سیاسی شعور میں بیداری لانے کی ضرورت ہے

✍🏻ابو_دجانہ

بھیونڈی شہر میں مسلمان اکثریت میں ہیں، لیکن سیاسی شعور سے محروم ہیں جِن وجوہات کی بِنا پر شہر میں میئر، ایم ایل اے اور ایم پی بنانے سے قاصر ہیں۔ ہمیشہ مفاد پرست لوگ اور مسلم مخالف پارٹی کے لوگ اِن عہدوں پر براجمان رہتے ہیں، عوام بس افسوس اور غصے میں دانت پیستے رہ جاتی ہے، جبکہ ان کی وجہ خود عوام ہی ہے ۔

ہمیں پہلے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست کوئی بُری چیز نہیں، سیاست میں جاکر حکومتی نظام کو اچھے لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ کر ہی شفاف معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن شرفاء اور باصلاحیت افراد نے چند گندے لوگوں کو دیکھ کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور فاصلے بنائے رکھے جِس بنا پر سیاست جاہلوں کے ہاتھوں میں چلی گئی، لٹیرے، صاحب اقتدار بن گئے، اب ظاہر ہے ایسے لٹیروں قاتلوں کے ہاتھوں میں حکومتی باگ ڈور جائے گی تو نا ہی وہ معاشرے میں امن قائم کرینگے نا ہی معاشرے کی ترقی اور بھلائی کا سوچیں گے ۔

قوم کو اب تک غور و فکر کرنے کی فرصت نہیں ملی کہ سیاستدان کیسا ہونا چاہئے ان کے لیڈر میں کیا صلاحیتیں لازمی طور پر ہونی چاہئے جس سے وہ چھوٹے سے چھوٹے محلے، جماعت یا ملک کا لیڈر کہلایا جا سکے، قوم کو الیکشن ایک روزگار کا دِن نظر آتا ہے جِس میں ایک گھنٹہ لائن لگا کر ایک بٹن دبانے کے دو سو روپے مِلتے ہیں، انہیں اب تک کسی نے نہیں بتایا کہ یہ ایک بٹن دبانا ہی تمہاری طاقت ہے۔ جمہوریت میں عوام کو خود منتخب کرنا ہوتا ہے کہ اس کا قائد کون ہونا چاہئے، اس کا خدمتگار، اس کے علاقے کی، سماج کی، لوگوں کی خدمت کون کرے گا، وہ کِن صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہئے یہ سب دیکھنے، سوچنے اور منتخب کرنے کا ہمیں پورا حق ہوتا ہے لیکن اس سے زیادہ ذلت ورسوائی کی بات کیا ہوگی کہ ہم دو سو روپے میں اپنے ضمیر کا اور پوری قوم کا سودا کرلیتے ہیں.
نتیجے میں منتخب ہونے والے نمائندے جو ظاہر ہے کہ اپنی لاگت نکالنے کی کوشش کریں گے، وہ پوری طرح سے سودے بازی میں مصروف ہو جاتے ہیں، عوام کے ٹیکس سے حکومت اناج خرید کر عوام کو نہایت کم قیمت پر فراہم کرتی ہے جب یہ اناج آرہے ہوتے ہیں تو ان کی کوالیٹی راشن دوکانوں پر آتے آتے تبدیل ہو جاتی ہے، اس میں بھی کسی کو اناج ملتا ہے کسی کو نہیں ملتا، اور جن کو ملتا بھی ہے تو اس کا طے شدہ حق کا نہیں ملتا ہے، اسی طرح عوام کے ٹیکس سے حکومت کم قیمت پر دوائیں فراہم کرتی ہے، اور کئی ساری مختلف اسکیم نکالتی ہے تاکہ غریب لاچار عوام کا فائدہ ہو سکے لیکن یہ اسکیمیں، دوائیں اور سہولیات بہت کم لوگوں کو ملتی ہے اور بہت کم لوگوں کو ان سب کی معلومات ہوتی ہے، لیکن حکومت کے ریکارڈ میں برابر درج ہوتا رہتا ہیکہ دوائیں بھی جا رہی ہیں اسکیموں کا بھی فائدہ اٹھایا جارہا ہے، ظاہر ہیکہ ان ریکارڈز میں اکثر اندراجات جعلی ہونگے۔

اسی طرح صفائی ٹیکس، پانی ٹیکس، روشنی ٹیکس اور ناجانے کتنے ہی ٹیکس ہم زندگی بھر مختلف چیزوں کو خریدنے کے دوران میں ادا تو کردیتے ہیں، لیکن ان کا فائدہ شاید ہی زندگی میں اٹھا پاتے ہیں، ایسے نا جانے کتنے معاملات ہیں جن کا ہم ہم ٹیکس دے رہے ہیں پر کھا رہا کوئی اور ہے اس کے لیے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہوگی۔
یہ سب نا ہی ہمیں کوئی بتاتا ہے نا ہی ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں، جن کی ذمہ داری ہیکہ ہمارے حقوق ہمیں مہیا کرائے وہ دور دور تک نظر نہیں آتے کتنے ہی جگہوں پر ذمہ داران ہی حرام خوری میں ملوث ہیں۔

مزید ستم ظریفی یہ کہ ہمارے نیتاؤں کا جب ان سب سے دِل نہیں بھرتا، جیب میں تب بھی خالی پن محسوس ہوتا ہے تو یہ اپنی ذمہ داری کا احساس کیے بغیر پوری قوم کا سودا کرنے سے بھی نہیں چوکتے، مسلم مخالف پارٹیوں کی گود میں جا بیٹھتے ہیں، ان کے ہرکاروں کو بڑے بڑے پَد دِلاتے ہیں، اور ان مسلم دشمنوں کے لیے گلی گلی ووٹ مانگنے بھی چلے آتے ہیں، ان کو یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ یہ جن کے ہرکارے بنے ہوئے ہیں وہ ظاہر سے میٹھے ہو سکتے ہیں لیکن اندر مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت کا زہر لیے پھر رہے ہیں، یہ زہر اس وقت نظر آتے ہیں جب مسلم مخالف جماعتیں مسلمانوں کے خلاف کوئی بِل پیش کرتی ہیں، مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تب یہی لوگ بڑے بڑے بینرس لگا کر مٹھائیاں بانٹ کر اپنی خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہمارے دلال نیتاؤں کو یہ سب نا کبھی نظر آیا ہے نا کبھی نظر آئے گا کیونکہ انہیں قوم سے کوئی ہمدردی نہیں ہے انہیں بس اپنی جیب بھر کے اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔

لیکن اب وقت بدل رہا ہے قوم مسلم اپنے ساتھ نا انصافیوں کو دیکھ کر بیدار ہو رہی ہے، مسلمانوں کو ڈرانے کے چکر میں بیدار کر دیا گیا ہے۔ بھیونڈی ایم ایل اے کے حالیہ الیکشن، سی اے اے اور این آر سی مخالف احتجاج اس بات کا ثبوت ہیکہ عوام میں بیداری آرہی ہے۔
*اب عوام کو چاہئے کہ اپنے اپنے علاقے میں بیداری مہم شروع کرے، سنجیدہ اور باشعور افراد معاشرے کو بھی باشعور بنانے کی فکر اور عملی اقدام کریں، اور شفاف کردار، باصلاحیت افراد، قوم و ملت کا درد اور انسانیت کے حق میں کام کرنے والے لوگوں کو اپنا نمائندہ، قائد، رہنما بنائیں۔ جن افراد میں یہ صلاحیتیں موجود ہیں انہیں بھی چاہئے کہ وہ خود کو پیش کریں، کسی کا انتظار مت کرو، خود آگے آؤ انفرادی اور اجتماعی طور پر کام شروع کرو۔*

عوام کو اب یہ بات خود سمجھنی اور سیکھنی ہوگی کہ موجودہ قیادت لٹیروں اور وڈیروں سے بھری ہوئی ہے، ان سے جان چھڑانا لازم ہوچکا ہے ورنہ ہماری اگلی نسلیں ان لٹیروں کی غلام ہو جائیگی، اور جتنے ضمیر فروش نیتا اور چمچے جس جس علاقے میں ہیں ان کا بائیکاٹ کرو، ان سے میل جول ختم کرو ان کی سماجی حیثیت جب ختم ہوگی تو خود بخود ان کی نیتاگری بھی ختم ہو جائیگی۔

* عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا*
* سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی*

*_______علامہ اقبال*

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading