے والے طلبہ نمائندوں نے کہا ہے کہ اگر حکومت مقررہ مدت کے اندر اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی تو دوبارہ ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔
حکومتی فیصلے کے بعد کئی روز سے جاری نیٹ تحریک اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ طلبہ کے خلاف مقدمات واپس لینے، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے حکومتی اعلان کو تحریک کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔اگر چاہیں تو میں اس خبر کے لیے ایک مؤثر اردو ہیڈ لائن، یوٹیوب تھمب نیل ٹیکسٹ اور اینکر اسکرپٹ بھی تیار کر سکتا ہوں۔