سیّد سلمان حسینی صاحب کا قضیہ

سلمان ندوی صاحب کے نزاعات اور قضیے پر…. نوجوان عالم دین اور صحافی مولانا سمیع اللہ خان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ۔

میں آجکل بابری مسجد سانحے پر تفصیلی جائزہ لکھ رہا ہوں، چنانچہ اسی قضیے کے ضمن میں مولانا سید سلمان حسینی پر بھی تجزیہ ہونا تھا، لیکن آج ابھی ایک خط ان کا پڑھا، جو انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلما کے ناظم مولانا رابع حسنی صاحب کے نام لکھاہے،یہ خط پڑھ کر دل کا خون ہوگیا، مولانا سید سلمان حسینی نے اس خط کے ذریعے ردعمل کی انتہاؤں کو چاک کردیا ہے_

مولانا سید سلمان حسینی جو کہ پچھلے ۲ سالوں سے موجودہ مولویوں کے خلاف تیغ براں بنے بیٹھے ہیں انہیں متشدد مولویوں سے بڑی شکایتیں ہیں
لیکن وہ مسلسل خود بھی تشدّد کی کھائی میں گرے جارہےہیں. وہ ۲ سال پہلے تک جمہور اہلسنّت والجماعت کے مرد آہن تھے، ۲ سال پہلے تک بھی ان کی شانِ یکتائی کے حاسدین ان کے خلاف سازشیں کرتے تھے لیکن تنہا ان کا نام اور ان کا چہرہ ان سازشوں اور مکروفریب پر بھاری ہوجاتا تھا، وہ آلِ رسولﷺ کا وقار اور ساداتِ اہل بیت کا عظیم ورثہ کہلائے جاتے تھے، وہ عالمِ اسلام کی دینی تحریکات، مجاہدینِ اسلام، مؤمنین صادقین اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان رابطے کا ایمانی پُل بنے ہوئے تھے، ان کا شمار عارفین اور مشائخِ اسلام میں ہوتا تھا، وہ علومِ اسلامیہ کے عظیم خدمتگار ہیں، وہ اسرار شریعت کے ترجمان اور اسلامی عزیمت کے پاسبان رہے، پوری دنیا میں ان کی خودداری، عزیمت اندازی، علمیت، للہیت، مجاہدے اور احقاق حق کا ڈنکا گونجتا رہا…… یہ حقیقی اور برحق زندگی تھی سید صاحب کی، اوپر جو کچھ ہم نے لکھا ہے وہ ۲ سال قبل تک ان کی سیرت کی لفظ بہ لفظ واقعاتی ترجمانی ہے. لیکن اب یہ سورج مسلسل ۲ سالوں سے بےحد جزئی، غير ضروری اور غیر مفید سرگرمیوں میں ڈوبتا جارہاہے،یقینًا سیّد صاحب کی اس حالت کے پیچھے ایک طویل خلفیہ ہے، وہ پرنور اور متفقہ دماغوں کے مکروفریب سے متعفن بھی ہے، کوئی مؤرخ کبھی ان کی تفصیل کرےگا لیکن جو کچھ سید صاحب اب کررہےہیں وہ کسی بھی طرح سازشوں کی دنیا میں کھیل کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے… پھر وہ زیادتی بھی کرنے لگے_

امر واقعہ یہ بھی ہےکہ ان کے ڈوبنے سے کئی بے حقیقت چراغ روشن ہونے لگے ہیں، یہی وجہ رہی کہ عالم اسلام کی سطح کے اس شخص کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ملی سطح پر کوئی بھی معیاری، سنجیدہ اور متحدہ کوشش نہیں کی گئی، سب نے ناعاقبت اندیشی کا تماش بین بنے رہنا ہی پسند کیا، یہ ایک چشم دید کا اظہار حقیقت ہے
ان حالات میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا الیاس کاندھلوی، مولانا یوسف کاندھلوی، مولانا ابوالحسن علی ندوی اور قاری طیب رحمھم اللہ کی مسلسل یاد آتی رہی، جنہوں نے بد سے بدتر معاملات اور بےہنگم قضیوں کو بھی سلجھائے رکھا، جنہوں نے ملت کے کسی بھی مفید شخص کو ٹوٹنے نہيں دیا، وہ ایسے اعیان تھے کہ جب کوئی ٹوٹتا تو سب ملکر اسے جوڑ لیتے، آغوشِ اجتماعیت میں ڈھانپ لیا کرتے، دراصل اُمت پنے کی یہی تو پہچان اور شان ہوا کرتی تھی…
یہ تجزیہ بھی ہمارا سیّد سلمان صاحب کے نزاعات کی ابتداء پر ہے_

بہرکیف اب ٹوٹتے ٹوٹتے مولانا سید سلمان حسینی بہت دور جارہےہیں، انہوں نے آج کے خط میں ملت کے ایک یادگاری ہی سہی عظیم ادارے کو کفر کی عدالتوں میں گھسیٹنے کی باتیں کہی ہيں، وہ دھمکی دے رہےہیں، حتیٰ کہ میڈیا میں بھی جارہےہیں، یہ سب بالکل غیر معیاری حرکتیں ہیں، جن پر ادنیٰ سی بھی تائید نہیں کی جاسکتی،
مولانا سید سلمان حسینی نے بابری مسجد کا فیصلہ آنے کے بعد جو بیان اور موقف جاری کیا اسے بھی صرف بغلیں بجانے سے تعبیر کیا جاسکتاہے، انہوں نے اس کے بعد بابری قضیے کے ہی سلسلے میں یوگی آدتیہ ناتھ سے بھی ملاقات کرلی، جس میں خواہی نہ خواہی رافضی وفد بھی موجود ہوگیا، پھر وہ سپریم کورٹ کی غیر منصفانہ زمین کو لینے کی بھی تائید کررہےہیں جو کہ بالکل غیر اصولی تائید ہے، بابری مسجد کے سلسلے میں سید صاحب کا ردعمل بھی بالکل غلط اور امت پنے کے خلاف ہی رہا_

بنیادی طورپر ندوۃ العلماء کی انتظامیہ سے بھی یہاں غلطی ہورہی ہے، اگر وہ مولانا سلمان حسینی کو نکالنا ہی چاہتے تھے تو انہیں چاہیے تھاکہ وہ ندوہ کے اساتذہ کے ریٹائرمنٹ سے متعلق قانون میں ترمیم کرکے انہیں نکال دیتے اسطرح ان کی کارروائی ضابطے کی ہوجاتی، لیکن نکالنے کی یہ کارروائی سلمان صاحب کے مختلف آرا و خیالات کی بنیاد پر ہے جوکہ غیراصولی بنیاد ہے، دنیا کا کوئی بھی ادارہ کسی بھی شخص کو اُس کے متفرد نظریات کی بنا پر باہر نہیں کرسکتا ایسی کارروائیوں کو یقینًا موجودہ قانون میں چیلینج کیا جاسکتا ہے، مجھے سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ آخر کس طرح ایسی عجلت پسندانہ کارروائی کرکے فریق مخالف کے لیے اس معاملے کو مزید الجھانے کا موقع فراہم کیاگیا

سیّد صاحب تو جو کچھ بھی کرینگے اس سے کفر کو تالیاں پیٹنے اور سنگھیوں کو مرچ مسالہ ہی فراہم ہوگا، خواہ وہ قانونی طورپر جیت ہی جائیں لیکن ان تمام سرگرمیوں کو حرکتوں سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے، یہ دانشمندی بھی نہیں ہے، یہ تدبیر بھی نہیں ہے، یہ اپنے معاملات کو فیصل کرنے کا شرعی و دینی راستہ بھی نہیں ہے، اور ایک سیّد عالم دین کا بازار میں اٹھا پٹخ کرنا، سادات کی روایات اور ان کی شان کے بھی خلاف ہے

اگر مولانا کے ساتھ سوتیلا پن ہوا ہے تو وہ بھی زیادتی کی طرف جارہےہیں وہ بھی انتشار اور نئی نئی طولانی بحثوں اور تقسیم کا سبب بن رہےہیں، جیسے وہ لوگ جوابدہ ہوں گے ویسے ہی آپ بھی اپنی ان حرکتوں پر الله کے مواخذے سے بچ نہیں سکیں گے، کیونکہ آپ بھی انتشار امت کا ہی سبب بن رہےہیں

آپ نے مشاجرات صحابہ ؓ پر لاحاصل بحث کو گرمایا، جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور جس سے ہم لوگوں کو بھی اتفاق نہیں تھا، پھر ایک سال قبل اس سے رجوع کیا، اور کہاکہ آئندہ یہ بحث نہیں چھیڑیں گے، لیکن پھر امسال آپ نے یہ بحث چھیڑ دی، کیوں؟ علمی موقف پیش کرنے کا یہ طریقہ تو کبھی نہیں رہا جو آپ نے اختیار کررکھاہے
یہ سب غیر فطری، غير اصولی اور جھگڑے کے پروپیگنڈے ہیں، آپ یہ جو سب سے محاذآرائی کرتے جارہےہیں، شخصیتوں، اداروں اور اجتماعیت سے لڑتے جارہےہیں،آپ اور آپکے خانوادے کو میں اپنا محسن تسلیم کرتاہوں، آپ حضرات کی عزت و محبت کرتاہوں، کیونکہ آپکی دوسال پہلے والی زندگی سے ہم نے اپنی فکرونظر کو معطر کیا ہے آج بھی وہ تعلق قائم ہے، لیکن ضمیر کی آواز کے ساتھ، اور میرا ضمیر یہ کہتاہے کہ آپ غلط کررہےہیں، آپ کی سرگرمیاں امت مرحومہ کے خلاف ہیں، اس کے حق میں تو کسی بھی طرح نہیں ہیں، میں جانتاہوں کہ یہ سب آپ کسی بھي قسم کی ضمیرفروشی یا ایجنٹئی میں نہیں کررہےہیں بلکہ یہ آپ کی عجلت پسندی، بے ضبطی، عدم برداشت، غیر شورائی مزاج، روبوٹی ساتھیوں اور اِصراری مزاج کی کارستانیاں ہیں، جو آج آپکو ایسے مقام پر گھسیٹ لائی ہے، آپ اپنے مزاج سے ہارے ہیں، کسی نے آپ کو ہرایا نہیں ہے، آپ کی ذات، ان سب بکھیڑوں سے بلندتر ہے، خدارا ترجیح الراجح کے اُسوے کو اختیار کرتے ہوئے واپس آجائیں، آغوشِ امت ہی میں سکون ہے_

حالات کتنے ہی شدید ہوجائیں، کیسے ہی خطرناک کیوں نا ہوجائیں، لیکن کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے معاملات کو ایسے اچھالتے پھریں کہ کفر تالیاں بجائے، مولانا سید سلمان حسینی کے سلسلے میں امت کے علمائے کرام، ائمہ مساجد اور تمام ہی افراد سے ہماری گزارش ہے کہ اب انہیں موضوعِ بحث نا بنائیں، نا بننے دیں، اس سے فائدہ بھی ہوگا اور تشخیص بھی، موجودہ وقت میں ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے اپنا وجود بچانا ہی سب سے بڑا مسئله ہے ابھی بابری کا غم دھلا بھی نہیں، ایسےمیں یہ مسائل چھیڑنا اور امت کو اس طرح کے زخم دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ خانہ جنگی پیدا کرنے والی کسی بھی کوشش کی تائید نہیں کی جاسکتی خواہ اس کا خلفیہ کیسا ہی ہو، امت کی عزت شخصیات اور اداروں کی محبت سے بالاتر ہے_

سمیع اللّٰہ خان
۱۵ نومبر، بروزجمعہ: ۲۰۱۹
ksamikhann@gmail.com

اپنی رائے یہاں لکھیں