نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2003 کے مشہور گِریش قتل کیس میں ملوث منگیتر شُبھا شنکر کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا ہے، تاہم ایک نایاب انسانی قدم اٹھاتے ہوئے اسے ریاستی گورنر کے پاس رحم کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے مجرموں کی سزا کو 8 ہفتے کے لیے معطل کر دیا ہے تاکہ وہ آرٹیکل 161 کے تحت رحم کی درخواست دے سکیں۔
عدالت نے کہا کہ ہم صرف سزا سنا کر اپنی ذمہ داری پوری نہیں سمجھتے، بلکہ اس کیس کے انسانی اور نفسیاتی پہلوؤں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اگر شُبھا کے اہل خانہ اس کی ذہنی کیفیت اور جذباتی کشمکش کو سمجھتے تو شاید یہ افسوسناک واقعہ رونما نہ ہوتا۔ اگرچہ شُبھا بالغ تھی، لیکن اپنے لیے درست فیصلہ کرنے میں وہ ناکام رہی۔ تاہم عدالت نے اس جرم کو معاف کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ایک بے گناہ نوجوان کی جان گئی۔
محبت میں اندھی ہوکر منگیتر کا قتل
شُبھا نے اپنے کالج کے محبوب ارون اور دو دیگر ساتھیوں دنکرن اور وینکٹیش کے ساتھ مل کر اپنے منگیتر گِریش کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک جذباتی بغاوت اور بے قابو رومانویت کا افسوسناک امتزاج تھا، جس نے نہ صرف ایک بے گناہ جان لے لی بلکہ تین دیگر زندگیوں کو بھی تباہ کر دیا۔
اعلیٰ عدالت کی بڑی تبصرہ
جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس اروند کمار کی بنچ نے کہا کہ ایک نوجوان، بلند حوصلہ لڑکی کی آواز، جب خاندانی دباؤ تلے دب جاتی ہے تو اس کے اندر ایک شدید طوفان جنم لیتا ہے۔ عدالت نے اس کیس کو رومانی فریب اور سماجی بغاوت کا نتیجہ قرار دیا۔
جرم کے وقت کچھ ملزمان نابالغ تھے
عدالت نے مزید کہا کہ اس واقعے کو 20 سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ اس دوران مجرم اب درمیانی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے دو افراد اُس وقت نابالغ تھے اور شُبھا بھی بمشکل اس مرحلے کو پار کر پائی تھی۔ ایک اور مجرم، 28 سالہ شادی شدہ مرد ہے، جس کا ایک چھوٹا بچہ بھی ہے۔
سپریم کورٹ کی انسانی ہمدردی پر مبنی رہنمائی
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ مجرموں نے جیل میں اچھا برتاؤ کیا ہے، ان کے خلاف کوئی نیا جرم یا منفی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ وہ فطری مجرم نہیں ہیں بلکہ ایک جذباتی فیصلے اور خطرناک مہم جوئی کے دوران ایک سنگین غلطی کر بیٹھے۔
عدالت نے کہا کہ ہم ان اپیل کنندگان کو گورنر کے سامنے رحم کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تاکہ ان کے معافی کے حق کو آسان بنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئینی اتھارٹی معاملے کی حساسیت اور پس منظر کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔عدالت نے یہ واضح کیا کہ فیصلہ سنائے جانے کے بعد 8 ہفتے تک کسی بھی اپیل کنندہ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا اور ان کی سزا معطل رہے گی، تاوقتیکہ رحم کی درخواست پر مناسب غور اور فیصلہ نہ ہو جائے۔